افغانستان: غزنی میں طالبان اور حکومتی افواج کے درمیان جھڑپیں، 30 جنگجو ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

افغان حکام کا کہنا ہے کہ غزنی شہر میں طالبان نے رات گئے حملہ کیا جس میں سکیورٹی فورسز کا ایک اہلکار اور 30 طالبان جنگجو مارے گئے ہیں۔

حکام کے مطابق طالبان نے شہر کے کئی علاقوں پر کنٹرول حاصل کر لیا تھا تاہم بعد میں انھیں شہر سے باہر نکال دیا گیا۔

طالبان اور سکیورٹی فورسز کے درمیان ان جھڑپوں میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد میں اضافہ ہونے کا خدشہ ہے کیونکہ کئی مکانات تباہ ہوئے ہیں۔

اس بارے میں جاننے کے لیے مزید پڑھیے

شیعہ مسلک کی مسجد پر خودکش حملہ، 25 ہلاک

کابل: فضائی حملے میں عام شہری نشانہ بن گئے

کابل: خودکش حملے میں کم از کم 30 افراد ہلاک

صوبائی حکومت کے ترجمان محمد عارف نوری غزنی نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ طالبان نے جمعرات کی شب غزنی میں چاروں جانب سے حملے کیے، جس کے نتیجے میں کم از کم آٹھ عام شہری اور سات حکومتی فورسز کے اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔

انھوں نے مزید بتایا کہ شہر میں اب بھی فائرنگ کی آوازیں سنی جا سکتی ہیں جبکہ سکیورٹی فورسز کے خصوصی دستے بھی تعینات کر دیے گئے ہیں۔

ٹولو نیوز کے ویب سائٹ کے مطابق غزنی میں طالبان کے حملے کے بعد افغانستان میں موجود امریکی افواج کا کہنا ہے کہ افغان فورسز نے شہر کی تمام اہم اور سرکاری عمارتوں کا قبضہ حاصل کر رکھا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption اطلاعات ہیں کہ طالبان نے شہر کے راستوں کو بند کر دیا اور ایک عمارت میں چھپ کر پولیس ہیڈ کوارٹر کی عمارت پر فائرنگ کی (فائل فوٹو)

ادھر طالبان نے بھی غزنی میں کیے گئے حملے کے بارے میں تفصیلات فراہم کی ہیں اور طالبان کی جانب جاری بیان میں اس حملے میں متعدد افغان فوجیوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا ہے کہ جنگجو نے شہر کے اہم مقامات پر قبضہ کر لیا ہے اور چیک پوسٹ پر قبضہ کر لیا ہے۔

حالیہ کچھ عرصے میں افغانستان میں طالبان کے حملوں میں تیزی آئی ہے۔ افغان حکام نے تصدیق کی ہے کہ کچھ عرصے سے طالبان اپنی حکمتِ عملی کو تبدیل کرتے ہوئے شہری علاقوں میں پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں