’کفن بول پڑا، نشہ بھگاؤ، بیٹے بچاؤ‘: پنجابی والدین کا انوکھا احتجاج

مختیار سنگھ اور بھوپندر کور تصویر کے کاپی رائٹ Ravinder singh robin/bbc
Image caption مختیار جس علاقے کے رہائشی ہیں وہ نہ صرف پنجاب میں ماضی میں شدت پسندی کا مرکز رہا ہے بلکہ اسے منشیات کے عادی افراد کی جنت بھی کہا جاتا ہے

’کفن بول پڑا‘ کسی بھی کتاب یا مضمون کا عنوان نہیں بلکہ اس شخص کا درد ہے جو منشیات کی لعنت کی وجہ سے اپنے 27 سالہ بیٹے سے محروم ہو گیا ہے۔

انڈین پنجاب کے ضلع ترن تارن کی تحصیل پتی کے 50 سالہ لائن مین مختیار سنگھ کا بڑا بیٹا منجیت مارچ 2016 میں زیادہ مقدار میں منشیات لینے کی وجہ سے ہلاک ہو گیا تھا۔

جواں سال بیٹے کی موت کے بعد مختیار نے منشیات کے عادی دیگر افراد کے بچاؤ اور لوگوں کو منشیات کے اثرات سے آگاہ کرنے کو اپنا نصب العین بنا لیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

’پنجاب میں چھٹا دریا نشے کا ہے‘

منشیات میں ڈوبے سرحدی دیہات

’ذہنی اور دوستوں کا دباؤ منشیات کے استعمال کی اہم وجہ‘

انھوں نے اس مہم کے لیے ایک انوکھا انداز اپنایا ہے اور وہ ایک کفن اوڑھے علاقے میں موجود منشیات کے عادی افراد کے پاس جاتے ہیں اور انھیں بتاتے ہیں کہ اگر انھوں نے یہ عادت ترک نہ کی تو جلد ہی یہ کفن ان کے جسم پر ہو سکتا ہے۔

مختیار جس علاقے کے رہائشی ہیں وہ نہ صرف پنجاب میں ماضی میں شدت پسندی کا مرکز رہا ہے بلکہ اسے منشیات کے عادی افراد کی جنت بھی کہا جاتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Ravinder singh robin/bbc
Image caption مختیار کی اہلیہ بھوپندر کور بھی ان کے ساتھ ہیں جو اپنے بیٹے کی تصویر اٹھائے ان کے ساتھ ساتھ چلتی ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق یہاں ہر تیسرے گھر میں منشیات کے عادی افراد موجود ہیں۔

ترن تارن میں اب مختیار کو ’کفن والا بندہ‘ کہا جاتا ہے جو ’کفن بول پڑا، نشہ بھگاؤ، بیٹے بچاؤ‘ کا نعرہ لگاتے ہوئے منشیات کے خلاف عوامی بیداری کی مہم چلا رہے ہیں۔

اس مہم میں مختیار کی اہلیہ بھوپندر کور بھی ان کے ساتھ ہیں جو اپنے بیٹے کی تصویر اٹھائے ان کے ساتھ ساتھ چلتی ہیں۔

یہ دونوں گھر گھر جاتے ہیں اور لوگوں سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ اپنے بچوں کو منشیات سے بچائیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Ravinder singh robin/bbc
Image caption مختیار کا کہنا ہے کہ منشیات کی وجہ سے مرنے والے افراد کا صحیح ڈیٹا بھی موجود نہیں

مختار سنگھ کا کہنا ہے کہ ’میں نہیں چاہتا کہ کوئی بھی اور نوجوان منشیات کی لت میں مبتلا ہو لہٰذا میں گھر گھر جا کر لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ اپنے بچوں کو منشیات سے بچائیں۔ میری بیوی میرے بیٹے کی موت سے بےموت ماری گئی ہے لیکن وہ اب بھی اس مہم میں میرے ساتھ جاتی ہے۔‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’ہم کسی سیاسی جماعت سے تعلق نہیں رکھتے ہم تو ایک بےبس بچے کے والدین ہیں اور نہیں چاہتے کہ کسی اور بچے کے والدین کو یہ دکھ سہنا پڑے۔‘

انھوں نے اس بارے میں وزیراعظم نریندر مودی کو ایک خط بھی لکھا ہے، اگرچہ وہ نہیں جانتے کہ یہ خط وزیراعظم کو ملا ہے کہ نہیں.

وہ کہتے ہیں کہ جب انھیں علم ہوا کہ ان کا بیٹا منشیات کا عادی ہو چکا ہے تو اسے بچانے کے لیے انھوں نے ہر ممکن کوشش کی مگر انھیں ناکامی ہوئی اور اس کا انجام بہت برا تھا۔

انھیں افسوس ہے کہ انھیں منشیات کے خطرے کے خلاف مہم میں حکومت سے کوئی تعاون نہیں مل رہا۔ ان کا خیال ہے کہ پنجاب میں منشیات کی سمگلنگ روکنے کے سلسلے میں حکومتیں ناکام رہی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Ravinder singh robin/bbc
Image caption دونوں گھر گھر جاتے ہیں اور لوگوں سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ اپنے بچوں کو منشیات سے بچائیں

ستنام کور، جو مختیار سنگھ کی مہم سے واقف ہیں، کہتے ہیں کہ وہ منشیات کے خلاف لوگوں کو بیدار کر کے اچھا کام کر رہے ہیں.

مختیار کا کہنا ہے کہ منشیات کی وجہ سے مرنے والے افراد کا صحیح ڈیٹا بھی موجود نہیں اور ڈیتھ سرٹیفیکیٹ پر بھی جو وجوہات پرنٹ کی گئی ہیں ان میں بھی منشیات کے استعمال کا ذکر نہیں۔ مختیار کے مطابق وہ اس سلسلے میں بھی ایک مہم چلا رہے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’ہم صرف لوگوں میں منشیات کی لت کے بارے میں آگاہی پھیلانا چاہتے ہیں کیونکہ منشیات ہی بہت سے جرائم اور سماجی برائیوں کی جڑ ہیں۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں