کشمیر:برہان وانی کی برسی پر مظاہرے، تین مظاہرین ہلاک

  • ریاض مسرور
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سرینگر
برہان وانی

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن

برہان وانی کی ہلاکت کے بعد سے کشمیر میں تشدد کی لہر جاری ہے

نڈیا کے زیرانتظام کشمیر میں سخت ترین سیکورٹی کے باوجود مظاہرے ہوئے۔ مظاہرین پر فوج کی فائرنگ سے لڑکی سمیت تین مظاہرین مارے گئے۔

انڈیا کے زیر انتظام جنوبی کشمیر کے کولگام ضلع میں مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ فوج نے جب ریڈونی علاقہ کا محاصرہ کیا تو باشندوں نے مظاہرے کیے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مظاہرین نے فوج کے ایک گشتی دستے پر پتھر پھینکےاور مشتعل ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے فوج نے گولی چلائی۔

عینی شاہدین کے مطابق فوج نے ہجوم پر فائرنگ کی جس میں 16 سالہ لڑکی عندلیب اور دو نوجوان شاکر اور ارشاد مارے گئے جبکہ مزید چھ مظاہرین کو شدید زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا۔

اس واقعے کے فوراً بعد کولگام اور دیگر علاقوں میں فوج مخالف مظاہرے ہوئے۔ مظاہروں کو محدود کرنے کے لیے کئی علاقوں کی ناکہ بندی کر دی گئی ہے اور جنوبی کشمیر کے کولگام اور دیگر اضلاع میں انٹرنیٹ کو معطل کردیا گیا ہے۔

آٹھ جولائی کو کشمیر کے مسلح کمانڈر برہان وانی کی دوسری برسی کے موقعے پر علیحدگی پسندوں نے ہڑتال اور مظاہروں کی اپیل کی ہے، تاہم حکام نے پوری وادی میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

پولیس نے سینیئر حریت رہنما سید علی گیلانی اور میرواعظ عمرفاروق کو گھروں میں نظربند جبکہ یاسین ملک کو تھانے میں قید کردیا ہے۔ تینوں رہنماؤں پر مشتمل 'مشترکہ مزاحمتی قیادت' نے برہان کی برسی پر مکمل ہڑتال اور مظاہروں کی اپیل کی تھی۔

برہان وانی کو کشمیر کی نئی مسلح تحریک کا 'پوسٹر بوائے' کہا جاتا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ برہان نے سوشل میڈیا کا استعمال کرکے مقامی نوجوانوں کو مسلح تشدد کی طرف مائل کیا۔

،تصویر کا ذریعہAFP/Getty Images

،تصویر کا کیپشن

کشمیر میں برہان وانی کی تیسری برسی پر سخت سکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

آٹھ جولائی سنہ 2016 کو برہان وانی ککرناگ کے بم ڈورہ گاؤں میں ایک مسلح تصادم کے دوران اپنے دو ساتھیوں سمیت مارے گئے۔ ان کی ہلاکت کے بعد کشمیر میں دو ماہ تک کرفیو نافذ رہا جبکہ مظاہروں اور مسلح مزاحمت کی جو لہر اس ہلاکت سے چھڑی وہ اب بھی جاری ہے۔

فوج نے آپریشن آل آوٹ کے تحت دو سال میں ساڑھے تین سو مسلح عسکریت پسند ہلاک کیے تاہم تصادم آرائیوں کے دوران لوگ محصور عسکریت پسندوں کو بچانے کے لیے مظاہرے کرتے ہیں اور ایسی صورتحال میں اکثر فوج مظاہرین پر فائرنگ کرتی ہے جس میں شہری ہلاکتیں ہوتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

برہان کا تعلق پلوامہ ضلع کے ترال قصبے سے تھا۔ ترال میں ان کی برسی پر عوامی اجتماعات کو روکنے کے لیے قصبے کی ناکہ بندی کی گئی ہے۔ برہان ایک آسودہ حال خاندان سے تھے اور ان کے والد سکول ہیڈماسٹر ہیں۔

کئی سال قبل برہان کا چھوٹا بھائی خالد بھی فوج کی فائرنگ میں مارا گیا تھا۔ فوج کا کہنا ہے وہ جنگل میں برہان اور اس کے ساتھیوں کے لیے کھانا لے جاتے ہوئے اُس وقت مارا گیا جب عسکریت پسندوں نے فائرنگ کی۔