چین کو دنیا سے جوڑنے میں مددگار دیوقامت مشینیں

Graphic of the track-laying machine

چین برّی اور بحری راستوں پر مشتمل ایسے ٹرانسپورٹ لنکس کا جال بچھا رہا ہے جو اسے یورپ اور افریقہ سے جوڑ دیں گے اور اس سلسلے میں وہ بالکل بھی وقت ضائع نہیں کر رہا۔

چین نے ان منصوبوں کے لیے ایسی تعمیراتی مشنیری تیار کی ہے جو یہ کام تیزی سے پایۂ تکمیل تک پہنچا سکے۔

تاریخ کے بڑے انفراسٹرکچر منصوبوں میں شامل ’بیلٹ اینڈ روڈ انشی ایٹو‘ ایک ایسا منصوبہ ہے جو دنیا میں ریلویز کی تعمیر کے حوالے سے بھی نئی تاریخ رقم کر رہا ہے۔

نئی اور جدید مشینیں اس منصوبے کو تیز رفتاری سے پایہ تکمیل تک پہنچانے میں مدد دے رہی ہیں۔

چینی صدر شی جن پنگ نے اپنے اس پرعزم منصوبے کا آغاز 2013 میں کیا تھا جس کا مقصد 70 ممالک میں پھیلی دنیا کی دو تہائی آبادی کو سڑکوں، ریل اور بحری راستوں سے جوڑنا ہے۔

حکام کے مطابق اس منصوبے کے لیے کھربوں ڈالر درکار ہیں جو بینک، منصوبے میں شامل ممالک اور خود چینی حکومت فراہم کرے گی۔

تاہم یہ منصوبہ بھی تنازعات سے پاک نہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس سے غریب ممالک پر اربوں ڈالر کا چینی قرض چڑھ جائے گا اور وہ اس کا مقصد چینی خارجہ پالیسی کی ترویج و تشہیر قرار دیتے ہیں۔

تاہم اس تنقید کے باوجود بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کی نشانیاں چین اور اسے باہر دیکھی جا سکتی ہیں جہاں جدید ترین مشینری تیزی سے ریلوے لائنز کی تعمیر میں مصروف ہے۔

ٹرین کا راستہ

پلوں کی تعمیر

آپ ایک ایسے علاقے میں تیز رفتار ٹرین کے لیے سیدھی پٹڑی کیسے بچھا سکتے ہیں جہاں زیادہ تر علاقہ وادیوں اور گھاٹیوں پر مشتمل ہو؟

یہاں کام شروع ہوتا ہے پل تعمیر کرنے والی مشین ایس ایل جے 900/32 کا جسے عام طور پر ’جائنٹ ڈیول‘ کہا جاتا ہے۔

ایس ایل جے ایک ایسی مشین ہے جو ریلوے ٹریک کے ٹکڑوں کو اٹھانے، منتقل کرنے اور انھیں بچھانے کے علاوہ بھاری پتھروں کے بلاکس کی مدد سے ستونوں کو آپس میں جوڑنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

آئرن مونسٹر

ہر سیکشن بچھانے کے بعد 64 پہیوں والی 300 فٹ کی گاڑی نیا سیکشن لینے واپس آتی ہے اور یہ عمل پٹڑی بچھائے جانے کا عمل مکمل ہونے تک جاری رہتا ہے۔

گاڑی کے 64 پہیے آگے پیچھے کے علاوہ دائیں بائیں بھی حرکت کر سکتے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ دیوہیکل مشین جاروں جانب گھوم سکتی ہے۔

جب یہ پوری طرح بھری ہوئی ہو تو بھی اس کی رفتار پانچ کلومیٹر فی گھنٹہ ہوتی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ کام روایتی طریقے سے کہیں تیزی سے ہو سکتا ہے۔ روایتی طریقے سے پلوں پر پٹڑی کے سیکشنز منتقل کرنے کے لیے دیوہیکل کرینیں استعمال کی جاتی تھیں جنھیں پہلے تعمیر کے مقام پر نصب کرنا پڑتا تھا۔

اس گاڑی کا وزن 580 ٹن ہے یعنی یہ اس ٹریک سے گزرنے والی کسی بھی ٹرین سے زیادہ وزنی ہو گی اور اس سے ان پلوں کی مضبوطی کا معیار بھی جانچا جا سکتا ہے۔

یہ مشین اس منصوبے سے پہلے بھی چین میں تیز رفتار ریل کے کئی منصوبوں میں استعمال ہو چکی ہے جن میں منگولیا کے اندرونی علاقوں کو چین کے بقیہ شہروں سے ملانے کا منصوبہ بھی شامل ہے۔ یہ منصوبہ چین کے 2020 تک 30 ہزار کلومیٹر ہائی سپیڈ ریل ٹریک بچھانے کے منصوبے کا حصہ ہے۔

سرنگیں

ادھر جنوب میں ہانگ کانگ کے قریب شانتو میں سوائی ہائی وے منصوبہ جاری ہے جہاں ایک بڑا مرحلہ ایک ایسے علاقے میں پانچ کلومیٹر طویل زیرِ زمین چھ رویہ موٹر وے گزارنا ہے جہاں زلزلے آتے رہتے ہیں۔

یہ پانچ کلومیٹر طویل سرنگ 2019 میں کھلے گی اور حکام پرامید ہیں کہ اس سے شانتو کے ٹرانسپورٹ لنکس کو جدت دینے میں مدد ملے گی کیونکہ وہ میری ٹائم سلک روڈ پر مقرر کردہ 15 اہم بندرگاہوں میں سے ایک ہے۔

ایک زمانے میں اس قسم کی سرنگیں کھودنے کے لیے جرمن مشینری استعمال ہوتی تھی لیکن یہاں 15.3 میٹر کی سلری ٹی بی ایم استعمال کی جا رہی ہے جسے چائنا ریلوے انجینئرنگ ایکوئپمنٹ گروپ کمپنی نے بنایا ہے اور اسے بنانے میں اسے فری لانس جرمن انجینئیرز کی مدد حاصل رہی ہے۔

اس مشین کو اکتوبر 2017 میں منظرِ عام پر لایا گیا تھا۔

سلری

سرنگ کھودنے والی دیگر مشینوں کی طرح اس میں بھی ایک گھومنے والی دیوہیکل ڈسک موجود ہے جو مٹی اور چٹانوں کو کاٹنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

چار ہزار ٹن وزنی اس مشین کی لمبائی سو میٹر ہے اور جیسے جیسے اس کا کٹنگ ہیڈ اپنے ہائیڈرالک بازؤوں کی مدد سے سرنگ کھودتا ہوا آگے بڑھتا ہے اس کا ڈھانچہ سرنگ کی دیواریں کھڑی کرنے میں مدد دیتا ہے۔

دیگر سلری مشینوں کی طرح کٹنگ ہیڈ سے جمع ہونے والا ملبہ ایک طرف جمع کر کے سرنگ سے باہر نکال لیا جاتا ہے۔

یہ دنیا کی سب سے چوڑی ٹی بی ایم نہیں ہے۔ یہ اعزاز ’برتھا‘ کے پاس ہے۔ 17.4 میٹر چوڑی یہ مشین امریکی ریاست سیاٹل میں الاسکا وے سرنگ کھودنے کے لیے بنائی گئی تھی۔

تاہم یہ مشین چین کے اس عزم کو ظاہر کرتی ہے کہ وہ بڑی سرنگوں کی کھدائی کے معاملے میں دنیا سے پیچھے نہیں رہنا چاہتا۔

کٹنگ مشین

ریل کی پٹڑی

جہاں بی آر آئی منصوبے کی بنیادیں چین بھر میں رکھی جا رہی ہیں وہیں ہزاروں میل دور چین کی فنڈنگ سے تعمیر ہونے والے کئی بڑے انفراسٹرکچر منصوبوں پر بھی کام زوروشور سے جاری ہے۔

جب مئی 2017 میں کینیا میں ممباسا-نیروبی ریلوے مکمل ہوئی تو اسے دنیا کی توجہ حاصل ہوئی اور صرف وجہ یہ نہیں تھی کہ منصوبہ مقررہ وقت سے ڈیڑھ برس پہلے ہی مکمل ہو گیا تھا۔

480 کلومیٹر طویل یہ ریلوے لائن کینیا کی آزادی کے بعد ملک میں بچھائی جانے والی پہلی نئی ریلوے لائن ہے۔

اس کے لیے 90 فیصد سرمایہ چین کے ایگزم بینک نے دیا ہے اور یہ پہلی ریلوے لائن ہے جو چینی مشینری کی مدد سے چینی معیار کے مطابق چین سے باہر تعمیر کی گئی ہے۔

یہ جاننے کے لیے کہ کیسے روزانہ 700 میٹر ریلوے ٹریک بچھایا گیا، اس سے بہتر کوئی طریقہ نہیں کہ اس مشین کو دیکھا جائے جس کی مدد سے یہ کام کیا گیا۔

ٹریک بچھانے والی مشین

ٹریک بچھانے والی مشین پہلے سے تیار شدہ پٹڑی کے ٹکڑے اٹھا کر ایک ایک کر کے ریلوے لائن بچھاتی ہے۔

ٹریک کا ایک ٹکڑا بچھانے میں مشین کو صرف چار منٹ لگتے ہیں۔

یہ کوئی نئی چیز نہیں۔ اس طریقے کو استعمال کرتے ہوئی کئی دہائیوں سے دنیا کے کئی حصوں میں پٹڑیاں بچھائی جا رہی ہیں لیکن چین میں یہ کام جلدی ہو رہا ہے۔

چینی مشینیں سستی ہیں، جلد تیار ہوتی ہیں اور وہ ٹریک کے بڑے حصے اٹھا کر لے جانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

تاہم تکنیکی جادوگری اپنی جگہ ان مشنیوں کو چلانے کے لیے بہت زیادہ افرادی قوت بھی درکار ہوتی ہے۔

مقامی کارکن چینی انجینیئرز کی نگرانی میں ریلوے روٹ کے قریب قائم کیے گئے عارضی کارخانوں میں ریل کی پٹڑیاں بناتے ہیں۔

پھر انھیں یقینی بنانا ہوتا ہے کہ تیار شدہ ماہ صحیح مقام پر رکھا جائے اور اس کام میں غلطی کی گنجائش نہ ہونے کے برابر ہے۔

اس عمل کے دوران ان کی حفاظت کے بارے میں بھی خدشات پائے جاتے ہیں۔ گذشتہ برس ممباسا نیروبی لائن پر کام کرنے والے ایک سینیئر چینی انجینیئر نے ژنہوا نیوز ایجنسی کو بتایا تھا کہ کام کے مقام پر حادثے عام بات ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ’جب وہ رونما ہوتے ہیں تو ہمیشہ وہ شدید اور اکثر مہلک ہوتے ہیں۔‘

فی الحال چینی ریلوے منصوبے افریقی ممالک میں مقبول ہیں کیونکہ وہ ان کی حالت بدلنے والے ہیں۔

ممباسا نیروبی لائن سے دس گھنٹے کا سفر کم ہو کر چار گھنٹے کا رہ گیا ہے اور فروری 2018 تک آٹھ لاکھ 70 ہزار مسافر اس روٹ پر سفر کر چکے ہیں۔

اس لائن کو کسومو پر بڑھانے کے لیے کام شروع ہو چکا ہے اور آخرکار یہ یوگنڈا، روانڈا، جنوبی سوڈان اور ایتھیوپیا کو ملا دے گی۔

اگر سب کچھ منصوبے کے مطابق ہوا اور تعمیراتی کام ان جدید دیوہیکل مشینوں کی مدد سے تیزی سے جاری رہا تو وہ دن دور نہیں جب کینیا چین کی مدد سے بننے والے مشرقی افریقی ریل نیٹورک کا مرکز ہو گا۔

Elephants

۔

اسی بارے میں