امریکہ کی افغان طالبان سے بات چیت کی خواہش کیوں؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption جنوبی اور وسطی ایشیائی امور کے بیورو کی پرنسپل ڈپٹی اسسٹنٹ سیکریٹری ایلس جی ویلز

وسطی اور جنوبی ایشیا کے لیے امریکی سفیر ایلس جی ویلز نے کہا ہے کہ پاکستان نوٹس پر ہے اور وہ اس سے واضع تعاون چاہتے ہیں جس میں طالبان کی محفوظ پناہ گاہوں کو ختم کرنا شامل ہے۔

امریکی خارجہ امور کی کمیٹی میں بیان دیتے ہوئے امریکی سفیر نے کہا کہ امریکہ طالبان کی پاکستان میں دہائیوں سے قائم محفوظ پناہ گاہوں کے خاتمے کے حوالے سے کام کر رہا ہے۔

جنوبی اور وسطی ایشیائی امور کے بیورو کی پرنسپل ڈپٹی اسسٹنٹ سیکریٹری ایلس جی ویلز نے اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہا کہ وہ طالبان کے اندر جنگجو عناصر کو تشدد سے باز رکھنے کے لیے ان کی حوصلہ افزائی کی کوشش کر رہا ہے تاکہ وہ تشدد کم کر کے معاملات کو مقامی سطح پر حل کرنے پر غور کریں۔

افغان حکومت اور طالبان کے درمیان عید الفطر کے موقع پر جنگ بندی اور ممکنہ بات چیت کے بارے میں بات کرتے ہوئے ایلس جی ویلز نے کہا کہ ’امریکہ یہ واضح کر چکا ہے کہ ہم افغان حکومت اور طالبان کے درمیان برہ راست بات چیت کی حمایت، اس میں شامل ہونے اور اس میں مدد دینے کے لیے تیار ہیں‘۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

کابل کی سڑکوں پر طالبان: ’ہم پاکستان کے لیے نہیں لڑ رہے‘

’ملا اشرف غنی زندہ باد‘

جنگ بندی: افغان حکام اور طالبان کے درمیان خفیہ ملاقاتیں

ایلس جی ویلز نے کہا کہ ہم افغان حکومت اور تمام فریقین کی حمایت کریں گے تاکہ وہ بات چیت کے ذریعے باہمی معاہدے پر پہنچ سکیں جس سے تنازعے کا خاتمہ ہو اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ افغانستان دوبارہ کبھی دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہ نہ بنے۔

امریکی سفیر نے حالیہ تین روزہ جنگ بندی کے بارے میں مزید بات کرتے ہوئے کہا کہ ’تقریباً 16 برس سے زیادہ کی جنگ کے بعد ہم نے رواں برس امن بات چیت کے حوالے سے منفرد حقیقی موقع دیکھا جس کے نتیجے میں اس تنازع کا پائیدار حل نکل سکتا ہے اور اس طرح کے معاہدے کے نتیجے میں امریکہ کے ضروری مفادات کو محفوظ بنایا جا سکتا ہے اور بلآخر افغانستان میں ہماری طویل مدتی مصروفیات سے منسلک اخراجات کو کم کیا جا سکے گا‘۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پاکستان کی جانب سے افغان طالبان کی محفوظ پناہ گاہوں کی متعدد بار سختی سے تردید کی جا چکی ہے

امریکی خصوصی سفیر نے طالبان پر زور دیا کہ وہ لازمی تشدد کو ترک کریں، القاعدہ سے تعلقات ختم کریں اور افغانستان کے آئین کو تسلیم کریں جس میں خواتین اور اقلیتوں کا تحفظ شامل ہے۔

امریکہ کی خصوصی سفیر نے کہا کہ افغانستان میں تنازع کے خاتمے کے لیے چار نکات پر توجہ مرکوز کرنا چاہتے ہیں۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

مغربی افغانستان میں طالبان کا فراہ پر مربوط حملہ

’طالبان افغانستان کے 70 فیصد علاقے کے لیے خطرہ‘

شاہد خاقان عباسی کابل کیا کرنے گئے ہیں؟

1: افغان حکومت کی تشدد میں کمی کے حوالے سے کوشش کی حمایت کرنا اور امن بات چیت کو نقصان پہنچانے والوں سے تحفظ فراہم کرنا۔

2: دوسرا ہم افغان سیاسی منظر نامے میں شامل سب کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں کہ وہ امن کی حمایت کریں اور آئندہ پارلیمانی اور صدارتی انتخابات میں ملکی مفادات کو اولین رکھیں۔

3: عسکریت پسندی کی حمایت کی بیخ کنی کے لیے افغان حکومت کی اصلاحات کی حمایت کرنا۔

4: ہم افغانستان کے تمام ہمسایہ اور قریبی ہمسایہ ممالک سے بات چیت کر رہے ہیں تاکہ افغان حکومت کے امن کے تصور کے لیے علاقائی حمایت حاصل کی جا سکے اور اس کو نقصان پہنچانے والوں کی حوصلہ شکنی کی جا سکے۔

امریکہ کا افغانستان میں قیام امن کا خواب کتنا حقیقی؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

امریکی سفیر ایلس جی ویلز کے بیان پر بات کرتے ہوئے افغان امور کے تجزیہ کار طاہر خان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ افغان طالبان کی جانب سے حالیہ تین روزہ جنگ بندی کے بعد بھی امن بات چیت کے بارے میں کوئی زیادہ پیش رفت دیکھنے میں نہیں آئے گی۔

انھوں نے کہا کہ ’اگرچہ حالیہ جنگ بندی کے دوران جس طرح سے عام عوام نے طالبان جنگجوؤں کا شہروں میں استقبال اور خیرمقدم کیا ہے اس سے ان پر اخلاقی دباؤ بڑھا ہوگا لیکن امن بات چیت شروع کرنے کا معاملہ بہت پیچیدہ ہے کیونکہ اگر حالیہ جنگ بندی کی بات کی جائے تو اس پر بھی طالبان قیادت کے اندر سے اختلافات کی خبریں سامنے آئی ہیں کیونکہ وہ افغان حکومت کو سرے سے اس معاملے میں فریق سمجھتے ہی نہیں ہیں اور اگر ایسا کرتے ہیں تو ان کے لیے اپنے لوگوں کو مطمئن کرنا کافی مشکل ہو گا کیونکہ یہ سابق سربراہ ملا عمر اور ملا منصور اختر کی سوچ کے بالکل متضاد ہو گا۔‘

اس بارے میں مزید پڑھیے

پاکستان کی بعض شکایت جائز ہیں: امریکہ

افغان حکومت کا طالبان کو سیاسی جماعت تسلیم کرنے کا اعلان

’چاہے سو سال گزر جائیں افغان بدلہ ضرور لیں گے‘

طاہر خان نے کہا کہ افغان طالبان حکومت کے ساتھ اس وقت بات چیت کرنے پر تیار نہیں لیکن وہ امریکہ کے ساتھ مشروط بات چیت کے لیے تیار ہو سکتے ہیں اور اس کے لیے وہ امریکہ سے چاہتے ہیں کہ انھیں پہلے یہ بتایا جائے کہ کیا امریکہ افغانستان سے جانا چاہتا ہے اور کب جانا چاہتا ہے۔

حالیہ دنوں میں طالبان کے بارے میں امریکی رویے میں دکھائی جانے والی نرمی کے بارے میں سوال کے جواب میں طاہر خان نے کہا کہ امریکہ کے اندر بھی افغانستان میں جاری جنگ کے حوالے سے دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے کہ وہاں پر کیا ہو رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Muqadasa Ahmadzai
Image caption سوشل میڈیا پر عیدالفطر پر سیزفائر کی حمایت میں ہزاروں تصاویر، ٹویٹس اور فیس بوک پوسٹس کی گئیں

اسی بارے میں تین ماہ پہلے امریکہ کی افغانستان میں موجودگی پر سوالات اٹھانے والے ایک امریکی سینیٹر کو طالبان نے قطر میں قائم اپنے دفتر س دعوت بھی دی تھی۔ اس کے علاوہ امریکہ کے جنگ پر ہونے والے اخراجات ایک طرف تو رواں برس اکتوبر میں یہ جنگ 18ویں برس میں داخل ہو جائے گی لیکن اب طالبان پشتون علاقوں سے نکل کر دیگر علاقوں تک پھیل گئے ہیں۔

طاہر خان نے کے مطابق ’افغانستان میں طالبان کا اثر و رسوخ کم ہونے کی بجائے بڑھا ہے جبکہ روس، چین، ایران، پاکستان سمیت خطے کے تمام ممالک سیاسی حل پر زور دے رہے ہیں اور ان تمام معاملات کی وجہ سے امریکہ پر بات چیت کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے۔‘

طالبان کی پاکستان میں محفوظ پناہ گاہیں کتنی حقیقت؟

اس پر طاہر خان نے کہا کہ امریکہ پہلے بھی متعدد بار اس نوعیت کے الزامات عائد کر چکا ہے اور ان کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کیونکہ کچھ عرصہ پہلے سابق مشیر خارجہ سرتاج عزیز خود کہہ چکے ہیں کہ افغان طالبان کے خاندان پاکستان میں موجود ہیں۔

’حالیہ بیان سے انکار تو نہیں کیا جا سکتا لیکن اس کے ساتھ یہ کہنا درست نہیں ہے کہ ان کے پاکستان میں محفوظ ٹھکانے موجود ہیں۔ پاکستان کہتا آیا ہے کہ ملک میں موجود اگر افغان مہاجرین کا معاملہ حل کر لیا جائے تو یہ مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔ دوسرا دونوں ممالک کے درمیان 2600 کلومیٹر طویل سرحد کی وجہ سے لوگوں کی نقل و حرکت ہوتی ہے جس کو پوری طرح سے روکنا بھی ممکن نہیں ہو سکتا۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں