انڈیا نے ماہواری کے پیڈ سے ٹیکس ہٹا دیا گیا

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption گذشتہ سال ملک بھر میں ایک ٹیکس جی ایس ٹی عائد کرنے کے بعد سے حکومت نے اس میں کئی بار تبدیلیاں کی ہیں

انڈیا کی حکومت نے خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی کارکنان کی کئی ماہ کی کوششوں کے بعد خواتین کی حفظان صحت کی سینٹری مصنوعات پر عائد 12 فیصد ٹیکس واپس لے لیا ہے۔

یہ اعلان حکومت کی جانب سے تمام اشیا پر لگائے جانے والے نئے ٹیکس جی ایس ٹی کے ایک سال بعد، گذشتہ روز سنیچر کو کیا گیا۔ اس ٹیکس کے تحت خواتین کے ماہواری کے ایام میں حفظان صحت فراہم کرنے والی مصنوعات پر بھی 12 فیصد ٹیکس لگائے گئے تھے۔

اس ٹیکس کے خلاف سرگرم کارکنوں کا کہنا تھا ایک ایسے ملک میں جہاں پانچ میں سے چار خواتین اور لڑکیوں کو ابھی بھی سینٹری پیڈ جیسی چیزیں دستیاب نہیں ہیں، وہاں اس پر ٹیکس لگانے کا مطلب اسے مزید بعید الحصول بنانا ہے۔

ماہواری کے متعلق آگاہی پیدا کرنے والی تنظیم ’سچی سہیلی‘ کی بانی سربھی سنگھ نے تھامسن فاؤنڈیشن کو بتایا کہ 'یہ خواتین اور لڑکیوں کے سکول اور دفتر میں رہنے کے لیے انتہائی ضروری قدم تھا۔ اس سے انھیں پھلنے پھولنے اور اپنی اصلی صلاحیت کے مظاہرے کا موقعہ ملے گا۔'

انڈیا میں بہت سی لڑکیاں تعلیم کو ماہواری کے سبب چھوڑ دیتی ہیں جبکہ بہت سی خواتین کو سینٹری پیڈ کی عدم دستیابی کی وجہ سے گھروں میں رہنا پڑتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

دورانِ حیض گھر سے بے دخلی کے خلاف جنگ

انڈیا: ’ماہواری کی جانچ کے لیے 70 طالبات بے لباس‘

بہت سی خواتین پرانے کپڑھے اور چیتھڑے استعمال کرتی ہیں جن سے انفیکشن کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

اس لیے جب حکومت نے خون روکنے کے فتیلے اور سینٹری پیڈ کو لکژری مصنوعات میں شامل کرکے اس پر 12 فیصد ٹیکس عائد کیا تو اس کے خلاف فوری طور پر مہم شروع ہو گئی اور عدالت میں اس ٹیکس کو چیلنج کیا گیا۔

زرمینہ اسرار خان تصویر کے کاپی رائٹ ZARMINA ISRAR KHAN/FACEBOOK

دہلی کی معروف جواہر لال یونیورسٹی (جے این یو) میں پی ایچ ڈی کرنے والی 27 سالہ طالبہ زرمینہ اسرار خان نے دہلی ہائی کورٹ میں سینٹری پیڈس سے جی ایس ٹی ہٹانے کے لیے مفاد عامہ کی عرضی دائر کی تھی۔

جب بی بی سی نے ان سے پوچھا کہ سستے سینیٹری پیڈز کے لیے عدالت کا رخ کیوں کیا تو ان کا کہنا تھا: 'میں اتر پردیش کے پیلی بھیت جیسے چھوٹے قصبے سے آتی ہوں۔ میں نے دیکھا ہے کہ غریب عورتیں کس طرح ماہواری کے دوران اخبار کے ٹکڑے، راکھ اور ریت کا استعمال کرتی ہیں۔

'میں ان کا درد سمجھتی ہوں۔ میں خود ایک لڑکی ہوں اور سوشیالوجی کی طالبہ ہوں۔ میں معاشرے میں عورتوں کے حالات سے اچھی طرح واقف ہوں۔ مجھے معلوم ہے کہ غریب طبقے کی عورتیں کن مشکلات کا سامنا کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ میں نے عدالت جانے کا فیصلہ کیا۔'

یہ بھی پڑھیے

دفاعی بجٹ کا دو فیصد سینٹری پیڈز پر خرچ ہو: اکشے کمار

مانع حمل پر بات کرنے کی ایک دشوار لڑائی

زرمينہ نے بتایا جے این یو میں بھی اس معاملے پر کافی بحث ہوتی تھی لیکن کوئی قدم نہیں بڑھا پا رہا تھا اور آخر کار انھوں نے پہل کی۔

انھوں نے بی بی سی نمائندہ سندھو واسنی کو بتایا: 'میں بہت خوش ہوں۔ اپنے لیے تو خوش ہوں ہی، ان لاکھوں عورتوں کے لیے زیادہ خوش ہوں جو مہنگے سینٹری نیپکن نہیں خرید سکتی تھیں۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں