انڈیا: ہجوم کے ہاتھوں قتل روکنے کی ذمہ داری کس کی؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

انڈین حکومت نے کئی مہلک بلووں کے بعد وٹس ایپ سے کہا ہے کہ وہ 'غیرذمہ دارانہ اور اشتعال انگیز پیغامات' پھیلانے سے روکنے کے لیے فوری اقدامات کرے۔ لیکن کیا اس سے کوئی فرق پڑے گا؟ بی بی سی کی عائشہ پریرا نے اس سوال کا جواب ڈھونڈنے کی کوشش کی ہے۔

کیسے پیغامات بھیجے جا رہے ہیں؟

انڈیا میں حالیہ مہینوں میں یکے بعد دیگرے ہجوم کے ہاتھوں لوگوں کی ہلاکتوں کے کئی واقعات پیش آئے ہیں جن میں کم از کم 17 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

ایسے زیادہ تر واقعات میں وٹس ایپ پر بچوں کے اغوا کی افواہیں چھوڑی جاتی ہیں جو جنگل کی آگ کی طرح پھیل جاتی ہیں اور لوگ اپنے علاقے میں موجود کسی بھی اجنبی پر حملہ آور ہو جاتے ہیں۔

اسی بارے میں

انڈیا: ’افواہیں روکنے کے لیے‘ انٹرنیٹ بند کر دیا گیا

اجتماعی تشدد: سپریم کورٹ کو یاد کیوں دلوانا پڑا؟

پولیس کا کہنا ہے کہ اسے لوگوں کو سمجھانے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں کہ یہ افواہیں جھوٹی ہیں اور ان پر یقین نہ کریں۔

اس طرح کے ایک حالیہ واقعے میں تریپورا ریاست میں ایک سرکاری ملازم کو بھیجا گیا کہ وہ لوگوں کو لاؤڈ سپیکر پر افواہوں پر کان نہ دھرنے کی تلقین کرے۔ لوگوں نے اسے ہی پیٹ کر مار ڈالا۔

انڈین حکومت کا کہنا ہے کہ ویٹس ایپ کے صارفین جو مواد ایک دوسرے کو بھیجتے ہیں اس کی ذمہ داری وٹس ایپ پر بھی عائد ہوتی ہے۔

صورتِ حال قابو سے باہر

حملوں کی تعداد اور شدت میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔

انڈین ٹیلی کام کمیشن کا کہنا ہے کہ ملک میں ایک ارب سے زائد فعال موبائل فون کنیکشن ہیں اور کروڑوں لوگ دیکھتے ہی دیکھتے آن لائن آ گئے ہیں۔

ان میں سے بیشتر افراد کے لیے انٹرنیٹ تک رسائی کا پہلا ذریعہ موبائل فون ہی ہے۔

فوری اعتبار

حقائق پر نظر رکھنے والی ویب سائٹ آلٹ نیوز کے بانی پرتیک سنہا نے بی بی سی کو بتایا: 'اچانک دیہی علاقوں کے باسیوں کو معلومات کے سیلاب کا سامنا ہے اور انھیں درست اور غلط کو پرکھنے میں مشکل پیش آ رہی ہے۔ وہ ہر چیز پر یقین کر لیتے ہیں۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption تریپورا میں افواہ کے بعد تباہ کی جانے والی ایک گاڑی

انڈیا وٹس ایپ کی بھی سب سے بڑی مارکیٹ ہے اور وہاں 20 کروڑ سے زائد لوگ اسے استعمال کرتے ہیں۔ یہ ملک کی انٹرنیٹ سے منسلک سب سے بڑی سروس بھی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نہ صرف اس کی رسائی بے پناہ ہے بلکہ اس کی مدد سے ہجوم پلک جھپکتے میں اکٹھا کیا جا سکتا ہے۔

اس کے علاوہ چونکہ پیغامات لوگوں کو ان کے دوستوں اور رشتہ داروں کی جانب سے ملتے ہیں، اس لیے وہ فوراً ان پر اعتبار کر لیتے ہیں۔

اگلے تین برس میں انڈیا میں 30 کروڑ مزید لوگ انٹرنیٹ سے منسلک ہو جائیں گے، جن سے صورتِ حال مزید گمبھیر ہو جائے گی۔

جعلی ویڈیو سب سے بڑا مسئلہ

ٹیکنالوجی کے ماہر پرسنتو کے روئے نے کہا کہ ان لوگوں کی اکثریت کا تعلق پسماندہ علاقوں سے ہے اور یہ کم پڑھے لکھے ہیں۔ یہ لوگ زیادہ تر ویڈیوز دیکھتے ہیں۔

'جعلی خبروں کا سب سے آسان ذریعہ ویڈیو ہے۔ ویڈیو میں غلط چیزیں آسانی سے پیش کی جا سکتی ہیں۔ انٹرنیٹ پر کسی کے قتل یا تشدد کی کوئی بھی ویڈیو ڈھونڈیے، اسے حالیہ کسی واقعے سے منسوب کیجیے، اور آگے روانہ کر دیجیے۔ یہ منٹوں میں فیس بک اور وٹس ایپ پر وائرل ہو جائے گی۔'

مزید مشکل یہ ہے کہ وٹس ایپ کا تمام ڈیٹا انکرپٹڈ ہے اور اس پر بھیجے جانے والے پیغامات کہیں محفوظ نہیں ہوتے۔ روئے کہتے ہیں کہ 'صرف آپ اور وصول کنندہ ہی پیغام پڑھ سکتا ہے، کوئی اور نہیں، حتیٰ کہ خود وٹس ایپ بھی نہیں۔'

یہ وجہ ہے کہ حکومت کو افواہوں کے ماخذ تک پہنچنے میں دشواری کا سامنا ہے۔

وٹس ایپ کا موقف

وٹس ایپ کا کہنا ہے کہ اسے 'تشدد کے وحشیانہ واقعات' سے صدمہ پہنچا ہے۔ تاہم اس نے پیغامات کی انکرپشن میں کسی قسم کی تبدیلی لانے سے انکار کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption قانون نافذ کرنے والے ادارے افواہوں سے نمٹنے میں بےبس ہیں

کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ پولیس کے ساتھ مل کر کام کرے گی کہ وٹس ایپ کو کس طرح بہتر طریقے سے استعمال کیا جائے۔

وٹس ایپ کیا کرے؟

میڈیانامہ ویب سائٹ کے ایڈیٹر نکھل پہوا کہتے ہیں کہ وٹس ایپ کو اس مسئلے کے حل کے لیے کوشش کرنی چاہیے۔

'وٹس ایپ کو سینسر نہیں کیا جانا چاہیے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں اس پر اس قسم کے واقعات کی کوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی۔'

انھوں نے چند تجاویز پیش کی ہیں: 'مثال کے طور پر لوگوں کو نجی طور پر میسج فارورڈ کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ اگر وہ ایسا کرتے ہیں وہ میسج پبلک ہو جائے جس کا سراغ لگایا جا سکتا ہو۔'

اس کے علاوہ صارفین کا اختیار ہونا چاہیے کہ وہ پیغامات پر 'قابل اعتراض' کا نشان لگا سکیں۔ مزید یہ کہ پہلی بار وٹس ایپ استعمال کرنے والوں کو ایک لازمی ویڈیو دکھائی جائے جس میں وضاحت کی گئی ہو کہ یہ پلیٹ فارم کیسے کام کرتا ہے۔

تاہم نکھل کہتے ہیں کہ سیاسی پارٹیاں جعلی خبریں اور معلومات پھیلانے کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں اور حکمران بی جے پی کو فعال اقدامات کرنے چاہییں۔

کیا حکومت کے مطالبے سے وٹس ایپ کو پریشانی ہو سکتی ہے؟

وٹس ایپ انڈین آئی ٹی ایکٹ کے تحت محفوظ ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اس قسم کے پلیٹ فارم کو اس پر شیئر کیے جانے والے مواد کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔

اسی بارے میں