گرفتار نوجوان رقاصہ سے یکجہتی کے لیے ایرانی خواتین کا رقص

تصویر کے کاپی رائٹ Instagram

ایران میں خواتین ایک نوجوان لڑکی کی گرفتاری کے بعد رقص کرتے ہوئے اپنی ویڈیو پوسٹ کر رہی ہیں۔

مائدح ہوجابری نے انسٹا گرام پر ایرانی اور مغربی پاپ موسیقی پر رقص کرتے ہوئے ویڈیوز پوسٹ کی تھیں جس کے بعد انھیں ہزاروں لوگ سوشل میڈیا پر فالو کرنے لگے تھے۔

یہ بھی پڑھیے

ایران: 39 سال بعد خواتین کو فٹبال سٹیڈیم جانے کی اجازت

ایرانی لڑکیوں کو مردوں کا حلیہ کیوں اپنانا پڑا؟

زنان نامدار: تہران میں خواتین کو خراج تحسین

جمعے کو ریاستی ٹیلی وژن نے ہوجابری کا اعتراف جرم نشر کیا تھا۔

ایران میں سوشل میڈیا صارفین اس نوجوان رقاصہ کی حمایت میں ویڈیو اور پیغامات شیئر کر رہے ہیں۔ ان کے حق میں استعمال کیے جانے والے ہیش ٹیگ میں سے ایک ’رقص کرنا کوئی جرم نہیں‘ ہے۔

ایران میں خواتین کے لباس اور مخالف صنف کے ساتھ سرعام رقص کے حوالے سے سخت ضابطے ہیں۔ خواتین صرف اپنے قریبی خاندان کے سامنے ہی ایسا کر سکتی ہیں۔

ہوجابری اپنی ویڈیوز میں اپنے گھر میں حجاب کے بغیر ننگے سر رقص کر رہی ہیں۔

حالیہ ہفتوں میں کئی دیگر رقاصاؤں کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔

بلاگر حسین روناگھی نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا ’اگر آپ دنیا میں کہیں بھی لوگوں کو بتائیں گے کہ 17 یا 18 سال کی ایک لڑکی کو رقص کرنے، خوش ہونے اور خوبصورت ہونے پر غیر مہذب ہونے کے الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا جبکہ بچوں کا ریپ کرنے والے اور دوسرے مجرم آزاد ہیں تو وہ ہنسیں گے۔ یہ ناقابلِ یقین ہے۔‘

ایک ٹوئٹر صارف نے لکھا: ’میں رقص کر رہی ہوں تاکہ حکام کو پتہ چلے کہ وہ نوجوان لڑکیوں اور مائدح جیسوں کو گرفتار کر کے ہماری خوشی اور امید نہیں چھین سکتے۔‘

اسی بارے میں