بنگلہ دیش کی تاریخ کو کیمرے میں محفوظ کرنے والے شاہد العالم

شاہد تصویر کے کاپی رائٹ EPA

بنگلہ دیش میں رواں ماہ نوجوانوں کی جانب سے مظاہروں کے تناظر میں مشہور فوٹوگرافر اور انسانی حقوق کے کارکن شاہدالعالم کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

تیز رفتار بس کی زد میں آ کر دو بچوں کی موت کے بعد ہزاروں کی تعداد میں طلبہ سڑکوں پر نکل آئے اور شاہد العالم نے ان مظاہروں کو کیمرے میں محفوظ کیا۔

عالم کے ساتھی رہنما احمد نے لکھا ہے کہ عالم ملک کے نوجوانوں سے متاثر تھے جو ریاستی تشدد کے سامنے جھکے نہیں۔

عالم نے بین الاقوامی میڈیا اور فیس بک پر حکومت کی جانب سے غلط طریقے سے نوجوانوں کے مظاہروں کو کنٹرول کرنے پر تنقید کی تھی۔ حکومت نے الزام لگایا ہے کہ انھوں نے غلط معلومات پھیلائیں۔ ان پر متنازع انٹرنیٹ قانون کے تحت کارروائی کی جا رہی ہے۔

انسانی حقوق پر نظر رکھنے والی تنظیموں کا کہنا ہے کہ مظاہروں کے بعد حکومت نے درجنوں ناقدین کو حراست میں لیا۔

63 سالہ عالم کا کہنا ہے کہ ان کو حراست میں تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں نے عالمی آرٹسٹ اور لکھاریوں کے ساتھ عالم کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

کئی دہائیوں سے عالم نے بنگلہ دیش میں ہونے والے واقعات کیمرے میں محفوظ کیے ہیں اور ان کی تصاویر مشہور اخباروں اور رسالوں میں شائع ہوئی ہیں۔

ڈرک پکچر ایجنسی کے بانی ہونے کے ناطے عالم نے کئی فوٹوگرافروں کو تربیت دی ہے۔


جمہوریت کے لیے جدوجہد

80 کے آخر میں بنگلہ دیش میں ہلچل کا آغاز ہوا۔ ملک میں بڑے پیمانے پر مظاہرے، ہڑتالیں اور بدامنی پھیلی جس کے باعث جنرل حسین محمد ارشاد کی حکومت ختم ہوئی۔

شاہدالعالم نے ان تبدیلیوں کو تصاویر کے ذریعے دکھایا۔

Presentational white space
ڈھاکہ تصویر کے کاپی رائٹ Shahidul Alam
Presentational white space

جنرل ارشاد کے حکومت کے خلاف سب سے مشہور کارکن نور حسین تھے۔ ان کو پولیس نے سنہ 1987 میں قتل کر دیا اور ان کو جمہوریت کے لیے جدوجہد کے ’شہید‘ کے طور پر یاد رکھا جاتا ہے۔

نومبر 1987 میں نور حسین کی موت کے بعد اور 72 گھنٹے کی ہڑتال سے پہلے حکومت نے ایمرجنسی نافذ کر دی۔

Presentational white space
ڈھاکہ تصویر کے کاپی رائٹ Shahidul Alam
Image caption ڈھاکہ کی یونورسٹی کی دیوار پر نور حسین کے حق میں وال چاکنگ کی گئی۔ دیوار پر لکھا ہے ’جمہوریت کو جینے دو‘۔
Presentational white space

لیکن سنہ 1990 میں حزب اختلاف متحد ہوئی اور جنرل ارشاد کی حکومت ختم کرنے کے لیے جدوجہد کا آغاز کیا۔

چار دسمبر 1990 کی رات کو صدر ارشاد مستعفی ہونے پر آمادہ ہو گئے۔ نیو یارک ٹائمز کی شہ سرخی تھی ’انقلاب سے بنگلہ دیش میں امید کی کرن‘۔

عالم نے ڈھاکہ کی سڑکوں پر جشن کے مناظر کی تصاویر بنائیں۔

Presentational white space
ڈھاکہ تصویر کے کاپی رائٹ Shahidul Alam
Presentational white space

سنہ 1991 میں ملک میں پہلا آزاد الیکشن ہوا اور لاکھوں افراد نے ووٹ ڈالے۔ ملک کی تاریخ میں اہم موڑ کو محفوظ کرنے کے لیے عالم موجود تھے۔

Presentational white space
ڈھاکہ تصویر کے کاپی رائٹ Shahidul Alam
Presentational white space

’ماورائے آئین‘ ہلاکتیں

عالم نے نہ صرف ملک کی شورش زدہ سیاست ہی کو محفوظ نہیں کیا بلکہ انھوں نے جرائم کے خلاف ریپڈ ایکشن بٹالین کی متنازع کارروائیوں پر بھی نظر رکھی۔

بنگلہ دیش میں انسانی حقوق کی تنظیموں اور بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ نے بھی ماورائے آئین ہلاکتوں کی مذمت کی اور تحقیقات کا مطالبہ کیا۔

شاہد العالم نے جب ان ماورائے آئین ہلاکتوں پر اپنی تصاویر کی نمائش کی جس کا نام ’کراس فائر‘ رکھا تو پولیس نے گیلری بند کرا دی۔ اس کارروائی کے بعد مظاہرے ہوئے۔

Presentational white space
جیل تصویر کے کاپی رائٹ Shahidul Alam
Presentational white space

تصاویر میں ہلاکتوں پر تو زیادہ توجہ نہیں دی گئی لیکن ان ہلاکتوں کے سیاق و سباق پر توجہ دی گئی جن میں ہلاکتیں ہوئیں۔

Presentational white space
کراس فائر تصویر کے کاپی رائٹ Shahidul Alam
Presentational white space
کراس فائر تصویر کے کاپی رائٹ Shahidul Alam
Presentational white space
ڈھاکہ تصویر کے کاپی رائٹ Shahidul Alam
Presentational white space
ڈھاکہ
Image caption ڈھاکہ ایئر پورٹ پر ایک بیوی اپنے شوہر کو الوداع کہہ رہی ہے۔ ان کا شوہر مشرق وسطیٰ نوکری کے لیے جا رہا تھا۔
Presentational white space

سیلاب اور سمندری طوفان

شاہد العالم نے قدرتی آفات کو بھی کیمرے میں محفوظ کیا۔ سیلاب ہوں یا سمندری طوفان جن سے شہروں اور قصبوں میں تباہی ہوئی۔

سنہ 1988 میں بنگلہ دیش کی تاریخ کا تباہ کن ترین سیلاب آیا جس سے ملک کا 60 فیصد علاقہ بشمول دارالحکومت ڈھاکہ کے کچھ علاقوں کے زیر آب آیا۔

Presentational white space
ڈھاکہ تصویر کے کاپی رائٹ Shahidul Alam
Presentational white space
بنگلہ دیش تصویر کے کاپی رائٹ Shahidul Alam
Presentational white space
ڈھاکہ تصویر کے کاپی رائٹ Shahidul Alam
Presentational white space

تمام تصاویر کے جملہ حقوق محفوظ ہیں

اسی بارے میں