انڈیا میں پیدل چلنے والے لاکھوں یاتری کہاں جاتے ہیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

ہر سال نارنجی لباس میں ملبوس مردوں اور عورتوں کی بڑی تعداد شمالی انڈیا پہنچتی ہے جہاں وہ ایک ڈنڈے پر مٹکے لیے سڑکوں پر چلتے ہیں۔

یہ افراد کنوریاس ، یعنی وہ ہندو عبادت گزار ہیں جو ہر سال دریائے گنگا سے پانی جمع کرنے کی غرض سے زیارت کرتے ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ ہندو بھگوان شِیوا نے ایک دفعہ زہر پی لیا تھا جس سے وہ نیلے پڑ گئے لیکن دریائے گنگا کا پانی پینے سے وہ صحت یاب ہو گئے۔ اس واقعے کی یاد منانے کی خاطر کنوریاس دریائے گنگا سے پانی جمع کر کے ملک بھر میں مختلف مندروں میں جاتے ہیں جو شیوا بھگوان کے نام سے منسوب ہیں۔

ان کا ایمان ہے کہ یہ متبرک پانی منفی خیالات کو ختم کرتا ہے اور پانی پلانے والے کو شیوا بھگوان سے قربت دلاتا ہے۔

Kanwariyas wearing t-shirts with the Indian national flag printed on them carry holy water in pots on 19 July 2017. تصویر کے کاپی رائٹ AFP

ان عبادت گزاروں کا نام ’کنوریاس‘ اسی عمل سے نکلا ہے جس میں وہ گنگا سے پانی جمع کرتے ہیں اور اسے کنور یاترا کہا جاتا ہے۔ ہندی زبان میں کنور کا مطلب کھمبا ہے اور یاترا کا مطلب سفر۔

یہ ہندو یاتری جو سفر اختیار کرتے ہیں اس میں وہ انڈیا کی دو شمالی ریاستوں سے گزرتے ہیں اور مختلف مقدس مقامات پر رکتے ہوئے آتے ہیں جو دریائے گنگا کے کنارے قائم ہیں جیسے گنگوتری، ہری دوار، رشی کیش (اترکھنڈ) اور ریاست بہار میں سلطان گنج میں بھی یہ یاتری رکتے ہیں۔

ان یاتریوں میں سے چند ہمالیہ کے دامن میں قائم گومکھ قصبے کا بھی دورہ کرتے ہیں جہاں سے دریائے گنگا کا آغاز ہوتا ہے۔

Despite heavy rain, men and women Kanwariyas march to a Shiva temple in Kolkata to offer the holy water from the Ganges. تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اس زیارت کا آغاز عمومی طور پر مون سون کے موسم میں ہوتا ہے جب انڈیا کے بیشتر حصوں میں بارشیں ہو رہی ہوتی ہیں۔

Bruised feet of Kawariyas wrapped in bandages seen as they rest during the journey on 7 August 2018 in Gurugram, India. تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

کئی یاتری ہزاروں کلومیٹر کا سفر ننگے پاؤں کرتے ہیں جبکہ دیگر اپنی گاڑیوں اور سائیکلوں پر سفر کرتے ہیں۔

سستانے کے لیے یہ یاتری حکومت کی جانب سے قائم کیمپوں میں قیام کرتے ہیں جو ان کے راستے میں جگہ جگہ بنائے گئے ہوتے ہیں۔

A Kanwariya seen wearing a t-shirt with the Hindu god Shiva printed on it. تصویر کے کاپی رائٹ AFP

زیارت کا یہ سلسلہ کئی دہائیوں سے جاری ہے لیکن پہلے اس میں شرکت کرنے والوں کی تعداد بہت کم تھی۔ 80 کی دہائی میں اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوا اور اس کے بعد سے بڑھتے بڑھتے اب لاکھوں لوگ اس میں شرکت کرتے ہیں۔

یاتریوں کے کئی راستے ملک کے دارالحکومت نئی دہلی سے گزرتے ہوئے جاتے ہیں اور ان کی وجہ سے ٹریفک جام ہو جاتی ہے۔

A Kanwariya runs with a water pot in a lane reserved for devotees as traffic crawls past on 1 August 2016 in Delhi. تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

کئی لوگ ان یاتریوں کو مصیبت کا باعث قرار دیتے ہیں۔

اکثر اوقات ان یاتریوں کو راستہ دینے کے لیے سڑکیں گاڑیوں کے لیے بند کر دی جاتی ہیں اور حالیہ برسوں میں ان یاتریوں پر ہنگامے کرنے کا بھی الزام لگایا جاتا رہا ہے۔

اس ماہ کے شروع میں یاتریوں میں سے چند لوگوں نے ایک گاڑی کو اس وقت آگ لگا دی جب ان کی گاڑی کے مالک سے کسی بات پر جھگڑا ہو گیا۔

A Kanwariya rests while listening to music on his phone as others dance to religious songs at a camp in Delhi on 7 August 2018. تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ان یاتریوں میں سے بیشتر کی عمریں کم ہوتی ہے اور اس کی وجہ سے ان کے رویے میں بھی تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے۔

اب یہ بڑے گروہوں کی شکل میں چلتے ہیں اور اس قافلے میں ٹرک، سائیکلیں شامل ہوتے ہیں اور ساتھ ساتھ مذہبی رنگ میں رنگی ہوئی بالی وڈ کی موسیقی بھی بج رہی ہوتی ہے۔

۔

متعلقہ عنوانات