راہل کی جپھی اور آنکھ مارنا کتنا معنی خیز؟

تصویر کے کاپی رائٹ LSTV

کانگریس پارٹی کے صدر اور انڈیا میں حزب اختلاف کے رہنما راہل گاندھی اپنے گلے ملنے اور آنکھ مارنے کے لیے سوشل میڈیا پر چھائے ہوئے ہیں۔

سنیچر کی صبح ٹوئٹر کے نو ٹاپ ٹرینڈز میں سے آٹھ کا تعلق راہل گاندھی کے حوالے سے نظر آیا۔ جمعے کو انڈیا کی پارلیمان میں راہل گاندھی نے اپنے بیان اور انداز سے لوگوں کو حیران کر دیا۔

انھوں نے پارلیمان سے اپنے خطاب کے دوران حکمراں جماعت بی جے پی پر کئی الزامات لگائے اور ساتھ ہی یہ بھی کہا: 'آپ لوگوں کے اندر میرے لیے نفرت ہے ۔۔۔ آپ مجھے پپّو بلا سکتے ہیں، اور بہت (ساری) گالیاں دے کر بلا سکتے ہیں۔ لیکن میرے اندر آپ کے لیے ذرا بھی نفرت نہیں ہے۔'

اور اس کو ثابت کرنے کے لیے وہ اپنی تقریر ختم کرتے ہی ایوان میں موجود وزیر اعظم نریندر مودی کے پاس گئے، ان سے اٹھنے کے لیے کہا لیکن ابھی وہ کچھ سمجھ پاتے یا اٹھ پاتے کہ راہل گاندھی جھک کر ان کے گلے لگ گئے۔

یہ بھی پڑھیے

راہل گاندھی کا 'پپو' ٹیگ ختم!

راہل گاندھی کا مودی پر جوابی وار

مبصرین کا کہنا ہے کہ راہل گاندھی نے بخوبی اپنا پیغام پہنچا دیا۔ اس سے قبل راہل گاندھی نے کہا تھا کہ وہ 'سب کے دل میں مبحت بیدار کرے کے چھوڑیں گے اور سب کو کانگریسی بنا کر رہیں گے۔'

سینیئر صحافی رشید قدوئی نے لکھا کہ راہل گاندھی نے نریندر مودی کو گلے لگا کر جو ہمت کا مظاہرہ کیا ہے اس میں کچھ فلمی گاندھی گیری نظر آتی ہے اور اس جپھی کا ان پر خاص اثر ہوگا جن کا جھکاؤ نہ تو بی جے پی کی جانب ہے اور نہ ہی کانگریس کی جانب۔

لیکن مرکزی وزیر ہرسمرت کور بادل نے کہا کہ وہ پارلیمان میں 'پپی جپھی نہیں کر سکتے‘۔ اسی طرح بہت سے صارفین نے ان پر پارلیمان کے تقدس کو پامال کرنے کا الزام بھی لگایا۔

یہ بھی پڑھیے

26 سیکنڈ کے کلپ نے ’ڈریم گرل‘ بنا دیا

راہل گاندھی کی ایک ہزار ڈالر کی جیکٹ

کانگریس کے ترجمان سنجے جھا نے ٹویٹ کیا 'راہل گاندھی کی شاندار تقریر، کلاسیکی کن انکھیوں کے بعد مشکلات سے دو چار بی جے پی کنارے کو دھکیل دی گئی۔ وہ کب تک سوا ارب لوگوں کو دھوکا دے سکتے ہیں؟'

'ریئل ہسٹری پک' نامی ایک ہینڈل نے نریندر مودی کی ایک تصویر ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا: 'میں ساورکر کا نظریہ پھیلاتا رہا اور وہ بیچ محفل میں گاندھی گیری کر گیا۔'

اس کے ساتھ اس نے مزید دو تصاویر ٹویٹ کیں۔ ایک میں نریندر مودی انڈیا کے صف اول کے صنعت کار مکیش امبانی سے گلے مل رہے ہیں جبکہ دوسرے میں راہل گاندھی نریندر مودے کے گلے پڑ رہے ہیں۔ اس ٹویٹ کو سینکڑوں لوگوں نے ری ٹویٹ کیا اور اس کے ساتھ یہ لکھا گيا: 'رضامندی اور غیر رضامندی کا واضح فرق۔'

سر رویندر جڈیجہ نامی ٹوئٹر ہینڈل نے لکھا: 'راہل گاندھی جو وزیر اعظم مودی کا دنیا کے رہنماؤں سے گلے ملنے کا 'ہگلومیسی' کہہ کر مذاق اڑاتے تھے آج انھیں کے نقش قدم پر چل کر انھی سے گلے ملے۔'

راہل گاندھی کے پلک جھپکانے کا مقابلہ رواں سال ایک وائرل ویڈیو سے کیا جا رہا ہے جس میں ملیالم اداکارہ پریا وريئر نے آنکھ ماری جو انتہائی مقبول ہوئی تھی۔

ایک صارف نے لکھا کہ کس آنکھ مارنے کو سال کا بہترین آنکھ مارنا کہیں گے جبکہ ایک نے لکھا کہ 'بعض آنکھ مارنا آپ کا دل لے لیتا ہے جبکہ بعض آپ کی جان۔'

سینيئر صحافی آرتی آر جیرتھ نے لکھا: 'میرے خیال میں راہل گاندھی مودی پر ہی مودی کا انداز آزما رہے تھے۔ انھوں نے خانے سے باہر کی چیز کی اور تاک لگا کر وزیر اعظم پر حملہ کیا اور میرے خیال سے آنکھ مارنا اسی کا اظہار تھا۔ انھوں نے ایسی ہی کچھ منصوبہ بندی کر رکھی تھی، وزیر اعظم کو حیرت زدہ کرنا چاہتے تھے اور اس میں وہ کامیاب رہے۔'

کانگریس پارٹی کے صدر نے پاکستان کی سرحد کے اندر سرجیکل سٹرائیک کا ذکر کیے بغیر 'جملہ سٹرائیک' کہہ کر وزیر اعظم پر حملہ کیا اور پھر انھوں نے فرانس کے ساتھ جنگی طیارے رفائیل کے سودے کے تعلق سے بھی نریندر مودی پر نشانہ لگایا۔

نریندر مودی نے راہل گاندھی کے گلے ملنے اور اٹھنے کے لیے کہنے کو ان کی وزارت عظمی کی کرسی لینے کی خواہش قرار دے کر مذاق اڑانے کی کوشش کی۔

اسی بارے میں