انڈیا میں 17 افراد پر کمسن لڑکی کے گینگ ریپ کی فردِ جرم عائد

Police stand guard as the accused are brought to court in Chennai, India, July 17, 2018 تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

انڈیا کے شہر چینئی میں 17 افراد پر ایک 11 سالہ لڑکی کے گینگ ریپ کی فردِ جرم عائد کر دی گئی ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ اس لڑکی کو اس سال کے شروع میں جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ مرکزی ملزم ایک لفٹ آپریٹر ہے جو اس لڑکی کے اپارٹمنٹ بلاک میں کام کرتا ہے۔

اس نے مبینہ طور پر لڑکی کو نشہ پلا کر دوسرے مردوں کو بلا لیا کہ وہ اسے زیادتی کا نشانہ بنائیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ مزید گرفتاریاں متوقع ہیں۔

انڈیا میں ہونے والے جنسی جرائم کے خلاف عوامی غم و غصے میں شدت آتی جا رہی ہے۔

منگل کو ایک عدالت نے ان 17 مردوں کو کم عمر بچی کے ریپ کی فردِ جرم عائد کی اور انھیں 31 جولائی تک حوالات میں رکھنے کا حکم جاری کیا۔ ان مردوں میں سکیورٹی گارڈ، الیکٹریشن اور پلمر شامل ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption بعض وکیلوں نے اس پولیس وین پر حملہ کر دیا جس میں ملزمان کو لے جایا جا رہا تھا

اس واقعے کے بعد لوگوں نے سخت احتجاج کیا ہے اور ان کی عدالت میں پیشی کے موقعے ان پر وکیلوں کے ایک گروہ نے حملہ بھی کر دیا۔

ملزموں کو عدالت کی سیڑھیوں سے گھسیٹے جانے اور مار پیٹ کی ویڈیو سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے۔

وکیلوں کی تنظیم کے صدر نے کہا کہ کوئی وکیل ان ملزموں کے دفاع کے لیے پیش ہونے کے لیے رضامند نہیں ہے۔

ایک پولیس اہلکار نے بتایا کہ لڑکی نے تمام ملزموں کو شناخت کر لیا ہے۔

حکام کے مطابق کم از کم چار نے اعترافِ جرم کر لیا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں