انڈیا: کیا سزائے موت ریپ کے واقعات روک سکتی ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

انڈیا کی پارلیمان کے ایوانِ زیریں نے ایک بل منظور کیا ہے جس کے تحت 12 سال سے کم عمر بچوں کا ریپ کرنے والوں کو موت کی سزا دی جائے گی۔

بچوں کے خلاف جنسی جرائم کی روک تھام کے ایکٹ میں یہ ترمیم وومن اینڈ چائلڈ ڈیویلپمنٹ کی وزیر مانیکا گاندھی کی ایما پر کی گئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس طرح سے بچوں کے خلاف جرائم کو روکا جا سکتا ہے۔

یہ ترمیم ایک ایسے وقت پر کی گئی ہے جب بچوں کے خلاف جرائم کے چند ہائی پروفائل کیسز سامنے آئے جن میں انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کی آٹھ سالہ بچی کے ریپ اور قتل کا واقعہ، اور حال ہی میں انڈین ریاست مدھیا پردیش میں نوجوان لڑکی کے ریپ کا کیس سامنا آیا۔

انڈیا کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بچوں کے خلاف جنسی زیادتی کے رپورٹ ہونے والے کیسز کی تعداد 2012 میں 8541 تھی جو 2016 میں بڑھ کر 19765 تک پہنچ گئی۔

سال 2013 میں دلی میں چلتی بس میں ریپ کے بعد قتل کے واقعے پر بڑھتے غم و غصے پر حکومت نے اعلان کیا تھا کہ ریپ کے بعد قتل کرنے والے مجرمان کو سزائے موت دی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیے

انڈیا میں نیا قانون: بچیوں کے ساتھ ریپ کی سزا موت قصور ریپ کیسز: عائشہ سے زینب تک

کیا کوئی عورت دوسری عورت کا ریپ کر سکتی ہے؟

آدمی ریپ کیوں کرتے ہیں؟

تاہم اب اس نئی ترمیم کے تحت عدالت 12 سال سے کم عمر کے بچے کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے والے مجرم کو سزائے موت سنائے گی، چاہے اس متاثرہ بچے کی موت ہوئی ہو یا نہیں۔

قانون میں یہ نئی تبدیلیاں تو کر دی گئی ہیں لیکن انڈیا میں بہت کم ہی سزائے موت پر عمل درآمد ہوتا ہے۔ گذشتہ دہائی میں ایسا صرف تین بار ہی ہوا ہے۔

انڈیا میں آخری بار سزائے موت پر 30 جولائی 2015 میں عمل درآمد ہوا تھا۔

جہاں بہت سے افراد کی جانب سے اس اقدام کا خیرمقدم کیا گیا ہے وہیں اس ترمیم کو انسانی حقوق کے کارکنوں کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے جن کا کہنا ہے کہ کیا سزائے موت ہی واحد مؤثر اقدام رہ گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

یہ ایسا سوال ہے جس پر دنیا بھر میں بحث کی جا رہی ہے کہ کیا سزاؤں کو سخت کرنے سے واقعی میں جرائم میں کمی ہوتی ہے؟

جرائم کرنے سے روکنا؟

پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان میں ریپ کی سزا موت دی جاتی ہے اور بہت سے انڈین جو سزائے موت کے حق میں ہیں اکثر ان ممالک کے حوالے دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ ممالک ’ریپ کو برداشت نہیں کرتے‘۔ ایک عام تاثر یہ بھی ہے کہ ان ممالک میں ریپ کے واقعات کم پیش آتے ہیں۔

اس خطے کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ریپ کے کیسز میں سزائے موت کو لاگو کرنے کے خلاف ایک بڑی بحث یہ بھی ہے کہ اس سے نظام کو سزائیں دینے سے روکا جاتا ہے۔

لاہور کی غیر سرکاری لیگل رائٹس فرم جسٹس پراجیکٹ پاکستان کی زینب ملک نے بی بی سی کو بتایا کہ ’قانون میں بھی ریپ کو دہشت گردی کے برابر ہی دیکھا جاتا ہے، کچھ بھی تبدیل نہیں ہوا ہے۔ ریپ اور اجتماعی زیادتی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے جبکہ سزائیں دینے کی شرح بہت ہی کم ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے

انڈیا: ریپ کے بعد متاثرہ لڑکی کو جلا دیا گیا

انڈیا: ریپ معاشرے کی بےحسی کا عکاس

انڈیا: کیا بچوں کے خلاف جنسی جرائم بڑھ رہے ہیں؟

ان کا کہنا ہے کہ یہ اس لیے ہے کہ ’پولیس خواتین کے معاملے میں تعصب سے کام لیتی ہے اور یہاں تک کہ گینگ ریپ کا مقدمہ تک درج نہیں کرتی کیونکہ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ بہت سے مردوں کو سزائے موت دلوانا۔ اس سے بچنے کے لیے اکثر کسی ایک شخص کے خلاف مقدمہ درج کیا جاتا ہے۔‘

انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ بہت سے کیسز میں ایسا ہوتا ہے کہ پولیس ہی ثاثلی کرتی ہے، متاثرین کو سمجھوتا کرنے کا کہتی ہے، دھمکایا جاتا ہے یا شکایت واپس لینے کے لیے دھمکایا جاتا ہے تاکہ ملزم کو ’سزا کے کم امکان‘ کی بنیاد پر چھوڑ دیا جائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

بنگلہ دیش میں بھی کچھ ایسی ہی صورتحال ہے جہاں پارلیمان خواتین اور بچوں کے خلاف ظلم کا خصوصی ایکٹ سنہ 1995 میں لائی تاکہ ریپ، اجتماعی زیادتی، تیزاب پھینکنے اور بچوں کی سمگلنگ جیسے جرائم کے خلاف سخت سزائیں جن میں موت کی سزا شامل ہے دی جا سکیں۔

لیکن یہاں بھی سخت سزاؤں کا مطلب یہ ہے کہ ملزم کو ’ناکافی شواہد‘ کی بنا پر چھوڑ دیا جائے کیونکہ کوئی کم سزا دینے کا آپشن ہی نہیں ہوتا۔

’متاثرین کے لیے مزید بوجھ‘

اسی مسئلے پر بہت سے انسانی حقوق کے انڈین کارکنوں نے آواز بلند کی ہے جو ریپ کے لیے سزائے موت دینے کے خلاف ہیں۔

پراجیکٹ 39 اے کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ڈاکٹر انوپ سرندراناتھ کا کہنا ہے کہ ’ایسے واقعات کا کم رپورٹ ہونا بھی مسئلہ ہے کیونکہ اکثر جرم کا ارتکاب کرنے والے متاثرین کے جاننے والے ہوتے ہیں اور اس میں پھر بہت سی ایسی چیزیں کردار ادا کرتی ہیں جن کی وجہ سے متاثرین یا ان کے سرپرست اس جرم کے خلاف رپورٹ نہیں کرتے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ایسی صورتحال میں سزائے موت ان کے لیے ’اضافی بوجھ‘ بن جاتا ہے کیونکہ متاثرہ شخص کو اس بات سے بھی نمٹنا پڑتا ہے کہ جس شخص کو وہ جانتے ہیں اسی کو پھانسی کے پھندے پر بھیج رہے ہیں۔‘

یہ بھی پڑھیے

انڈیا کے ’ریپ گرو‘ کے شاہانہ ٹھاٹ باٹ: تصاویر

انڈیا: ریپ کی متاثرہ خاتون دو سال بعد بھی انصاف کی منتظر

اس کے علاوہ ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ خاص طور پر بہت سے دیہی علاقوں میں ریپ کے ساتھ ایسا داغ لگ جاتا ہے جس کی وجہ سے سخت قوانین کے باوجود ریپ کا نشانہ بننے والے آگے آنے کی کوشش تک نہیں کرتے۔

انڈیا نے اپنے قوانین میں ترمیم خواتین کے خلاف تشدد سے نمٹنے والے حکام اور پولیس کا احتساب بڑھانے کے لیے کی ہے جس کا مثبت اثر پڑا ہے۔

لیکن اس تبدیلی کی رفتار سست ہے اور تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ انڈیا میں اب بھی بڑی تعداد میں ریپ کے کیسز رپورٹ نہیں ہو رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

افغانستان انڈیپینڈنٹ ہیومن رائٹس کمیشن کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر محمد موسیٰ محمودی کا کہنا ہے کہ سزائے موت خود ریپ کو روکنے یا خواتین کو نظام انصاف سے مدد حاصل کرنے کے لیے اعتماد دینے کے لیے ناکافی ہے۔

’انصاف کے لیے برسوں انتظار کیا‘

انصاف کے نظام کی سست رفتار کو بھی ایک مسئلے کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

انڈیا میں طویل عرصے تک مقدمات کے چلنے کا مطلب یہ ہے کہ متاثرین کو انصاف کے لیے کئی برسوں تک انتظار کرنا پڑتا ہے۔ اور ان مقدمات میں جن میں سزائے موت دی جاتی ہے مجرموں کے پاس مواقع ہوتے ہیں کہ وہ اپنی سزا کے خلاف اپیل کریں۔

انڈیا کے حالیہ برسوں میں سب سے ہائی پروفائل ریپ کیس جس میں دسمبر 2012 میں ایک میڈیکل کی طالبہ ریپ کے بعد زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہو گئی تھیں کے مجرمان ستمبر 2013 میں سزائے موت ملنے کے بعد آج تک اپیلیں کر رہے ہیں۔

ان کی آخری اپیل سپریم کورٹ نے جولائی میں مسترد کر دی تھی جس کے بعد ان کے پاس اب بھی صدر کے پاس اپیل کرنے کا آپشن موجود ہے۔

طویل قانونی عمل کا ایک اور منفی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اس سے اکثر اوقات متاثرین کی پریشانیوں میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔

ان تجربات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ موت جیسی سزاؤں سے ممکنہ طور پر متاثرین کی انصاف تک رسائی پر منفی اثر پڑتا ہے۔

اسی بارے میں