اگر اڈوانی نے بات مان لی ہوتی تو کیا ہوتا؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اس کہانی کے تین کردار ہیں، ایک اس وقت انڈیا کے وزیراعظم تھے، ایک وزیراعظم بننے کے انتظار میں تھے اور ایک نے کبھی سوچا بھی نہ ہوگا کہ وہ کبھی وزیر اعظم بن سکتے ہیں۔

بات فروری سنہ 2002 کی ہے۔ انڈیا کی مغربی ریاست گجرات میں خون ریزی کا دور جاری تھا۔ ان فسادات میں ایک ہزار سے زیادہ مسلمانوں کو ہلاک کیا گیا۔

اٹل بہاری واجپئی اس وقت وزیر اعظم تھے اور موجودہ وزیر اعظم نریندر مودی گجرات کے وزیر اعلیٰ۔

حالات کا جائزہ لینے کے لیے واجپئی احمد آباد گئے جہاں ایک پریس کانفرنس میں ایک صحافی نے ان سے پوچھا کہ وزیر اعلی نریندر مودی کو وہ کیا پیغام دینا چاہیں گے؟

نریندر مودی، واجپئی کے بالکل برابر میں بیٹھتے تھے۔ انھیں اس الزام کا سامنا تھا کہ فسادات کو روکنے کے لیے انھوں نے خاطر خواہ کارروائی نہیں کی تھی۔

یہ بھی پڑھیے

’ہم جنگ نہ ہونے دیں گے‘

واجپئی: جن کی زندگی ایک معمہ ہی رہی

انڈیا کے سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی چل بسے

’صرف بابری مسجد ہی نہیں بلکہ بہت کچھ ٹوٹا‘

واجپئی بہت نرم گفتار طبعیت کے مالک تھے لیکن سوال کے جواب میں انھوں نے مودی کی جانب دیکھے بغیر کہا کہ ’وزیر اعلیٰ کے لیے میرا ایک ہی پیغام ہے کہ وہ راج دھرم (حکمراں کے فرائض) پر عمل کریں۔ راج دھرم، اس لفظ کے معنی بہت گہرے ہیں، میں بھی اسی پر عمل کر رہا ہوں، حکمراں ’پرجا پرجا‘ (عوام کےدرمیان) میں فرق نہیں کرسکتا، نہ جنم کی بنیاد پر، نہ ذات کی بنیاد پر اور نہ مذہب کی بنیاد پر‘۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

یہ سننے کے بعد نریندر مودی نے واجپئی کی جانب دیکھتے ہوئے دبی ہوئی آواز میں کہا کہ ’ہم بھی یہ ہی کر رہے ہیں‘۔

واجپئی نے یہ کہتے ہوئے اپنی بات مکمل کی ’مجے یقین ہے کہ نریندر بھائی بھی یہ ہی کر رہے ہیں‘۔

انڈیا کی سیاست میں اپنی ہی پارٹی کے ایک وزیر اعلیٰ کو کسی پریس کانفرنس یا پبلک پلیٹ فارم سے ایسا ’پیغام‘ دیے جانے کی دوسری مثال آسانی سے نہیں ملے گی۔

یہ کہا جاتا ہے کہ واجپئی نے نریندر مودی کو ان کے عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ اس کے چند دن بعد گوا میں پارٹی کی ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس ہونے والا تھا۔ سینیئر صحافی کومی کپور نے ایک کالم میں لکھا کہ وہاں واجپئی کا انداز بدلا ہوا تھا اور انھوں نے جم کر مودی کی حمایت کی۔

یہ مانا جاتا ہے کہ نیشنل ایگزیکٹو نے پرزور انداز میں مودی کی حمایت کی تھی اور اس میں لال کرشن اڈوانی کا مرکزی کردار تھا جنھیں مودی اس وقت اپنا سرپرست مانتےتھے۔ انھیں گجرات کا وزیر اعلیٰ لال کرشن اڈوانی نے ہی بنایا تھا۔

لال کرشن اڈوانی سنہ 1995 تک وزیر اعظم کے عہدے کے دعویدار تھے لیکن ’حوالہ ڈائریز کیس‘ میں اپنا نام آنے کے بعد انھوں نے اس سال نومبر میں اچانک یہ اعلان کر دیا تھا کہ وزارت عظمیٰ کے لیے واجپئی ہی بی جے پی کے امیدوار ہوں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ PTI

کومی کپور لکھتی ہیں کہ یہ اعلان پارٹی کی نظریاتی سرپرست تنظیم آر ایس ایس اور بی جے پی کی اعلی قیادت سے مشورے کے بغیر کیا گیا تھا۔ (حوالہ کیس میں اڈوانی کے خلاف الزامات بے بنیاد ثابت ہوئے اور انھیں بری کر دیا گیا)

اگلے سال واجپئی 13 دن کے لیے وزیرا عظم بنے لیکن ان کی حکومت لوک سبھا میں اپنی اکثریت ثابت نہیں کر سکی۔ اس کے بعد یہ بحث ختم ہو گئی کہ اگر بی جے پی اقتدار میں آتی ہے تو وزیراعظم کون بنے گا۔

پھر سنہ 2004 میں حکمراں بی جے پی نے ایوان کی مدت ختم ہونے سے چھ ماہ پہلے ہی الیکشن کرانے کا فیصلہ کیا۔ یہ مانا جاتا ہے کہ یہ فیصلہ ایل کے اڈوانی نے ہی کیا تھا اور انھیں امید تھی کہ بی جے پی الیکشن جیت جائے گی اور اس مرتبہ وہ وزیر اعظم بنیں گے۔

لیکن ایسا ہوا نہیں۔ سونیا گاندھی کی قیادت میں کانگریس واپس آئی اور دس سال تک حکومت میں رہی۔ بی جے پی نے سنہ 2009 کا الیکشن اڈوانی کی قیادت میں ہی لڑا تھا۔ اس دوران نریندر مودی مسلسل گجرات کے وزیر اعلیٰ رہے اور ان کا شمار پارٹی کے سب سے طاقتور رہنماؤں میں کیا جانے لگا۔

نریندر مودی نے گذشتہ پارلیمانی انتخابات سے پہلے وزارت عظمی کے لیے جب اپنی دعوے داری پیش کی تو ان کا مقابلہ ایل کے اڈوانی سے ہی ہوا اور اڈوانی ان کی مقبولیت کے سامنے ٹک نہیں سکے۔

اڈوانی نے سنہ 1995 میں واجپئی کے لیے راستہ چھوڑا تھا لیکن جب وہ وزارت عظمیٰ کے لیے ایک آخری کوشش کرنا چاہتے تھے تو ان کے راستے میں ان کے ’شاگرد‘ نریندر مودی کھڑے تھے، وہی نریندر مودی جنھیں انھوں نے وزیر اعلی بنایا تھا اور پھر سنہ 2002 میں اس وقت بچایا تھا جب واجپئی انھیں ہٹانا چاہتے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اڈوانی اور واجپئی نے مل کر بی جے پی کو اقتدار تک پہنچایا، دونوں کے درمیان بہت سے نظریاتی اختلافات بھی تھے۔ کومی کپور نے لکھا ’جب بابری مسجد مسمار کی گئی تو وہ واجپئی کی رہائش گاہ پر موجود تھیں، وہاں افسردگی کا ماحول تھا اور واجپئی نے بی جے پی کے دفتر میں جاری جشن میں شریک ہونے سے انکار کردیا تھا۔

کومی کپور کے مطابق ’اس وقت واجپئی نے پارٹی چھوڑنے کے بارے میں سنجیدگی سے سوچا تھا‘۔

واجپئی تو اب اس دنیا میں نہیں ہیں لیکن اڈوانی جب ان سے اپنے اختلافات کے بارے میں سوچیں گے تو شاید یہ بات بھی ذہن میں آئے گی کہ اگر سنہ 2002 میں انھوں نے واجپئی کی بات مان لی ہوتی تو کیا ہوتا؟

اسی بارے میں