بادشاہ اورنگزیب کتنے توہم پرست تھے؟

اورنگزیب تصویر کے کاپی رائٹ Oxford

امریکی تاریخ دان آڈری ٹرشکی کہتی ہیں کہ تمام مغل بادشاہوں میں بطور خاص اورنگزیب عالمگیر میں ان کی دلچسپی کی وجہ ان کے بارے میں دنیا بھر میں پھیلی ہوئی غلط فہمیاں ہیں۔

تاريخ داں جادوناتھ سرکار نے اگر انھیں اپنی نظر سے دیکھا تو جواہر لعل نہرو نے اپنی نظر سے یا پھر شاہد نعیم نے اپنی نظر سے اور سب نے ان کے مذہبی پہلو پر ضرورت سے زیادہ زور دیا۔

’اورنگزیب دی مین اینڈ دی متھ‘ نامی کتاب کی مصنفہ نے بی بی سی کو بتایا کہ اگر رواداری کے موجودہ معیار کے لحاظ سے دیکھا جائے تو ماضی کے تمام بادشاہ اور حکمران غیر روادار رہے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اورنگزیب کے بارے میں غلط فہمیاں زیادہ ہیں اور ان کو ہوا دے کر موجودہ دور میں مسلمانوں کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔

مصنفہ کے مطابق انڈیا میں اس وقت عدم رواداری عروج پر ہے اور حیدرآباد (دکن) میں ان کے لیکچر کو منسوخ کر دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

کیا اورنگزیب واقعی ہندوؤں سے نفرت کرتے تھے؟

'آج انڈیا میں ہر سال 500 فسادات ہوتے ہیں'

’تاج محل مغل لٹیروں کی نشانی ہے‘

آڈری بتاتی ہیں کہ اس کے برعکس اورنگزیب بادشاہ کے عہد کے برہمن اور جین مصنفین اورنگزیب کی تعریف کرتے ہیں اور انھوں نے جب فارسی زبان میں ہندوؤں کی مقدس کتاب رامائن اور مہابھارت کو پیش کیا تو اس کا انتساب اورنگزیب کے نام کیا۔

آڈری ٹرشکی تصویر کے کاپی رائٹ Mirza AB Baig

آڈری نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ اورنگزیب نے اگر ہولی پر سختی دکھائی تو انھوں نے محرم اور عید پر بھی سختی کا مظاہرہ کیا۔ اگر انھوں نے ایک دو مندر توڑے تو کئی مندروں کو عطیہ بھی دیا۔ مختلف تاريخ دانوں نے اورنگزیب کو اپنی عینک سے دیکھنے کی کوشش کی ہے۔

مصنفہ کے مطابق اورنگزیب نے خود کو ایک اچھے مسلمان کی طرح پیش کیا یا پھر ان کی ہمیشہ ایک اچھا مسلمان بننے کی کوشش رہی لیکن ان کا اسلام آج کا سخت گیر اسلام نہیں تھا۔ وہ بہت حد تک صوفی تھے اور کسی حد تک توہم پرست بھی تھے۔

بی بی سی نے ان سے دریافت کیا کہ ان کی توہم پرستی کی کوئی مثال پیش کر سکتی ہیں تو انھوں نے بتایا کہ تمام مغل بادشاہ کے یہاں علم نجوم کے ماہرین ہوا کرتے تھے اور اورنگزیب کے دربار میں بھی ہندو مسلم دونوں قسم کے نجومی تھے اور وہ ان سے مشورے کیا کرتے تھے۔

اورنگزیب تصویر کے کاپی رائٹ PENGUIN INDIA

انھوں نے اورنگزیب کے ایک سپاہی بھیم سین سکسینا کے حوالے سے بتایا کہ جنوبی ہند میں ایک بار جہاں وہ سکونت پزیر تھے وہاں سیلاب آ گیا اور یہ خدشہ زور پکڑنے لگا کہ سیلاب کی وجہ سے شاہی قیام کو نقصان ہو سکتا ہے تو انھوں نے قرآن سے آیتیں لکھ کر سیلاب کے پانی میں ڈلوائیں جس کے بعد سیلاب کا پانی کم ہونے لگا۔

خیال رہے کہ اسی طرح کا ایک واقعہ اسلام کے دوسرے خلیفہ حضرت عمر سے منسوب ہے جس کا ذکر جا بجا ملتا ہے کہ کس طرح انھوں نے مصر کی دریائے نیل کے نام خط لکھا تھا۔

روایت میں آتا ہے کہ مصر کا خطہ جب اسلا کے زیر نگيں آیا تو وہاں اس وقت کے گورنر عمرو بن العاص کو پتہ چلا کہ وہاں ایک خوبصورت دوشیزہ کو سجا سنوار کر ہر سال دریائے نیل کے نام پر قربان کیا جاتا ہے تاکہ دریا روانی سے بہتا رہے اور وہاں کے لوگ اس کے فیض سے بہرہ مند ہوتے رہیں۔

لیکن اسلامی حکومت نے اس پر پابندی لگا دی اور پھر دریا کا پانی واقعتا خشک ہو گیا اور لوگوں نے سمجھا کہ ان پر دریا کا غضب نازل ہوا ہے۔ یہ خبر جب حضرت عمر فاروق کو دی گئی تو انھوں نے نیل کے نام خط لکھا جس میں مذکور تھا کہ 'اے دریا اگر تو اپنے اختیار سے جاری ہے تو بے شک جاری نہ ہو لیکن اگر تو اللہ کے حکم سے جاری ہے تو پھر سے جاری ہو جا' اور کہا جاتا ہے کہ اس کے بعد دریائے نیل ایسا جاری ہوا کہ پھر کبھی خشک نہ ہوا۔

یہ بھی پڑھیے

کتنا رنگیلا تھا محمد شاہ رنگیلا؟

’تاج محل مغل لٹیروں کی نشانی ہے‘

ایک ہیرا، چھ افسانے

آڈری ٹرسکی نے اس واقعے پر کہا کہ ہو سکتا ہے کہ اورنگزیب نے ان کی پیروی میں ہی ایسی بات کی ہو جسے لوگ ان کا اعجاز سمجھتے ہوں۔

انھوں نے کہا کہ ایک جدید تاریخ داں کی حیثیت سے انھیں اس پر یقین نہیں ہے لیکن اورنگزیب کو اس پر یقین تھا اور انھوں نے لوگوں کے سامنے اس پر عمل کیا اور یہ دکھانے کی کوشش کی کہ یہ طلسم بھی ہو سکتا ہے۔

اورنگزیب تصویر کے کاپی رائٹ PENGUIN INDIA

انھوں نے بتایا کہ اورنگزیب ہندو اور مسلم دونوں قسم کے نجومی سے صلاح مشورہ کرتے تھے اور کبھی ان کے مشورے پر عمل بھی کرتے اور کبھی انھیں مسترد بھی کر دیتے تھے۔

اڈری ٹرشکی نے دوسرے مغل بادشاہوں کے مقابلے اورنگزیب کے امتیاز کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ سارے مغل بادشاہوں سے میں سب سے زیادہ پاکباز تھے، وہ حافظ قرآن تھے اور نماز اور عبادات کے سب سے زیادہ پابندی کرنے والے تھے۔

اورنگزیب پر یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ ان کی فنون لطیفہ اور بطور خاص موسیقی سے نفرت تھی اور اس بارے میں موسیقی کے جنازے والا قصہ مشہور ہے۔

لیکن ایک دوسری مؤرخ کیتھرین براؤن نے 'ڈڈ اورنگزیب بین میوزک' یعنی کیا اورنگزیب نے موسیقی پر پابندی لگا دی تھی کے عنوان سے ایک مضمون میں لکھا کہ اورنگزیب اپنی خالہ سے ملنے برہانپور گئے تھے جہاں ہیرا بائی زین آبادی کو دیکھ کر وہ انھیں اپنا دل دے بیٹھے۔ ہیرا بائی ایک رقاصہ اور گلوکارہ تھیں۔

اورنگزیب کا مقبرہ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

آڈری بھی بتاتی ہیں کہ اورنگزیب کو جتنا سخت گیر پیش کیا جاتا ہے وہ ویسے نہیں تھے۔ ان کی کئی ہندو بیگمات تھیں اور مغلوں کی ہندو بیگمات ہوا کرتی تھیں۔

اپنے آخری دنوں میں اورنگزیب اپنے سب سے چھوٹے بیٹے کام بخش کی والدہ اودے پوری کے ساتھ رہتے تھے جو ایک گلوکارہ تھیں۔ انھوں نے بستر مرگ سے کامبخش کو ایک خط لکھا جس میں ذکر کیا کہ ان کی والدہ اودے پوری بیماری کی حالت میں ان کے ساتھ ہیں اور موت تک ان کے ساتھ رہیں گی۔

اورنگزیب کی موت کے چند مہینے بعد 1707 کے موسم گرما میں اودے پوری بھی انتقال کر گئیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں