ورلڈ کپ 2018: آخر کار ایرانی خواتین کو فٹبال سٹیڈیم جانے کی اجازت مل گئی

Women posted selfies from inside the Azadi stadium on Wednesday as they watched Iran play Spain in the 2018 World Cup تصویر کے کاپی رائٹ Samimi Sadaf
Image caption سوشل میڈیا پر خواتین کی سٹیڈیم میں لی جانے والی سیلفیاں دکھائی دے رہی ہیں

بدھ کو ایران کے فٹ بال سٹیڈیمز میں قہقہوں، نعروں اور ہارن کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں لیکن اس بار فرق یہ تھا کہ ان آوازوں میں مرد ہی نہیں بلکہ خواتین کی آوازیں بھی شامل تھیں جنھیں پہلی بار کھیل کے میدان میں جانے کی اجازت ملی اور ان کا دیرینہ خواب پورا ہوا۔

اس سے قبل 1979 میں خواتین کو آخری مرتبہ سٹیڈیم میں بیٹھ کر فٹ بال میچ دیکھنے کی اجازت دی گئی تھی۔

بدھ کو 39 سال بعد ایک بار پھر خواتین کو یہ اجازت دی گئی اور وہ تہران میں واقع آزادی سٹیڈیم میں جاکر سپین اور ایران کے درمیان میچ کو سکرینز پر دیکھنے کے لیے اکھٹی ہوئیں۔

اب پیر کو پرتگال کے ساتھ ہونے والا میچ بھی سکرینز پر دیکھنے کا موقع مل سکے گا۔

یہ بھی پڑھیے

ایرانی لڑکیوں کو مردوں کا حلیہ کیوں اپنانا پڑا؟

مزاحمت کی علامت بن جانے والی خاتون

زنان نامدار: تہران میں خواتین کو خراج تحسین

سوشل میڈیا پر خواتین کی سٹیڈیم میں لی جانے والی سیلفیاں دکھائی دے رہی ہیں۔ اسی طرح ایران کی فٹ بال ٹیم نے بھی ایک فوٹو ٹویٹ کی ہے جس میں سٹیڈیم میں کھڑی ایک خاتون نے جھنڈا اٹھا رکھا ہے۔

اس سے پہلے بھی گذشتہ مہینے پانچ ایرانی خواتین اسی سٹیڈیم میں دکھائی دی تھیں لیکن انھوں نے اپنی شناخت چھپانے کے لیے نقلی داڑھی، مونچھوں اور وِگ کا سہارا لیا تھا۔

مارچ میں جب ایسی ہی ایک کوشش کی گئی تھی تو 35 خواتین کو حراست میں لے لیا گیا تھا۔

اگرچہ سرکاری سطح پر عورتوں کے کھیل کے میدان میں جانے پر کوئی پابندی نہیں ہے اور یہ قدامت پسندوں کی طرف سے لگائی گئی تھی اور وہ اب بھی اسے ختم کرنے کے خلاف ہیں۔ ماضی میں عموماً ملکی پولیس بھی خواتین کو سٹیڈیم میں جانے کی اجازت نہیں دیتی تھی۔

ایران تصویر کے کاپی رائٹ Anadolu Agency

جب بدھ کی صبح یہ اعلان ہوا کہ خواتین اور فیملیز سپین اور ایران کے درمیان کھیلا جانے والا میچ سٹیڈیم میں جا کر سکرین پر دیکھ سکتی ہیں تو بہت سی خواتین ٹکٹ لے کر قطاروں میں کھڑی ہوئیں لیکن سکیورٹی فورسز کے اہلکار انھیں اندر جانے سے منع کر رہے تھے اور انھیں یہ کہا گیا کہ انفراسٹرکچر کے مسائل کی وجہ سے اب منصوبہ منسوخ ہو گیا ہے۔

ایران تصویر کے کاپی رائٹ Anadolu Agency
ایران تصویر کے کاپی رائٹ Anadolu Agency
ایران تصویر کے کاپی رائٹ AFP

اس صورتحال پر شائقین نے احتجاج شروع کر دیا اور کچھ نے دھرنا دے دیا اور کہا کہ ’ہم یہاں سے نہیں جائیں گے ہمیں سٹیڈیم میں داخلے کی اجازت دیں‘۔

اس احتجاج کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر بھی دکھائی دیں اور Azadi_cancellation # ہیش ٹیگ ٹرینڈ کرنے لگا۔

ایک گھنٹے کے اندر سامنے آنے والی پوسٹس کی تعداد 2000 تھی۔

پھر ایک گھنٹے بعد وزیر داخلہ کی خصوصی ہدایات ملنے پر شائقین کو اندر جانے کی اجازت ملی۔

کئئ خواتین نے زندگی میں پہلی مرتبہ وہاں سٹیڈیم میں داخلے کی اجازت ملنے پر اپنی خوشی کا اظہار سوشل میڈیا پر بھی کیا۔

اصلاح پسند پارلیمانی رکن طیبہ سیاوشی نے اپنی تصویر پوسٹ کی اور لکھا کہ عورتوں اور مردوں کو اکھٹے خوش ہونے کی اجازت دی جانی چاہیے۔

یہ یادگار لمحات سپین کی ٹیم کے کپتان راموس کی نگاہ سے بھی گزرے۔ اگرچہ ان کی ٹیم کامیاب ہوئی تھی تاہم انھوں نے اپنی جیت کو ایرانی خواتین کے نام کیا۔

ورلڈ کپ کو براہ راست دیکھنے کے لیے روس جانے والی ایرانی خواتین نے بھی اس موقع پر خوشی کا اظہار کیا۔

اگرچہ ورلڈ کپ کے آنے والے میچوں کو بھی ایران کے فٹ بال سٹیڈیمز میں نصب سکرینز پر دیکھنے کی اجازت دی جائے گی تاہم بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ ایران کی فٹبال لیگ کو دیکھنے کے لیے شاید ہی یہ اجازت مل سکے۔

ایران تصویر کے کاپی رائٹ Anadolu Agency

۔

اسی بارے میں