انڈیا یا لِنچستان؟

انڈیا تصویر کے کاپی رائٹ AFP

کچھ عرصہ پہلے کسی نے ایک کارٹون بنایا تھا کہ ایک سرکاری دفتر میں دوپہر کے وقت کچھ لوگ ایک افسر سے ملنے آتے ہیں، چپراسی سے پوچھتے ہیں کہ صاحب کہاں ہیں؟ جواب ملتا ہے کہ صاحب ’لنچنگ‘ پر گئے ہیں۔

(لِنچنگ یعنی ہجوم کے تشدد میں کسی شخص کو کسی جرم کے شبہہ میں قتل کیا جانا)

انڈیا میں لِنچنگ کے واقعات اتنی پابندی سے پیش آ رہے ہیں کہ کانگریس نے حکمراں بی جے پی پر انڈیا کو ’لِنچستان‘ میں تبدیل کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔

لِنچنگ کے زیادہ تر واقعات گائے کے تحفظ کے نام پر ہوئے ہیں اور حکومت کو اس الزام کا سامنا ہے کہ اس نے انھیں روکنے کے لیے خاطر خواہ کارروائی نہیں کی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

’ہجوم کے ہاتھوں تشدد کے لیے علیحدہ قانون کی ضرورت ہے‘

انڈیا: ہجوم کے ہاتھوں قتل روکنے کی ذمہ داری کس کی؟

ہجوم کے ذریعے تشدد کا فروغ بہت خطرناک

لنچنگ رپبلک آف انڈیا

انڈیا: ہجوم کے ہاتھوں مرتے شخص کے ساتھ سیلفیاں

اس پس منظر میں گذشتہ ہفتے تین بڑی باتیں ہوئیں۔

سپریم کورٹ نے حکومت کو مشورہ دیا کہ وہ ہجوم کے تشدد کو روکنے کے لیے نیا قانون بنانے پر غور کرے۔

حکومت نے واٹس ایپ کو متنبہ کیا کہ اگر اس نے افواہوں کو پھیلنے سے روکنے کے لیے موثر اقدامات نہیں کیے تو اسے جرم میں معاونت کے الزام کا سامنا ہو گا۔ جواب میں واٹس ایپ نے پیغامات کو فارورڈ کرنے پر کچھ پابندیاں عائد کیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

جمعے اور سنیچر کی درمیانی رات میوات کے ایک غریب شخص کو گائے کی سمگلنگ کے الزام میں قتل کر دیا گیا۔

اس نوجوان کا نام رکبر تھا اور اس کا تعلق شمالی ریاست ہریانہ کے میوات علاقے سے تھا لیکن اس پر حملہ راجستھان کے الور ضلع میں کیا گیا جہاں پہلے بھی ایسے تین واقعات پیش آ چکے ہیں۔

واقعہ کی خبر ملنے کے کچھ ہی دیر بعد پولیس جائے وقوع پر پہنچ گئی۔ لیکن رکبر کو تقریباً تین گھنٹے بعد ہسپتال پہنچایا گیا۔ تب تک وہ دم توڑ چکے تھے۔

اب یہ الزام سامنے آ رہا ہے کہ گاؤں والوں کے رکبر پر حملے کے بعد وہ مستقل پولیس کی تحویل میں تھے لیکن انھیں ہسپتال پہنچانے کے بجائے پولیس نے پہلے ان دو گائیوں کو گو شالا پہنچایا جو حملے کے وقت رکبر کے پاس تھیں۔

عینی شاہدین کے مطابق پولیس نے ان کے کپڑے بھی بدلوائے اور راستے میں رک کر چائے بھی پی حالانکہ پسپتال جائے وقوع سے صرف چار کلومیٹر دور تھا۔ اس معاملے میں پولیس کے کردار کی تفتیش کے لیے پولیس کی ہی ایک ٹیم تشکیل دی گئی ہے۔

لیکن اس واقعہ کے بعد ایک وفاقی وزیر نے کہا کہ جیسے جیسے وزیر اعظم نریندر مودی کی مقبولیت بڑھے گی، لنچنگ کے واقعات میں بھی اضافہ ہو گا۔

ان کا خیال ہے کہ یہ حملے ایک سازش کا نتیجہ ہیں حالانکہ گائے کے نام نہاد محافظ بی جے پی سے نظریاتی مماثلت رکھنے والی تنظیموں سے ہی وابستہ مانے جاتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

کانگریس کے رہنما ملک ارجن کھاڑگے کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے انتخابات قریب آ رہے ہیں، لنچنگ کے واقعات میں اضافہ ہورہا ہے، بظاہر ان کا بھی خیال ہے کہ ان واقعات کے پیچھے ایک سازش کارفرما ہے۔

کانگریس اور بی جے پی کے درمیان اس حوالے سے گھمسان کی جنگ جاری ہے۔

راہل گاندی کا کہنا ہے کہ یہ وزیر اعظم نریندر مودی کا نیا بے رحم ہندوستان ہے جہاں لوگوں کو مرنے کے لیے چھوڑ دیا جاتا ہے اور جہاں نفرت نے انسانیت کی جگہ لے لی ہے۔

جواب میں بی جے پی کے سینیئر وزیر پیوش گوئل نے کہا کہ راہل گاندھی نفرت کے سوداگر ہیں اور جب بھی کوئی جرم ہو، انھیں خوشی سے کودنا بند کردینا چاہیے۔

ایک اور وزیر سمرتی ایرانی کا کہنا ہے کہ راہل گاندھی ’گدھوں کی سیاست‘ بند کریں۔

دونوں میں سے جس کا بھی موقف درست ہو، یہ بات تقریباً طے ہے کہ یہ لنچنگ کا آخری واقعہ نہیں تھا۔ انڈیا میں بہت سے لوگ یہ مانتے ہیں کہ ان واقعات کو روکنے کے لیے نئے قانون اور واٹس ایپ پر پابندیوں کی نہیں ایک ایسے نئے ’مائنڈ سیٹ‘ کی ضرورت ہے جہاں گائے کے خود ساختہ محافظوں کے گلے میں پھولوں کی مالائیں نہ پہنائی جائیں، جہاں حکومت کی خاموشی سے انھیں یہ پیغام نہ جائے کہ وہ جو چاہیں کر سکتے ہیں۔

اگلی لِنچنگ کے بعد رکبر کا ذکرختم ہو جائے گا لیکن تب تک یہ سوال باقی رہے گا کہ پولیس نے انھیں ساڑھے تین گھنٹے تک ہسپتال کیوں نہیں پہنچایا؟ گائیوں کو پہلے گو شالا پہنچانا زیادہ ضروری تھا یا ایک زخمی انسان کو ہسپتال؟

اس سوال کے جواب میں ہی شاید اس مسئلہ کا حل بھی چھپا ہے۔

اسی بارے میں