کیا اتنے زیادہ لوگوں کو غیر قانونی قرار دینے سے آسام میں تشدد بھڑک سکتا ہے؟

آسام تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

نسلی اعتبار سے انڈیا کی متنوع ریاست آسام میں شناخت اور شہریت کا معاملہ ایک عرصے سے لوگوں پر اثرانداز ہوتا رہا ہے۔

اس ریاست میں بنگالی بولنے والے، آسامی بولنے والے اور بڑی تعداد میں مختلف قسم کے قبائل آباد ہیں۔

ریاست کی تین کروڑ 20 لاکھ آبادی کا ایک تہائی مسلمان ہیں۔ بھارتی زیرِ انتظام کشمیر کے علاوہ یہ کسی بھی انڈین ریاست میں مسلمانوں کی سب سے بڑی تعداد ہے۔ ان کا بڑا حصہ ان لوگوں پر مشتمل ہے جو انگریزوں کے دور میں دوسرے علاقوں سے یہاں آ بسے تھے۔

اسی بارے میں

آسام: لاکھوں مسلمانوں کے بے وطن ہونے کا اندیشہ

اس کے علاوہ پڑوسی ملک بنگلہ دیش سے غیرقانونی تارکین وطن کی آمد کئی عشروں سے مسئلہ بنی رہی ہے۔

1980 کی دہائی میں اسی سلسلے میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں سینکڑوں لوگ مارے گئے جس کے بعد 1985 میں ایک معاہدہ ہوا۔ اس کے تحت یہ طے پایا کہ جو شخص 24 مارچ 1971 کے بعد بغیر دستاویزات کے آسام میں داخل ہوا ہو، اسے غیر ملکی تصور کیا جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اب شہریوں کے ایک متنازع قومی رجسٹر کے مطابق آسام میں رہنے والے 40 لاکھ کے قریب لوگ غیر قانونی غیر ملکی قرار دیے گئے ہیں۔

اس کے علاوہ عدالتوں نے گذشتہ چند برسوں کے دوران ایک ہزار کے لگ بھگ لوگوں کو غیر ملکی قرار دیا ہے، جن کی بڑی تعداد بنگالی مسلمانوں پر مشتمل ہے۔ ان لوگوں کو نصف درجن کے قریب عارضی کیمپوں میں رکھا گیا ہے۔

اس سے کئی خاندانوں کے افراد ایک دوسرے سے بچھڑ گئے ہیں۔ اب خدشہ ہے کہ دسیوں لاکھ لوگوں کو بیک جنبشِ قلم غیرملکی قرار دینے سے آسام میں تشدد بھڑک سکتا ہے، کیوں کہ یہ ریاست پہلے ہی شورش زدہ ہے۔

ریاست میں وزیرِ اعظم نریندر مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت ہے جو پہلے ہی کہہ چکی ہے کہ غیر قانونی مسلمان پناہ گزینوں کو ملک بدر کر دیا جائے گا۔

تاہم بنگلہ دیش ان لوگوں کو واپس لینے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔

خدشہ ہے کہ کہیں انڈیا بھی بے وطن لوگوں کا اسی طرح کا بحران نہ کھڑا کر دے جیسا برما کے روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ ہوا ہے۔

اس فیصلے کے بعد وہ لوگ جو کئی عشروں سے آسام میں مقیم ہیں، اچانک ووٹ دینے، جائیداد خریدنے یا سرکاری سہولیات سے استفادہ کرنے سے محروم ہو جائیں گے۔ جن لوگوں کے پاس پہلے ہی سے جائیداد ہے، وہ آس پاس کے لوگوں کے رحم و کرم پر رہ جائیں گے۔

اقوامِ متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے کے مطابق دنیا میں ایک کروڑ کے قریب بےوطن لوگ موجود ہیں، اب ان میں یکایک اضافہ انڈیا کے لیے خجالت کا باعث ہو گا۔

وکلا کہتے ہیں کہ جو لوگ اس فیصلے سے متاثر ہوئے ہیں وہ عدالتوں کا رخ کر سکتے ہیں، لیکن دسیویں لاکھ لوگوں کے مستقبل کا فیصلہ کرنے میں برسوں بلکہ عشروں کا وقت صرف ہو جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

مصنف سبیر بھومک کہتے ہیں کہ 'انتشار کے امکانات بےتحاشا ہیں۔ اقلیتوں میں بےچینی پھیل گئی ہے۔ بنگلہ دیش کو خدشہ ہے کہ پناہ گزین وہاں آنا شروع ہو جائیں گے۔ پناہ گزین کیمپوں میں بند لاکھوں لوگوں کی صورتِ حال پر بین الاقوامی تنقید ہو گی اور خزانے پر بوجھ پڑے گا۔'

ریاست کی آبادی ملک کی نسبت کہیں زیادہ تیزی سے بڑھ رہی ہے، جس سے شک پیدا ہوتا ہے کہ بنگلہ دیش کی سرحد سے بڑی تعداد میں لوگ یہاں آ رہے ہیں۔

اس سے ریاست میں مکانوں کا حجم گھٹتا جا رہا ہے اور بہت سے لوگ ایسے ہیں جن کے پاس کوئی جائیداد نہیں ہے۔

تخمینوں کے مطابق ریاست میں 40 لاکھ سے لے کر ایک کروڑ غیرقانونی طور پر مقیم افراد موجود ہیں۔ ان کی بڑی تعداد کھیتوں پر کام کرتی ہے۔

1985 کے بعد سے ایک سو خصوصی عدالتوں نے 85 ہزار کے قریب لوگوں کو غیر ملکی قرار دیا ہے، تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ بی جے پی نے جان بوجھ کر اس معاملے کو مذہبی رنگ دے دیا ہے، تاکہ آنے والے انتخابات میں کامیابی حاصل کی جا سکے۔

بی جے پی کا کہنا ہے کہ غیر قانونی مسلمانوں کو بےدخل کیا جائے گا جب کہ غیر قانونی ہندوؤں کو نہیں چھیڑا جائے گا۔

آسام کے معروف سماجی سائنس دان اور مصنف ہرین گوہین کہتے ہیں کہ 'شہریت کا معاملہ آسام کی سیاست کا مرکزی موضوع بن گیا ہے۔ جب تک اسے حل نہیں کیا جائے گا، بات آگے نہیں بڑھ سکتی۔'

اسی بارے میں