افغانستان: کابل میں انڈین شہری سمیت تین غیر ملکی شہریوں کو اغوا کر کے قتل کر دیا گیا

کابل میں سکیورٹی اہلکار تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption افغانستان میں جرائم پیشہ گینگ اور شدت پسند گروپ مقامی افراد کے علاوہ غیر ملکیوں کو بھی نشانہ بناتے ہیں

افغانستان میں سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ تین غیر ملکی شہریوں کو اغوا کرنے کے بعد گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا ہے۔

کابل پولیس کے ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ تینوں غیر ملکیوں کو کابل میں ان کی گاڑی سے اغوا کیا گیا اور بعد میں ان کی لاشیں ضلع موسوی سے برآمد ہوئی ہیں۔

اس واقعے کی تحقیقات کرنے والے اہلکاروں نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ غیر ملکی شہری اپنی گاڑی میں ایئر پورٹ جا رہے تھے جب انھیں اغوا کیا گیا۔

ابھی تک کسی گروپ نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

اطلاعات کے مطابق ہلاک ہونے والے شہری کھانے پینے کی اشیا فراہم کرنے والی فرانسیسی کمپنی سوڈکسو کے لیے کام کرتے تھے۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

امریکہ کی افغان طالبان سے بات چیت کی خواہش کیوں؟

جنگ بندی: افغان حکام اور طالبان کے درمیان خفیہ ملاقاتیں

’پاکستان کا طالبان پر پہلے جیسا اثر و رسوخ نہیں رہا‘

’طالبان افغانستان کے 70 فیصد علاقے کے لیے خطرہ‘

سکیورٹی حکام نے برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کو بتایا کہ ہلاک ہونے والوں کے شناختی کارڈ بھی برآمد ہوئے ہیں اور ان کی کمپنی سے تصدیق بھی کرائی گئی ہے

اطلاعات کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں ملائیشیا (64 سال)، انڈیا (39 سال) اور مقدونیہ (37 سال) کے شہری شامل ہے۔

افغانستان میں مقامی لوگوں کو اکثر اوقات تاوان کے لیے اغوا کیا جاتا ہے جبکہ جرائم پیشہ گینگ اور شدت پسند گروپ غیر ملکیوں کو بھی نشانہ بناتے ہیں۔

اگست 2016 میں کابل میں واقع امریکن یونیورسٹی کے ایک امریکی اور ایک آسٹریلوی پروفیسر کو اغوا کیا گیا تھا۔

جنوری 2017 میں طالبان نے مغویوں کی ویڈیو جاری کی تھی جس میں اس وقت نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے قیدیوں کے بدلے رہائی کی اپیل کی گئی تھی۔

کابل میں متعدد واقعات میں نہ صرف مقامی شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں کو شدت پسندی کے واقعات میں نشانہ بنایا جا چکا ہے بلکہ غیر ملکی شہریوں پر بھی متعدد حملے ہو چکے ہیں۔

خیال رہے کہ افغانستان میں طالبان شدت پسندوں کا سب سے بڑا گروپ ہے جبکہ حالیہ کچھ برسوں میں خود کو دولتِ اسلامیہ کہنے والے شدت پسند گروپ نے بھی متعدد پرتشدد کارروائیوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں