پراسرار لاشیں اور آسیب زدہ ذہن

دہلی تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

انڈیا کے دارالحکومت دلی کے ایک مکان میں گزشہ ہفتے ایک ہی خاندان کے گیارہ افراد پراسرار حالت میں مردہ پائے گئے۔ یہ لاشیں اتنی پراسرار حالت میں ملی ہیں اور ان کی موت کا طریقہ اتنا عجیب و غریب ہے کہ شاید دلی پولیس کے لیے یہ اپنی نوعیت کا سب سے الگ کیس ہو گا۔

پولیس کے سراغ رساں، فورنزگ ماہرین، سماجیات، نفسیات اور اعصابی بیماریوں کے ماہرین اس کیس کی تہہ میں جانے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ ہر روز اجتماعی موت کی رات سے پہلے کی کڑیاں جوڑنے والے کچھ پہلو سامنے آتے ہیں ۔ لیکن یہ معاملہ انتہائی پر اسرار بنا ہوا ہے ۔ بس ابھی تک ایک ہی چیز سمجھ میں آتی ہے کہ بھاٹیہ خاندان کے سبھی افراد نے توہمات کے سبب اپنی مرضی سے خودکشی کی ۔ پولیس نے منتر تنتر کرنے والی ایک خاتون تانترک سے پوچھ گچھ کی ہے ۔

بھاٹیہ خاندان نے یہ اجتماعی خودکشی بہت منظم، خاموشی سے اور اپنی روزمرہ کی زندگی کو معمول پر رکھتے ہوئی کی ۔ خاندان کے ہر فرد کو خود کشی کے لیے ساز وسامان لانے اور اس سے پہلے ہونے والی پوجا کی تیاریوں کے لیے الگ الگ ذمے داریاں دی گئی تھیں ۔ ایک فوٹیج میں گھر کی نابالغ بچی بازار سے پلاسٹک کے چار سٹول لاتی ہوئی نظر آتی ہے جو بعد میں خود کشی میں استعال ہوئی ۔ ہر کوئی اس خودکشی کے لیے بخوشی تیار تھا ۔ کیونکہ وہ خود کشی کی یہ 'رسم ' موت کے لیے نہیں بلکہ زندگی کی ایک نئی اور بہتر شروعات کے لیےادا کرنے والے تھے ۔ انہیں معلوم نہیں تھا کہ وہ اپنے توہمات کے سبب اپنے ہی ہاتھوں موت کا شکار ہونے والے ہیں ۔

بھاٹیہ خاندان کے بزرگ گوپال داس کا گیارہ برس قبل انتقال ہوگیا تھا۔ ان کے چھوٹے بیٹے للت بھاٹیہ ڈپریشن میں چلے گئے اور کچھ دنوں بعد انہیں لگا کہ کہ ان کے والد کی روح ان کے جسم میں اکثر حلول کر جاتی ہے اور وہ ان کی آواز میں بے ترتیب اور لاتعلق باتیں کرتے ۔ توہمات میں جکڑے ہوئے بھاٹیہ خاندان کو رفتہ رفتہ یقین ہونے لگا کہ للت کے اندر واقعی ان کے والد کی روح داخل ہو تی ہے اور وہ انہیں ہدایات دیتی ہے کہ انہیں ایک بہتر اور پاک زندگی کے لیے کیا کرنا ہے ۔ للت نے ہی پورے خاندان کو اجتما‏عی خودکشی کے لیے تیار کیا۔

پولیس کی تفتیش کے مطابق للت نے یہ بتایا تھا کہ جب وہ پھانسی کے پھندے میں لٹکیں گے تو اسی وقت بھگوان انہیں وہاں سے نکال کر ایک بہتر زندگی کی طرف لے جائیں گے ۔ اس عمل میں کہیں پر موت کا ذکر نہیں تھا۔

نفسیاتی ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ توہمات اگر حد سے زیادہ مضبوط ہو جائیں تو وہ نفسیاتی بیماری بن جاتے ہیں۔ ان کے مطابق للت نہ صرف ذہنی طور پر خطرناک حد تک بمیار تھا بلکہ پوری فیملی نیم نفسیاتی مرض کی گرفت میں تھی ۔ للت کے بارے میں پتہ چلا ہے کہ وہ بھوت، آسیب اور توہمات پر مبنی سیریل بہت دیکھتے تھے ۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

انڈین معاشرہ روایتی طور پر مزہبی ہے اور وہ طرح طرح کے توہمات میں ڈوبا ہوا ہے ۔ انڈین چینلز اپنے ناظرین کا دائرہ بڑھانے کے لیے توہمات اور فرسودہ مذہبی تصورات کو شدت سے ہوا دے رہے ہیں ۔ بڑے بڑے ٹی وی چینلوں پر پرائم ٹائم میں باباؤں اور سادھوؤں کے پروگرام چلتے ہیں جو غیر سائنسی نظریے کو فرغ دے رہے ہیں ۔ کئی چینلز خود بابا اور ان کے مزہبی ادارے چلا رہے ہیں ۔ ایک وقت تھا جب توہمات اور فرسودہ خیالات کو حکومتی سطح پر چیلنج کیا جاتا تھا اور سائنسی تصورات کو فروغ دیا جاتا تھا ۔ آج مسلمہ سائنسی تصورات کو چیلنج کیا جا رہا ہے ۔ معقولیت پسندی کو مذہب مخالف اور لامزہبیت سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ انڈین معاشرہ اس وقت دباؤ سے گزر رہا ہے ۔ یہ صورتحال توہم پرستی اور غیر سائنسی سوچ کے فروغ کے لیے بہت موزوں ہے ۔

توہم پرستی ہمیشہ اجتماعی خودکشی پر منتج نہیں ہوتی لیکن یہ فرد اور معاشرے کو طویل مدتی طور پر نقصان پہنچاتی ہے ۔ توہم پرستی اور غیر سائنسی سوچ نئی نسل کو تخیل اور تجسس کے راستے سے ہٹا کر پیچھے دھکیل دیتی ہے اور وہ ہر سوال کا حل ان مزہبی تصورات اور عقائد میں تلاش کرنے لگتے ہیں جن کازندگی کی حقیقتوں سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ۔