دہلی میں 11 پھانسیاں قتل ہیں یا پھر کسی روحانی عمل کا نتیجہ؟

دہلی تصویر کے کاپی رائٹ AFP

شمال دہلی کے علاقے بُراری میں سنت نگر کی گلی نمبر 4A میں ایک تین منزلہ مکان ہے جس میں اب ایک پالتو کتا ہی باقی بچا ہے.

اتوار کی صبح یہاں کے رہائشی تمام 11 افراد پراسرار حالات میں مردہ پائے گئے۔ ان کے چہروں کو کپڑے سے ڈھانپا گیا تھا اور کچھ کو باندھا بھی گیا تھا۔

دہلی: مکان سے ایک ہی خاندان کے 11 افراد کی لاشیں برآمد

بھاٹیا خاندان کے اس گھر میں 10 افراد کو پھندا لگا کر پھانسی دی گئی جبکہ سب سے معمر خاتون کی موت فرش پر ہوئی۔

مرنے والوں میں سات خواتین اور چار مرد ہیں جن میں سے تین نابالغ ہیں۔ اس خاندان کا تعلق راجستھان سے تھا لیکن 20 سال سے زیادہ عرصے سے وہ یہاں مقیم تھے۔

75 سالہ نارائن، ان کے دو بیٹے بھوپن (46) اور للت (42)، ان دونوں کی بیویاں سویتا (42) اور ٹینا (38) بھی پھندے سے لٹکے پائے گئے۔ بپن کی دو بیٹیاں اور ایک بیٹا اور للت کا 12 سالہ بیٹا بھی مردہ ملا ہے۔

ان کے علاوہ نارائن کی بیوہ بیٹی اور اس کی 30 سالہ بیٹی پرینکا کی لاشیں بھی ملی ہیں۔ پرینکا کی 17 جون کو ہی منگنی ہوئی تھی اور جلد ہی شادی ہونے والی تھی۔

سنٹرل رینج کے پولیس کمشنر راجیش کھرانا نے کہا ہے کہ ابتدائی تحقیقات سے کچھ بھی واضح نہیں ہو سکا۔ انھوں نے کہا کہ اس معاملے میں تحقیقات جاری ہیں لیکن یہ قتل ہے یا خودکشی اس پر ابھی کچھ بھی نہیں کہا جا سکتا۔

یہ واقعہ کیسے ہوا؟

اس گھر کی نچلی منزل پر دو دکانیں ہیں اور لاشوں کا پتہ انھیں دکانوں کے ایک گاہک کی وجہ سے چلا۔

نارائن کے پڑوسی گرچرن سنگھ لاشوں کی نشاندہی کرنے والے پہلے فرد تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کی اہلیہ روزانہ صبح دودھ لینے بھاٹیا خاندان کی دکان پر جاتی تھیں لیکن اتوار کو ان کی دکان صبح سات بجے تک نہیں کھلی تو ان کی بیوی نے انھیں جا کر دیکھنے کو کہا۔

گرچرن کہتے ہیں، ’میں گیا تو سارے دروازے کھلے تھے اور تمام لوگوں کی لاشیں روشندان سے لٹکی ہوئی تھیں۔ ان کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے. اتنے لوگوں کو لٹکا دیکھ کر میں دہل گیا. گھر آکر میں نے بیوی کو بتایا تو وہ دیکھنے جانے لگیں. میں نے بیوی کو وہاں جانے سے روک دیا۔‘

اس کے بعد گرچر نے پڑوس میں رہنے والے ایک پولیس اہلکار کو بلایا اور اس نے صبح 7.30 بجے پی سی آر کو فون کیا۔

گرچرن بتاتے ہیں کہ یہ خاندان اتنا اچھا تھا کہ وہ محلے والوں کو ادھار پر سامان دیا کرتے تھے۔

بھاٹیا خاندان کے بھتیجے نویت بترا کہتے ہیں کہ یہ خاندان بہت اچھا تھا۔ یہ عبادت میں مصروف رہتے تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ پورے خاندان شام کو پوجا کرتا تھا۔

بترا کا کہنا ہے کہ نارائن کی ایک شادی شدہ بیٹی پانی پت میں رہتی ہیں اور ایک اور بڑا بیٹا راجستھان میں قیام پذیر ہے۔

