انڈیا: ’ہجوم کے ہاتھوں تشدد کا مقصد کچھ بھی ہو، یہ ایک جرم ہے‘

ایک عرضی گزار تحسین پونے والا نے ‏عدالت عظمیٰ کے فیصلے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 'ہجومی تشدد ایک الگ نوعیت کا جرم ہے اور اس کے لیے ایک الگ قانون کی ضرورت ہے۔ عدالت کے حکم کے بعد اب یہ قانون بن سکے گا۔' تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ایک عرضی گزار تحسین پونے والا نے ‏عدالت عظمیٰ کے فیصلے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 'ہجومی تشدد ایک الگ نوعیت کا جرم ہے اور اس کے لیے ایک الگ قانون کی ضرورت ہے۔ عدالت کے حکم کے بعد اب یہ قانون بن سکے گا۔'

انڈیا کی سپریم کورٹ نے ملک کی پارلیمنٹ سے سفارش کی ہے کہ وہ ہجومی تشدد کے قصوروار افراد کو سزائیں دینے کے لیے ایک علیحدہ قانون بنائے۔

عدالتِ عظمیٰ نے کہا کہ ہجوم کے ہاتھوں تشدد کے واقعات کو برداشت نہیں کیا جا سکتا اور اسے معمول کا واقعہ بننے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

منگل کی صبح چیف جسٹس دیپک مشرا کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے ہجومی تشدد کے واقعات کو 'وحشت ناک' قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان واقعات کو سختی سے کچلنا ہوگا۔

عدالت نے کہا کہ ریاستی حکومتیں خاموش تماشائی نہیں بنی رہ سکتیں اور کسی کو قانون اپنے ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ عدالت کا کہنا تھا کہ کسی کو اس بات کی اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ خود کو ہی قانون سمجھنے لگے اور جمہوریت میں ہجومی لاقانونیت کی کوئی جگہ نہیں ہے۔

مزید پڑھیے

انڈیا میں زنا کا پیچیدہ قانون، اصل مجرم ہے کون؟

ہندو راشٹر کے بعد اب اسلامی مملکت

انڈیا میں ہندوؤں کے ساتھ زیادتی!

عدالت عظمیٰ نے کہا کہ مرکزی اور ریاستی حکومتوں کو مستقبل میں ہجومی تشدد روکنے کے لیے احتیاتی، تعزیری اور اصلاحی اقدامات کرنے ہوں گے۔

‏عدالت نے اس سلسلے میں وفاق اور ریاستوں کو متعدد ہدایات دی ہیں اور کہا ہے کہ حکومتوں کو ان ہدایات پر عمل کرنے کی رپورٹ عدالت میں پیش کرنی ہو گی۔

عدالت نے اس سے پہلے ہجومی تشدد سے متعلق مختلف درخواستوں کی سماعت کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ ایک سنگین جرم ہے اور اس کی روک تھام کی ذمہ داری ریاستی حکومتوں کی ہے۔

’ہجومی تشدد گائے کے تحفظ کے نام پر ہو یا بچوں کے اغوا کی افواہ پر، اس کا مقصد کچھ بھی ہو، ہجومی تشدد ایک جرم ہے ۔‘

ایک عرضی گزار تحسین پونے والا نے ‏عدالت عظمیٰ کے فیصلے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’ہجومی تشدد ایک الگ نوعیت کا جرم ہے اور اس کے لیے ایک الگ قانون کی ضرورت ہے۔ عدالت کے حکم کے بعد اب یہ قانون بن سکے گا۔‘

گذشتہ تین مہینے میں مہاراشٹر، کرناٹک، آندھرا پردیش، تمل ناڈو، اتر پردیش، جھارکھنڈ اور دوسرے علاقوں میں ہجومی تشدد کے واقعات میں 27 افراد مارے جا چکے ہیں۔ ان میں سے بیشتر سوشل میڈیا پر بچہ اغوا کرنے کی افواہ کے نتیجے میں مارے گئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

درجنوں افراد گائے کے تحفظ کے نام پر مارے جا چکے ہیں۔ ہجومی تشدد کے واقعات کی خبریں ملک کے کسی نہ کسی علاقے سے آتی رہتی ہیں۔

بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ابتدا میں گائے کے تحفظ کے نام پر نام نہاد گئو رکشکوں کے ہاتھوں کیے جانے والے ہجومی تشدد میں نفرت کی سیاست کا دخل تھا۔ تشدد کے مرتکبین کو اکثر سیاسی حمایت حاصل ہوتی تھی لیکن اب یہ اس سے آگے نکل کر بچہ چوری کی افواہوں اور دوسرے اسباب تک پہنچ گئی ہے۔

سماجی ماہرین کا کہنا ہے کہ ہجومی تشدد کے مرتکبین کے خلاف موثر اقدات نہ کیے جانے سے معاشرے میں نفرت اور غیر انسانی نفشیات کو ہوا مل رہی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں