یورپی ممالک کے پیکج میں عام وعدے ہیں کوئی ایکشن پلان نہیں: ایران

تصویر کے کاپی رائٹ Handout via REUTERS
Image caption ایران کو شکایت ہے کہ معاہدے کے بعد اُس کی توقعات کے مطابق بیرونی سرمایہ کاری اور تجارت میں اضافہ نہیں ہوا ہے۔

ایران کے صدر حسن روحانی کا کہنا ہے کہ امریکہ کا جوہری معاہدے ختم کرنے کے بعد یورپی ممالک کی جانب سے معاہدے کو برقرار رکھنے کے دی گئی تجاویز 'مایوس کن' ہیں۔

ایران کے صدر نے کہا کہ امریکہ کے جوہری معاہدے سے نکلنے کے بعد اقتصادی نقصانات کو کم کرنے کے یورپی ممالک کی پیشکش ناکافی ہے۔

امریکی اقدامات کا جواب دیں گے: ایران

’صدر ٹرمپ معاہدہ برقرار رکھنے میں دلچسپی نہیں رکھتے‘

ایران:’یورینیم افزودگی کی صلاحیت بڑھانے کا اعلان ‘

ایرانی کی سرکاری نیوز ایجنسی ارنا کے مطابق صدر حسن روحانی نے فرانس کے صدر اور جرمنی کی چانسلر سے علیحدہ علیحدہ ٹیلیفون پر بات کی۔

فرانس کے صدر بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ فرانس کا تجویز کردہ پیکج زیادہ عرصے تک نہیں چل سکتا۔

صدر روحانی نے کہا کہ ’بدقسمتی سے اس میں عام وعدہ کیے گئے ہیں لیکن کوئی ایکشن پلان موجود نہیں ہے۔ ‘

صدر حسن روحانی نے فرانس کے صدر کے ٹیلیفون پر بات کرتے ہوئے کہا کہ 'اس پیکج سے ایران کے تمام مطالبات پورے نہیں ہوتے ہیں۔'

ایران کی صدر کی جانب سے یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں وزارتی اجلاس جمعے سے شروع ہو رہا ہے۔

یہ اجلاس ایران اور عالمی دنیا کے مابین دو ہزار پندرہ میں طے پانے والے جوہری معاہدے سے امریکہ کے انخلا کے دو ماہ بعد منعقد ہو رہا ہے۔

صدر حسن روحانی نے کہا کہ ایران پرامید ہے کہ اس اجلاس میں معاملات طے پا جائیں گے۔

یاد رہے کہ رواں سال مئی میں صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ ختم کر کے سب کو حیران کر دیا تھا۔۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
ایران جوہری معاہدہ تھا کیا اور اس کے کیا فوائد تھے؟

امریکہ نے مختلف ممالک کو خبردار کیا ہے کہ ایران کے ساتھ سرمایہ کاری اور تجارت نہ کریں اور ایران سے تیل کی خریداری بھی نومبر تک ختم کر دیا نہیں تو جوابی اقدامات کے لیے تیار رہیں۔

اس معاہدے میں شامل دیگر ممالک، برطانیہ، فرانس، جرمنی، چین اور روس ایران سے کیے گئے جوہری معاہدے کو جاری رکھنا چاہتے ہیں لیکن اپنی کمپنیوں کے ایران میں سرمایہ کاری ختم کرنے کے معاملے پر بے بس دکھائی دیتے ہیںویانا میں ہونے والے اجلاس میں ایران کو معاہدے ختم نہ کرنے سے لیے یورپی پیکج پر بات ہو گی، جس میں اقتصادی اقدامات شامل ہیں۔

اس اجلاس میں ایران کے وفد کی سربراہی ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف کر رہے ہیں۔ دو ہزار پندرہ میں ویانا ہی میں ایران اور عالمی طاقتوں کے مابین جوہری معاہدہ طے پایا تھا۔

ایران کو شکایت ہے کہ معاہدے کے بعد اُس کی توقعات کے مطابق بیرونی سرمایہ کاری اور تجارت میں اضافہ نہیں ہوا ہے۔

امریکہ کی جانب سے معاہدے ختم کرنے کے بعد سے ایران کو اقتصادی بحران کا سامنا ہے۔ اس کی کرنسی کی قدر گر رہی ہے اور عوام سڑکوں پر اجتجاج کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں