کھانوں میں پھولوں کا استعمال

پھول ہندوستانی تہذیب و ثقافت کا لازمی حصہ ہیں۔ شادی بیاہ، پوجا پاٹ، گھر کی سجاوٹ، غرض ہر قدم پر پھولوں کی رنگا رنگ بہار اجتماعی اور ثقافتی زندگی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ زمانۂ قدیم سے مروج ہے اور عصر حاضر میں بھی اس کی بڑی مانگ ہے۔ یہ سجاوٹ کے علاوہ ہمارے کھانوں کو رنگدار اور خوشبودار بنانے کے کام آتے ہیں۔

پھولوں کی کثیر تعداد نہ صرف ہندوستان بلکہ دنیا بھر میں کھانوں کی تیاری میں استعمال کی جاتی ہے۔ مشروب، کیک، جیلی اور جام بنانے میں ان کا بڑا استعمال ہے۔ یہاں ان چند پھولوں گلاب، کیوڑہ، چنبیلی، ہار سنگھار، زعفران اور مہوا کا ذکر ہے جو عموماً ہندوستانی کھانوں کی زینت ہیں، انھیں اشتہا انگیز بناتے ہیں۔

ممبئی کے مضافاتی علاقے پنویل میں نمیتا جاتیا نامی خاتون قدرتی کھاد کے استعمال سے پھولوں کی کاشت کرتی ہیں۔ ان کے خریدار مختلف پانچ ستارہ ہوٹل اور گردو نواح کے کلب ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

'کھانے کی اتنی اہمیت کہ روزے کا تصور نہیں'

زعفران: رنگ و نور کا جادو

شمالی ہند کے پکوان اپنی خوشبو اور لذت کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہیں۔ کھانوں میں خوشبودار پھولوں، نباتات کا چلن مغلیہ سلطنت کی دین ہے۔ گوکہ پھول کی عہد قدیم میں بھی بڑی اہمیت تھی لیکن مہوا کی شراب کے علاوہ اس کے کھانوں میں استعمال کا ذکر کہیں نہیں ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ REDA&CO

گلاب ایران کے علاوہ ہندوستان میں بھی بکثرت اگایا جاتا ہے۔ اس کی خوبصورتی اور نزاکت بے مثال ہے، اس کی بھینی بھینی خوشبو کھانوں میں بس جاتی ہے۔ بریانی کی اصل لذت انھی کی وجہ سے ہے۔ جب چاولوں کو عرقِ گلاب میں جوش دیا جاتا ہے تو چاول کا ہر دانہ گلاب کی مست کن خوشبو میں بس جاتا ہے۔ ساتھ ہی زعفران کا چھڑکاؤ دسترخوان پر بریانی کی ہانڈی کی فضا گلاب اور زعفران کی خوشبو سے مہک اٹھتی ہے۔

گلاب کی سوکھی پتیاں اب عام طور سے بازار میں دستیاب ہیں۔ یخنی پلاؤ کے پوٹلی مسالے میں ان کی آمیزش ضروری ہے۔ کھیر اور فیرنی کے پیالوں میں عرق گلاب کی آمیزش جان لیوا ہے اور پھر تازہ گلاب کی پنکھڑیوں کی تزئین و آرائش انھیں دیدہ زیب بناتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

کھچڑی کے چار یار، قیمہ، پاپڑ، گھی، اچار

شیشہ گری کا فن، جسے اسلامی دور میں عروج ملا

گلاب کے پھولوں سے بنا شربت کا ایک گھونٹ طبیعت کو تروتازہ کر دیتا ہے۔ گلاب کی خوبیاں ہزار ہیں۔ یہ وٹامن سے بھرپور ہے، کھانوں کو زود ہضم بناتا ہے، سانس کی تکلیف رفع کرتا ہے، اس کا عرق آنکھوں کو ٹھنڈک اور جلد کو نکھارتا ہے۔ الغرض گلاب ہمارے کھانوں کو لذت کے ساتھ صحت مند بھی بناتا ہے۔

کیوڑہ بھی ہندوستانی کھانوں کی جان ہے۔ لکھنؤ کے شاہی باورچی کیوڑے کا گلاب سے زیادہ استعمال کرتے ہیں کیونکہ اس کی تیز خوشبو قورمے کو اشتہا انگیز بنا دیتی ہے۔ عرق کیوڑہ کا ایک قطرہ پوری ہانڈی کو خوشبودار بنانے کے لیے کافی ہے۔ بہت سی جگہ بریانی میں بھی کیوڑے کا استعمال ہوتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Majority World
Image caption ہرسنگھار کا پھول بعض اوقات زعفران کو بھی مات دیتا ہے

چنبیلی کا نازک پھول مستانی خوشبو رکھتا ہے۔ جب یہ پھول تیار شدہ چاول پر بکھیر کر دم کیے جاتے ہیں تو چاولوں کا ذائقہ ہی بدل جاتا ہے اور اسی طرح ہار سنگھار کا پھول ہانڈی کو اس قدر خوبصورت رنگ دیتا ہے کہ زعفران بھی اس کے آگے مات ہے۔

زعفران کا استعمال وسط ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے ممالک میں زمانۂ قدیم سے چلا آ رہا ہے اور ہندوستانی کھانوں میں مغلیہ سلطنت کے ساتھ مروج ہوا۔ کہتے ہیں کہ اس کا استعمال کینسر جیسے موذی مرض کو دور رکھتا ہے، دماغی قوت کو بڑھاتا ہے، سردی زکام کا زبردست علاج ہے اور دماغی سکون کا ساتھی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

رمضان کھانوں کی بہار کا مہینہ

گوا: ماپوسا کا جمعہ بازار

کل پاسی یا ڈگر کا پھر یا پتھر پھول جنوبی ہند میں پایا جاتا ہے۔ تمل ناڈو، اوٹی اور کڈی کنال میں یہ خوب کھلتا اور مہکتا ہے۔ اس پھول کا استعمال جنوبی ہند کے کھانوں خصوصاً چیٹی ناڈ میں عام ہے۔ کاسنی رنگ کا یہ پھول دیگر مسالہ جات کی آمیزش سے استعمال کیا جاتا ہے۔ ترکاریوں اور دالوں کے پکانے میں اسکا استعمال ہوتا ہے۔

آندھر پردیش اور مہاراشٹر کے کھانوں میں بھی اس کی آمیزش عام ہے۔ یہ پھول چین، جاپان، جرمنی، کینیڈا وغیہر میں بھی پایا جاتا ہے اور اپنی غذائیت کے لیے اہم اور مشہور ہے۔

چنبیلی تصویر کے کاپی رائٹ julio donoso
Image caption چنبیلی یا یاسمن کا پھول بھی کھانوں میں استعمال ہوتا ہے

کیلا ایک معروف پھل ہے لیکن بعض علاقوں میں اس کا پھول اس کے پھل سے بھی زیادہ مقبول ہے۔ مغربی بنگال اور کیرالہ کے کھانوں میں اس کا بے شمار استعمال ہوتا ہے۔ اس کے پھول کا صاف کرنا صبر طلب ہے۔ ہر پھول کو الگ الگ صاف کرنا ہوتا ہے۔ کیرالہ میں اسے وزائیپو کہتے ہیں مزے میں کیلا کا ہلکا ذائقہ دیتا ہے۔

مغربی بنگال میں ان پھولوں کی سبزی بڑے شوق سے کھائی جاتی ہے۔ مچھلی کے ساتھ کیلے کے پھول کا پکوان بھی بنگالیوں میں مقبول ہے۔ پکانے سے پہلے یہ پھول پتلی چھاچھ میں بھگو دیے جاتے ہیں تاکہ ان کا رنگ خراب نہ ہو۔ کیلے کے پھول بھی طبی فوائد سے خالی نہیں۔

پپیتا ہندوستان کے مشرقی حصے خصوصا منی پور میں کثرت سے پایا جاتا ہے جہاں اس کے پھولوں کو سوپ اور سلاد بنانے میں استعمال ہوتا ہے۔ آلو کی قاش کے ساتھ اس کی ترکاری بنائی جاتی ہے اور مچھلی کے شوربے میں اس کو شامل کیا جاتا ہے۔

یہ مشہور ہے کہ پپیتے کے پتے ذیابیطس کا بہترین علاج ہیں لیکن لوگ شاید اس بات سے بے خبر ہیں کہ اس پھولوں میں بھی کم بیش وہی تاثیر ہے اور یہ ڈینگی کا بہترین علاج ہیں۔ اس سے بنائے گئے پکوانوں میں ہلکی سی تلخی ہوتی ہے لیکن اس کے فوائد کے پیشِ نظر اسے بھی گوارا کر لیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

دیوالی مٹھائیوں کا تہوار بھی ہے

ادرک کے 100 گن

مورنگا کے پھول جنھیں سنجنا کے پھول بھی کہتے ہیں انھیں جنوبی ہند کے کھانوں میں بہت استعمال کیا جاتا ہے۔ پکانے سے 15 منٹ قبل اسے پانی میں بھگو دیا جاتا ہے اور پھر نتھار کر استعمال کیا جاتا ہے۔ چاول کے آٹے میں ملا کر اس کے بہترین پکوڑے تیار کیے جاتے ہیں۔ ہلکی آنچ پر تل کر سابر میں ملائے جاتے ہیں اور چٹنی تیار کی جاتی ہے۔ اسے مختلف دالوں میں بھی ڈالا جاتا ہے۔ طبی لحاظ سے اس میں کیلشیم اور پوٹاشیم پائے جاتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption زعفران کا استعمال انڈیا میں مغلوں کی آمد کے ساتھ ہوا ہے

مہوا زمانۂ قدیم سے مستعمل ہے۔ ہلکا میٹھا پن لیے مہوے کے پھول سے شراب بنائی جاتی تھی۔ ہندوستان کے ہر حصے میں اس کا درخت پایا جاتا ہے۔ اس کا پھول موسم بہار مارچ تا مئی اپنی بہار دکھلا کر رخصت ہو جاتا ہے۔ یہ صرف رات کے وقت کھلتا ہے اور سورج کی پہلی کرن کے ساتھ زمیں بوس ہو جاتا ہے۔

اس کا تیل روغن زیتون سے زیادہ مفید ہے۔ آٹے میں ملا کر روٹی بنائی جاتی ہے۔ گھی اور شہد کی آمیزش سے شیرینی تیار کی جاتی ہے۔ مہوا کا استعمال مختصر عرصے کے لیے ہے لیکن بڑا مفید ہے۔ سانس کی بیماری دور کرتا ہے، دل کو قوی بناتا اور آنکھوں کی روشنی تیز کرتا ہے۔

پھول کا استعمال حکما کی دوا میں ملتا ہے جو ان کے فوائد پر صاد ہے۔ شاہی مطبخ میں حکیموں کی موجودگی لازمی ہوتی تھی جو شاہی باورچی کو پھولوں اور نباتات کی خوبیوں سے آگاہ کرتے تھے اور بادشاہ کے مزاج کے مطابق ان کے استعمال کی ہدایت کرتے تھے۔

٭ سلمیٰ حسین کھانا پکانے کی شوقین، ماہر طباخ اورکھانوں کی تاریخ نویس ہیں۔ ان کی فارسی زباندانی نے عہد وسطی کے مغل کھانوں کی تاریخ کے اسرار و رموز ان پر کھولے۔ انھوں نے کئی کتابیں بھی لکھی ہیں اور بڑے ہوٹلوں کے ساتھ فوڈ کنسلٹنٹ کے طور پر بھی کام کرتی ہیں۔ سلمیٰ حسین ہمارے لیے مضامین کی ایک سیریز لکھ رہی ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں