منفی کوریج کے باوجود انڈیا میں عمران کی اچھی شبیہہ

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

پاکستان میں انتخابات کی تکمیل کے بعد اب ایک نئی حکومت کی تشکیل کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ ملک کی عوام نے دونوں بڑی جماعتوں پی پی پی اور پی ایم ایل (این) کو ان انتخابات میں مسترد کر دیا ہے اور عمران خان کی قیادت میں تحریک انصاف پارٹی کو ملک کی قیادت کی ذمہ داری سونپی ہے۔

پاکستان کی انتخابی تاریخ میں یہ ایک نیا آغاز ہے۔ خود پی ٹی آئی نے ایک نئے پاکستان کی تخلیق کا نعرہ دیا ہے۔

انتخابی مہم کے دوران جس طرح سابق وزیر اعظم نواز شریف کو نا اہل قرار دیا گیا اور انھیں جیل کی سزا ہوئی اس سے قومی انتخابات پر شک وشبہات کے بادل منڈلانے لگے تھے، لیکن اس کے برعکس 25 جولائی کے انتخابات کم و بیش شفافیت کے ساتھ انجام پذیر ہوئے۔

ایک طویل اور تلخ انتحابی مہم کے بعد پاکستان کے جمہوری عمل کی یہ سب سے بڑی کامیابی ہے کہ یہ انتخابات خوش اسلوبی سے انجام پذیر ہوئے۔ حالانکہ ان کے بارے میں یورپی یونین اور بعض دیگر مبصرین کی جانب سے سوالات اٹھائے گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

عمران خان کی مودی سے ملاقات، پاکستان آنے کی دعوت

کرکٹ، ڈپلومیسی اور فوج

انڈیا میں پاکستان کے انتخابات کو بہت دلچسپی سے دیکھا گیا ہے، لیکن انڈین میڈیا پاکستان کے انتخابات کی رپورٹنگ میں غیر جانبدار نہیں تھا۔ نتائج آنے کے بعد ٹی وی چینلوں پر جو بحث و مباحثے ہو رہے ہیں اور اخبارات میں جو مضامین شائع ہوئے ہیں ان میں سے بیشتر میں عمران خان کی کامیابی کو پاکستانی فوج کی کامیابی سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔

عمران خان اور نریندر مودی تصویر کے کاپی رائٹ MEA/INDIA

بحث ومباحثے میں تجزیہ کار پی ٹی آئی کے رہنما عمران خان کو فوج اور مذہبی سخت گیروں سے قریب بتاتے ہیں۔ یہاں یہ تصور ہے کہ وزیر اعظم کے طور پر عمران خان کے پاس وہ اختیارات اور طاقت نہیں ہو گی جو ماضی کے وزرائے اعظم کو حاصل رہی ہے۔

انڈین میڈیا کے خیال میں نئی حکومت فوج کے زیادہ زیر اثر ہو گی۔

لیکن بہت سے دوسرے مبصروں کی نظر میں عمران خان کی کامیابی پاکستان کے عوام کی تبدیلی کی خواہش کی غماز ہے۔ یہ ایک بدلتے ہوئے پاکستان کی علامت ہے۔

کئی تجزیہ کاروں نے لکھا ہے کہ عمران خان نے گذشتہ سات، آٹھ برس میں عوام کو موبلائز کرنے کے لیے جتنی محنت کی ہے اتنی محنت شاید ہی کسی دوسرے رہنما نے کی ہو۔

بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ انتخابات میں جس طرح عوام نے مذہبی سخت گیر اور انتہا پسند امیدواروں کو مسترد کیا وہ بھی پاکستان کے انتخابات کا ایک اہم مثبت پہلو ہے۔

یہ بھی پڑھیے

عمران خان کی وکٹری سپیچ: ’سب اداروں کو مضبوط کروں گا‘

’وزیراعظم عمران خان‘

عمران خان نے اپنی پارٹی کی فتح کے بعد انڈین میڈیا کی منفی کوریج کا ضرور ذکر کیا اور کہا کہ انھیں انڈین میڈیا نے بالی وڈ کے ولن کی طرح پیش کیا ہے، لیکن انھوں نے اپنے پہلے بیان میں انڈیا کو دوستی اور امن کی پشکش کی ہے۔

انڈیا میں ان کے بیان کا محتاط خیرمقدم ہوا ہے۔ انڈیا میں عمران خان کی شبیہہ اچھی ہے۔ فوج سے قربت اور سخت گیر مذہبی جماعتوں سے ہمدردی رکھنے جیسے انتسابات کے باوجود عمران خان کو عزت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔

حکومت کی تشکیل کے بعد نئی قیادت کی پہلی ترجیح ملکی معیشت ہو گی لیکن بہت جلد انھیں افغانستان اور انڈیا جیسے پڑوسیوں سے اپنے تعلقات پر توجہ مرکوز کرنی ہوگی۔

خود انڈیا بھی قومی انتخابات کی طرف بڑھ رہا ہے۔ لیکن اس کے باوجود دونوں ملکوں کے تعلقات میں بہتری کے آغاز کا یہ ایک بہترین موقع ہے۔

عمران نے کہا ہے کہ انڈیا اگر ایک قدم بڑھائے گا تو وہ دو قدم بڑھائیں گے۔ ایک طویل تلخ دور کے بعد انڈیا کے لیے بھی یہ ایک نیا موقع ہے کہ وہ نئی حکومت کے ساتھ ایک نئی شروعات کر سکے۔ عمران نے مثبت اشارہ دیا ہے اور اسے انڈیا میں محسوس کیا گیا ہے۔

اسی بارے میں