ڈیولز ایڈووکیٹ: بے نظیر، مشرف، امیتابھ اور اڈوانی کا ذکر

کرن تھاپر

ایسا شاذ و نادر ہی ہوتا ہے کہ دنیا کی دو معروف یونیورسٹیوں کی یونین کے صدر برصغیر پاک و ہند سے ہوں۔ ان میں سے ایک کا تعلق انڈیا سے تو دوسرے کا پاکستان سے ہو۔

ایسا اتفاق سنہ 1977 میں ہوا جب بعد میں ایک مشہور صحافی بننے والے کرن تھاپر کیمبرج یونین سوسائٹی کے صدر بنے اور پاکستان کی سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو آکسفورڈ یونیورسٹی کی یونین صدر منتخب ہوئيں۔

دونوں کے درمیان پہلی ملاقات ان کے انتخاب سے چند ماہ قبل ہوئی تھی۔ اس وقت بینظیر آکسفورڈ یونین کی خزانچی اور کرن کیمبرج یونین کے نائب صدر تھے۔

کرن نے بینظیر بھٹو سے اپنی دوستی کے بارے میں بتایا: 'میں اب بھی یاد کرتا ہوں جب بینظیر کیمبرج میں آئیں اور یہ تجویز رکھی کیوں نہ 'شادی سے پہلے جنسی تعلقات' جیسے موضوع پر مباحثہ کرایا جائے۔

کسی بھی خاتون کے لیے یہ ایک 'بولڈ' موضوع تھا اور وہ بھی جو پاکستان کی سیاست میں کچھ کرنے کا حوصلہ رکھتی ہو۔

کرن کہتے ہیں، ’جب اس پر پہلی بار بات ہوئی تو میں نے مجلس میں ہی بینظیر سے مذاقاً کہا کہ میڈم جو آپ کہہ رہی ہیں اس پر آپ اپنی ذاتی زندگی میں عمل کرنے کی ہمت رکھتی ہیں؟‘

اس پر وہاں موجود لوگوں نے زور کا قہقہ لگایا اور تالیاں بجانی شروع کر دی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

کرن نے کہا: 'بے نظیر نے تالیوں کے رکنے کا انتظار کیا۔ اپنے چہرے سے عینک اتاری، ناک چڑھائي اور میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولیں، ضرور لیکن آپ کے ساتھ نہیں‘۔

آئس کریم کی شوقین بینظیر بھٹو

ایسٹر کی تعطیلات میں بینظیر کا کرن کو فون آیا۔ اس وقت دونوں یونین کے سربراہ تھے۔ بے نظیر نے پوچھا: 'کیا میں اپنی دوست الیسیا کے ساتھ کچھ دنوں کے لیے کیمبرج آ سکتی ہوں؟'

اس وقت ہاسٹل کے اکثر طالب علم گھر جا چکے تھے. بینظیر کو ٹھہرانے کا کوئی مسئلہ نہیں تھا لہذا کرن نے ہامی بھر لی۔

کرن نے کہا: 'کیمبرج میں اپنے قیام کے آخری دن بے نظیر نے ہم سب کے لیے اپنے ہاتھوں سے کھانا پکایا اور کیا مزیدار کھانا تھا وہ! کافی پینے کے بعد اچانک بینظیر نے کہا تھا چلو آئس کریم کھانے چلتے ہیں۔ ہم سب لوگ ان کی بہت ہی چھوٹی ایم جی کار میں کسی طرح سمائے۔ ہم سمجھے کہ ہم آئس کریم کھانے کیمبرج جا رہے ہیں لیکن سٹیئرنگ سنبھالتے ہی بینظیر نے گاڑی لندن کی طرف موڑ دی۔ وہاں ہم سب نے بیسکن رابن کی آئس کریم کھائی اور رات ڈیڑھ بجے کیمبرج واپس لوٹے۔

بینظیر پاکستان سے جلاوطنی کے بعد لندن میں رہنے لگیں۔ کیمبرج سے شروع ہونے والی دوستی مضبوط ہوتی گئی۔ ایک دن بینظیر نے کرن سے پوچھا آپ مجھے اپنے گھر کیوں نہیں بلاتے؟

کرن کہتے ہیں 'اس کے بعد بینظیر مستقل ان کے گھر آنے لگيں۔ میری اہلیہ نشا کی بھی بینظیر سے دوستی ہو گئی‘۔

کرن نے امیتابھ سے ریکھا کے بارے میں کیا پوچھا؟

تصویر کے کاپی رائٹ AMITABH BACHCHAN TWITTER

انڈیا واپس آنے کے بعد امیتابھ بچن کے ساتھ انٹرویو کے بعد کرن تھاپر کو بہت شہرت ملی۔

کرن نے بتایا: 'ہم نے فیصلہ کیا کہ امیتابھ کی 50 ویں سالگرہ کے موقع پر ہم ان کے ساتھ ایک طویل انٹرویو کریں گے۔ انٹرویو کے دوران جب ایک چھوٹا بریک ہوا تو امیتابھ نے مجھ سے کہا کہ ایک بار وارن بیٹی کے ساتھ ایک انٹرویو کیا گیا جس میں ان کی لَو لائف کے بارے میں بہت سے سوالات کیے گئے تھے‘۔

انھوں نے کہا: میں نے محسوس کیا کہ شاید امیتابھ چاہتے ہیں کہ میں بھی ان سے اس طرح کے سوال پوچھوں۔ میں نے ان سے پوچھا کہ شادی کے بعد کسی عورت سے عشق ہوا۔ امیتابھ نے بغیر پلک جھپکائےجواب دیا، 'نہیں، کبھی نہیں‘۔ میں نے پھر پوچھا: 'ریکھا سے بھی نہیں؟ امیتاب نے جواب دیا، اس سے بھی نہیں‘۔

پھر کرن نے امیتابھ کے پاس بیٹھی ان کی بیوی جیا بہادری سے پوچھ لیا کہ کیا امیتابھ جو کہہ رہے ہیں اس پر آپ کو یقین ہے؟

جیا نے جواب دیا: 'میں ہمیشہ اپنے شوہر پر بھروسہ کرتی ہوں‘۔

کرن بتاتے ہیں 'بات وہیں پر ختم نہیں ہوئی۔ امیتابھ بچن نے اصرار کیا کہ انٹرویو کے بعد ہم کھانے کے لیے انتظار کریں۔ جب ہم کھانے کے کمرے میں پہنچے تو امیتابھ بچن کا اب تک کا ضبط ٹوٹ چکا تھا اور وہ آتش فشاں کی طرح پھٹ پڑے اور اس کی ابتدا اس وقت ہوئی جب جیا نے اس سے پوچھا آپ چاول لینا چاہیں گے؟'

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

کرن نے بتایا: 'جیا کا یہ پوچھنا تھا کہ امیتابھ نےغصے میں جواب دیا، آپ کو معلوم ہے کہ میں چاول نہیں کھاتا‘۔ جیا نے کہا 'میں چاول کھانے کے لیے اس وجہ سے پوچھ رہی ہوں کیونکہ روٹی آنے میں ابھی تھوڑی دیر ہے‘۔ جب تک امیتابھ کا غصہ ساتویں آسمان پر تھا، اس نے کہا، تم جانتی ہو، میں چاول کبھی نہیں کھاتا۔

کرن کہتے ہیں 'اب ہماری سمجھ میں آنے لگا تھا کہ میرے سوالات سے پیدا ہوئے غصے کو امیتابھ نے جس طرح روک کر رکھا تھا، وہ اب باہر آ رہا تھا۔

اس واقعے کے اگلے دن جب کرن دہلی پہنچے تو ان سے ان کی مالکن شوبھنا بھارتيہ نے کہا کہ وہ اپنے انٹرویو سے امیتابھ کے عشق والا سوال ہٹا دیں۔

کرن کہتے ہیں ’میں نے وہ حصہ ہٹا بھی دیا لیکن مجھے یہ چیز پسند نہیں آئی۔ میں نے اپنے ایک صحافی دوست آنند سہائے سے رابطہ کیا جو اس وقت پایونیر اخبار میں کام کرتے تھے۔ انھوں نے یہ خبر اپنے اخبار میں پورے آٹھ کالم کے ساتھ شائع کی۔ انھوں نے اس خبر میں میرا نام نہیں لیا لیکن اس کا ماخذ میں ہی تھا۔ شوبھنا کو اس کا احساس ہو گیا۔ وہ مجھ تھوڑی ناراض بھی ہوئیں،= لیکن یہ ناراضگی بہت دنوں نہیں رہی‘۔

پاکستان ہائی کمشنر کے ساتھ اڈوانی کی خفیہ ملاقات

تصویر کے کاپی رائٹ PTI

سنہ 2000 کے آغاز میں اشرف جہانگیر انڈیا میں پاکستان کے ہائی کمشنر مقرر ہوئے۔

اس وقت وہ انڈیا کے نائب وزیر اعظم ایل کے اڈوانی کے ساتھ اپنے تعلقات کو مضبوط بنانے کے خواہاں تھے۔

کرن تھاپر نے بتایا: 'مجھے یہ ذمہ داری دی گئی کہ میں اشرف جہانگیر کو اپنی گاڑی میں بٹھا کر اڈوانی کے پنڈارا پارک والے گھر پر لے جاؤں۔ میں رات کے دس بجے انھیں لے کر وہاں گیا۔ یہ خفیہ ملاقات تقریباً ڈیڑھ گھنٹے تک جاری رہی۔ اس کے بعد اگلے 18 مہینے میں اڈوانی اور اشرف نے تقریباً 30۔20 بار ملاقات کی۔

مئی سنہ 2001 میں انڈیا نے اعلان کیا کہ اس نے جنرل مشرف کو یہاں آنے کے لیے مدعو کیا ہے.

وہ کہتے ہیں: 'ایک دن ساڑھے چھ بجے صبح میرا فون بجا۔ اڈوانی لائن پر تھے، انھوں نے کہا کہ آپ نے مشرف کی خبر سنی ہو گی۔ آپ اپنے دوست کو بتائیے کہ اس کا کچھ سہرا ہم دونوں کی ملاقات کو جاتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ karan thapar

دلچسپ بات یہ ہے کہ جب مئی سنہ 2002 میں جموں کے پاس كالوچك قتل کا معاملہ واقع ہوا تو حکومت ہند نے قاضی اشرف جہانگیر کو واپس پاکستان بھیجنے کا فیصلہ کیا۔

کرن بتاتے ہیں 'اشرف کے پاکستان واپس جانے سے ایک دن پہلے اڈوانی کی بیوی کملا کا میرے پاس فون آیا کہ کیا آپ اشرف صاحب اور ان کی بیوی عابدہ کو میرے یہاں چائے پینے لا سکتے ہیں؟ میری سمجھ میں نہیں آیا کہ ایک طرف حکومت ہند اس شخص کو اپنے ملک سے باہر بھیج رہی ہے اور دوسری جانب نائب وزیر اعظم اسی شخص کو چائے پر بلا رہے ہیں‘۔

بہرحال میں ان کو لیکر اڈوانی کے یہاں پہنچ گیا۔ ہم لوگوں نے اڈوانی کی سٹڈی میں چائے پی۔ رخصت لیتے وقت جب اشرف اڈوانی کی طرف ہاتھ ملانے بڑھے تو کملا نے کہا گلے ملو۔ دونوں شخص یہ سن کر حیران رہ گئے۔ انھوں نے ایک ساتھ ان کی طرف دیکھا۔ کملا اڈوانی نے پھر کہا، گلے ملو۔ اڈوانی اور اشرف نے ایک دوسرے کو گلے لگایا۔ میں اڈوانی کے پیچھے کھڑا تھا۔ میں نے دیکھا کہ اڈوانی کی آنکھیں آنسوؤں سے بھری ہوئی ہیں۔

جنرل مشرف نے کرن کو اپنی ٹائی دے دی

سنہ 1999 میں انڈین ایئر لائنز کے ایک ہوائی جہاز کے طیارے کے ہائي جیک کے چند ہفتے بعد جنرل پرویز مشرف کرن تھاپر کو انٹرویو دینے کے لیے راضی ہو گئے۔

چونکہ یہ انٹرویو انڈین سرکاری ٹی وی دور درشن کے لیے کیا جانا تھا اس لیے کرن سے بہت جارحانہ انٹرویو لینے کے لیے کہا گیا۔

کرن نے انٹرویو کو یاد کرتے ہوئے کہا: 'میں نے مشرف پر سوالوں کی بوچھار کر دی۔ کمرشل وقفے کے دوران میں نے ماحول کو ہلکا بنانے کے لیے کہا، جنرل صاحب، آپ نے بہت اچھی ٹائی پہن رکھی ہے۔ مشرف کو یہ تعریف بہت پسند آئی جیسے ہی انٹرویو ختم ہوا، انھوں نے اپنی ٹائی اتار کر میرے ہاتھوں میں رکھ دی۔ انھوں نے میری ایک نہیں سنی اور کہا کہ یہ ٹائی اب سے تمہاری ہوئی۔ میں نے بھی مذاق کیا کہ مجھے پتہ ہوتا کہ آپ ہر وہ چیز دے دیتے ہیں جس کی تعریف کی جائے تو میں میں اس ٹائی سے منسلک سونے کے ٹائی پن کی تعریف کرتا‘۔

کرن کہتے ہیں: 'مشرف نے اس پر قہقہ لگایا اور کہا اگر آپ میرے جوتے پسند کرتے ہیں تو وہ بھی آپ کو مل جاتے‘۔

کرن تھاپر کی حال میں ایک کتاب 'ڈیولز ایڈوکیٹ' آئی ہے اور انھوں نے اس کتاب میں ان کے علاوہ نریندر مودی اور سیاستداں بننے والی اداکارہ جے للتا کا انٹرویو چھوڑ کر چلے جانے کا ذکر بھی کیا ہے۔

اسی بارے میں