’جب دلیل ہے تو چوڑیاں پیش کرنے کی کیا ضرورت‘

خواتین کی طرف سے چوڑیاں زیادہ تر مردوں کو اس وقت پیش کی جاتی ہیں جب وہ انکو شرم دلانا چاہتی ہوں۔
Image caption خواتین کی طرف سے چوڑیاں زیادہ تر مردوں کو اس وقت پیش کی جاتی ہیں جب وہ انکو شرم دلانا چاہتی ہوں۔

پاکستان تحریک انصاف کی خیبر پختونخوا سے مخصوص نشستوں پر سابق رکن صوبائی اسمبلی زرین ضیا نے ہفتے کو اپنی پارٹی کی دیگر خواتین ارکان کے ہمراہ پشاور پریس کلب میں پارٹی کے مقامی رہنما علی امین گنڈاپور پر ٹکٹوں کی غیر منصفانہ تقسیم کا الزام لگاتے ہوئے ان کے خلاف پریس کانفرنس کی۔

پریس کانفرنس میں دیگر الزامات لگانے کے ساتھ ساتھ خواتین نے علی امین کو شرم دلانے کے لیے چوڑیاں اور پراندے پیش کیے اور شرکا سے کہا کہ جہاں علی امین انھیں ملے وہ ان کو یہی چوڑیاں پیش کریں۔

بی بی سی اردو کی خصوصی الیکشن کوریج

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے زرین ضیا نے بتایا کہ علی امین نے جنوبی خیبر پختونخوا سے ایک خاتون کو بھی منتخب نہیں کیا۔

ان سے جب پوچھا گیا کہ چوڑیاں اور پراندے دکھانے کا کیا مقصد تھا، تو اس کے جواب میں انھوں نے بتایا کہ چونکہ انھوں نے خواتین کے ساتھ ٹکٹوں کی تقسیم میں غیر مںصفانہ رویہ اختیار کیا ہے اس لیے پارٹی خواتین ان کو پہنانے کے لیے چوڑیاں اور پراندے لائی تھیں۔

پاکستانی معاشرے میں یہ واقعات ہوتے رہتے ہیں۔ خواتین کی طرف سے چوڑیاں زیادہ تر مردوں کو اس وقت پیش کی جاتی ہیں جب وہ انھیں شرم دلانا چاہتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

الیکشن 2018: ’ایک عورت ہو کر کیسے سیاست کر لی‘

’پہلے خواتین نے ووٹ ڈالا اب ایک قدم آگے جانا چاہتی ہوں‘

یہ ’فیمنسٹ‘ اصل میں کیسی ہوتی ہیں؟

اپریل 2016 میں سندھ اسمبلی میں بھی ایسا ہی ہوا تھا جس میں سابق ایم پی اے خرم شیر اور ڈاکٹر سمینہ نے سندھ اسمبلی کے داخلی دروازے کی طرف بطور احتجاج چوڑیاں پھینک دی تھی کیونکہ وہ اسمبلی کو شرم دلا رہی تھیں کہ وہ لوڈشیڈنگ پر قابو کرنے میں ناکام رہی ہے۔

اس کے علاوہ ہمارے معاشرے میں مرد اگر کسی کام میں کمزوری کا مظاہرہ کریں یا اس کو شرم دلانا مقصود ہو تو اس کو مختلف قسم کی باتیں جیسا کہ 'جاؤ چوڑیاں پہنو' یا، مرد اپنی بہادری کو دکھانے کے لیے کہتے ہیں، 'میں نے کوئی چوڑیاں نہیں پہنی ہوئیں‘۔

Image caption پشاور یونیورسٹی کے شعبہ پولیٹیکل سائنس کی استاد ڈاکٹر نورینہ نصیر سمجھتی ہیں کہ ایسی خواتین جو چوڑیوں کو بطور شرم دلانے اور کمزوری کا طعنہ دینے کے لیے ایسا صنفی تعصب پرست رویہ استعمال کرتی ہیں وہ خود کو کمزور ثابت کرتی ہیں

خواتین کے حقوق پر کام کرنے والے کارکن سمجھتے ہیں کہ چوڑیوں کو بطور کمزوری اور غلامی کی نشانی کے طور پر استعمال کرنے کی لمبی تاریخ ہے۔

شبینہ ایاز پشاور میں خواتین کے حقوق پر کام کرنی والی غیر سرکاری تنظیم 'عورت فاونڈیشن' کی سربراہ ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ صدیوں پہلے چوڑیوں کو غلامی کی نشانی سمجھا جاتا تھا اور اس کی آج کل مثال ہتھکڑیاں ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ سوچ وہی پرانی ہے کہ چوڑیوں کو کمزور ہی پہنیں گے اور خواتین چونکہ مردوں سے کمزور ہیں اس لیے عمومی طور ان کا پہننا خواتین تک ابھی بھی محدود ہے۔

'کچھ مردوں نے ابھی اس کو پہننا شروع کردیا ہے لیکن سوچ ابھی تک نہیں بدلی ہے کیونکہ ابھی تک اس کو نازک اور کمزور، شرم کے ساتھ جوڑا جاتا ہے۔'

گلٹی بینگلز نامی ایک ویب سائٹ پر 'غلامی کی چوڑیاں' نامی ایک آرٹیکل میں لکھا گیا ہے کہ جدید دور میں جو چوڑیاں استعمال کی جاتی ہیں اس میں زیادہ مقبول 'سلیو بینگلز' ہیں۔

اس کی تاریخ کے بارے میں لکھا ہے کہ یہ نام تب 'سلیو بنگل' پڑا جب افریقہ میں اسی قسم کی چوڑیوں کو بطور کرنسی استعمال کیا جاتا تھا اور یورپ کے لوگ افریقہ میں غلاموں کو چوڑیوں کے حساب سے خریدا کرتے تھے۔

شبینہ آیاز کہتی ہیں کہ اسی تاریخ کو آج کل فلموں میں دکھایا جاتا ہے۔ 'جب خواتین کی طرف سے شرم دلانے کے لیے اس قسم کی چوڑیاں دکھائی جاتی ہیں تو اس کا مطلب ظاہر ہے یہ ہے کہ عورتوں کی سوچ کو بدلنا ہو گا۔ ان کو یہ باور کرانا ہو گا کہ وہ خود بھی کمزور نہیں اور نہ ان کے استعمال میں چیزیں جیسا زیورات بھی کمزوری کی نشانی ہیں۔'

پشاور یونیورسٹی کے شعبہ پولیٹیکل سائنس کی استاد ڈاکٹر نورینہ نصیر سمجھتی ہیں کہ ایسی خواتین جو چوڑیوں کو بطور شرم دلانے اور کمزوری کا طعنہ دینے کیلیے ایسا صنفی تعصب پرست رویہ استعمال کرتی ہیں وہ خود کو کمزور ثابت کرتی ہیں۔

وہ کہتی ہے کہ ہمیشہ کوئی بھی مسئلہ ہو اس میں دلیل پر بات کی جائے تو تبھی اس شخص کی بات معنی رکھتی ہے۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ایسی خواتین کو جو خود باہر جا کر مردوں کے شانہ بشانہ سیاست میں حصہ لیتی ہیں ان چیزوں کو زیادہ سیریس لینا چاہیے کیونکہ باقی خوتین ان کو دیکھتی ہیں۔

'ایسا ان معاشروں میں ہوتا ہے جہاں پدرانہ نظام اس حد تک لوگوں کے ذہنوں میں سرایت کر چکا ہوتا ہے جہاں خواتین خود بھی اپنے آپ کو کمزور سمجھنا شروع کر دیتی ہیں اور ایسا سوچتی بھی نہیں کہ وہ کبھی مردوں کے برابر بھی ہو سکتی ہیں۔'

اسی بارے میں