Image caption ان لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے لے جایا جا رہا ہے

خاندان بہت مذہبی تھا

براری کا علاقہ دہلی کی بڑھتی ہوئی آبادی کے نتیجے میں وجود میں آیا اور یہاں یوپی، بہار اور اتراکھنڈ سے آنے والے لوگ آباد ہوئے۔

مسابقتی امتحانات کی تیاری کرنے والے نوجوان بھی یہاں رہتے ہیں۔ یہ خاندان ایک لائبریری بھی چلاتا تھا۔

بھاٹیا خاندان کے ایک اور پڑوسی ٹی پی. شرما کا کہنا ہے کہ اس خاندان نے کی کسی سے کوئی دشمنی نہیں تھی۔

شرما نے کہا، ’یہ خاندان بہت اچھا تھا۔ ہم نے کبھی بھی کسی کو ان کے خلاف نہیں دیکھا۔ گھر میں بھی سب اچھی طرح سے تھا۔ کوئی خاندانی تنازع بھی نہیں تھا۔‘

محمد یونس جو سڑک پار رہتے ہیں، کہتے ہیں کہ ان کی پوتیاں اس گھر میں بھوپن کی بیٹیوں سے ٹیوشن پڑھتی تھیں۔

یونس کا کہنا ہے کہ، ’میں اپنی پوتیوں کو اس گھر میں چھوڑنے جاتا تھا اور ہمیشہ یہاں میرا احترام کیا جاتا تھا۔ مجھے اس گھر میں کبھی کوئی مسئلہ نہیں لگا۔‘

اس خاندان کے مذہبی ہونے کی خبریں بھی گرم ہیں۔ پولیس نے ایک بیان میں کہا کہ انھوں نے گھر سے ایک دستی نوٹ برآمد کیا ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ خاندان کسی پراسرار روحانی عمل کی مشق کر رہا تھا۔

Image caption ہمسائے گرچرن سنگھ نے اتوار کی صبح یہ لاشیں دیکھیں جب وہ دودھ خریدنے جا رہے تھے

شمالی دہلی کے ایڈیشنل ایس پی وینیت کمار نے کہا کہ نوٹ میں موت کے جن طریقوں کا ذکر ہے ان کی موت اسی انداز پر ہوئی ہے اور منہ اور آنکھوں کے باندھنے کے طریقے بھی نوٹ کے مطابق تھے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ مرنے والوں کے گھر سے دو رجسٹر بھی برآمد کیے گئے ہیں جن میں 'موکش' یعنی جسمانی اور روحانی نجات حاصل کرنے کے طریقے درج ہیں۔

علاقے کے ایک پادری مولچند شرما کا کہنا ہے کہ وہ اس خاندان کے قریب تھے اور یہ ایک مذہبی اور خوشحال خاندان تھا۔

وہ کہتے ہیں، ’رات ہی مجھے بھوپن ملا تھا۔ میں نے انھیں پلائی کے سامان کے بارے میں بتایا تھا اور اس نے مجھے آج صبح سامان دینے کا وعدہ کیا تھا۔‘

خودکشی یا قتل؟

ایک پڑوسی کا کہنا تھا کہ یہ خاندان کسی بھی مذہبی کام میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتا تھا۔

وہ کہتے ہیں، ’یہ خاندان اپنی دکان کے باہر روزانہ ایک کاغذ پر ایک اچھا خیال لکھ کر لٹکاتا تھا۔ اس طرح کے اچھے خیالات والے کس طرح خودکشی کر سکتے ہیں؟‘

ان کا کہنا ہے کہ یہ خاندان خوشحال تھا اور ان کے بچے تعلیم یافتہ تھے، لہٰذا اس واقعے پر سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اس خاندان کے بچے محلے کے بڑے بوڑھوں کا احترام کیرتے تھے۔

پولیس نے ابھی تک اس واقعے کے بارے میں حتمی رائے نہیں دی ہے اور کہا ہے کہ واضح طور پر قتل کے امکانات کو بھی رد نہیں کیا جا سکتا اور حتمی رائے پوسٹ مارٹم کے بعد ہی سامنے آئے گی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں