افغانستان: بم دھماکے میں سکھ برادری نشانے پر، 19 ہلاک

Afghan police inspect the site of a blast in Jalalabad, Afghanistan, July 1, 2018

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشن

ہلاک شدگان میں وہ سکھ شخص بھی شامل تھا جو کہ ملک میں آئندہ اکتوبر میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں واحد سکھ امیدوار بننے والا تھا۔

مشرقی افغانستان کے شہر جلال آباد میں ایک خودکش حملے میں 19 افراد ہلاک ہوگئے ہیں جن میں سے زیادہ تعداد سکھوں کی ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ اتوار کو اس وقت پیش آیا جب یہ لوگ صدر اشرف غنی سے ملاقات کے لیے جا رہے تھے۔

ہلاک شدگان میں وہ سکھ شخص بھی شامل تھا جو کہ ملک میں آئندہ اکتوبر میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں واحد سکھ امیدوار بننے والا تھا۔ یاد رہے کہ افغانستان میں سکھ برادری ایک اقلیت ہے۔

دہشتگرد تنظیم دولتِ اسلامیہ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

حملے سے چند گھنٹے قبل ہی صدر اشرف غنی نے جلال آباد کے ہسپتال کا دورہ کیا تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ جس وقت حملہ ہوا اس وقت صدر غنی اس علاقے میں موجود نہیں تھے۔

یہ بھی پڑھیے

افغانستان میں انڈین سفارتخانے نے اس حملے کی مذمت کی ہے۔ سفارتخانے نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ آئندہ انتخابات میں کھڑے ہونے والے واحد سکھ امیدوار اتوار سنگھ خالصہ کی ہلاکت ہو چکی ہے۔ سفارتخانے کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’یہ حملے بین الاقوامی دہشتگردی کے خلاف متحدہ عالمی جنگ کی ضرورت کی تائید کرتا ہے۔‘

ننگرہار کے شعبہِ صحت کے ڈائریکٹر نجیب اللہ کماوال نے اے ایف پی کو بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں 17 سکھ اور ہندو افراد تھے اور اس کے علاوہ 20 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشن

حملے سے چند گھنٹے قبل ہی صدر اشرف غنی نے جلال آباد کے ہسپتال کا دورہ کیا تھا۔

صوبے کے گورنر کے ترجمان کا کہنا تھا کہ حملہ آور نے گاڑی کو اس وقت نشانہ بنایا جب وہ مکھابرات سکوئر سے گزر رہی تھی اور دھماکے کی وجہ سے آس پاس کی دکانوں اور عمارتوں کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