لبرل واجپئی ابھرتا ہوا ہندو راشٹرا دے گئے

  • شکیل اختر
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی
اٹل بہاری واجپیئ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

انڈیا کے سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کے جسد خاکی کو جمعے کو دلی میں دریائے جمنا کے نزدیک سمرتی ستھل پر نذر آتش کر دیا گیا۔

ملک کے عظیم رہنماؤں کے طرز پر ان کی راکھ کو بھی مختلف دریاؤں میں بہایا جائے گا۔ بی جے پی کے رہنما کی ہر طرف ستائش ہو رہی ہے۔ انھیں نظریات سے بالا تر ایک جمہوریت پسند، روادار رہنما اور عصر حاضر کا ایک عظیم مدبر قرار دیا جا رہا ہے۔

واجپئی 50 برس تک ملک کی سیاست میں متحرک رہے اور تین بار وزیر اعظم بنے۔ انھوں نے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز نو عمری میں آر ایس ایس کے پرچارک کے طور پر کیا تھا۔ آر ایس ایس کا نصب العین انڈیا میں ہندو راشٹر قائم کرنا ہے۔

واجپئی نے کہا تھا کہ وہ آخر تک آر ایس ایس کے پرچارک رہیں گے۔ واجپئی کو اعتدال پسند اس لیے نہیں سمجھا جاتا کہ وہ ہندوتوا کے نظریے سے منحرف ہو گئے تھے اور ایک لبرل جمہوریت پر یقین رکھتے تھے۔ ان کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ اپنے ہندوتوا کے نظریے پر قائم رہتے ہوئے بھی روا داری کا طرز اختیار کرتے تھے اور مخالف کو موقع دیتے تھے۔

یہ بھی پڑھیے

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

انھوں نے اپنے دیرینہ اور سب سے قریبی رفیق ایل کے اڈوانی کے ساتھ ملک کی سیاست میں مسلسل 50 برس تک ہندوتوا کی بنیاد مضبوط کی۔ واجپئی نے کئی اہم موقعوں پر ایسے موقف اختیار کیے جن پر ان کی اعتدال پسندی کی شبیہ کو نقصان پہنچا۔

اگرچہ آر ایس ایس نے واجپئی کو رام جنم بھومی کی تحریک سے الگ رکھا تھا لیکن بابری مسجد کے انہدام سے ایک روز قبل انھوں نے لکھنؤ میں ایک تقریر میں حکومت کو جواب دیتے ہوئے کہا تھا 'ایودھیا میں کار سیوک تو آئیں گے اور کل کار سیوا بھی ہو گی۔ ان کے بیٹھنے کے لیے زمین بھی برابر کرنی پڑے گی‘۔

واجپئی نے سنہ 1983 میں آسام میں ایک تقریرمیں غیر قانونی تارکین وطن کے حوالے سے ایک انتہائی اشتعال اور نفرت انگیز بیان دیا تھا۔ ان کے اس بیان کی نوعیت ایسی پر تشدد تھی کہ خود ان کی جماعت بی جے پی نے اس سے لا تعلقی اختیار کر لی تھی۔

سنہ 2002 کے گجرات کے فسادات کے بعد گوا میں بی جے پی کی قومی مجلس عاملہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بھی واجپئی نے جو بیان دیا تھا تھا ان سے بھی انھیں لبرل سمجھنے والوں کو ٹھیس پہنچی تھی۔

واجپئی نے اپنی تقریر میں کہا تھا 'مسلمان بقائے باہمی میں یقین نہیں رکھتے۔ وہ دوسروں سے میل جول کے ساتھ نہیں رہنا چاہتے۔ وہ اپنے مذہب کو دھمکیوں اور دہشت کے ذریعے پھیلاتے ہیں‘۔

انڈیا کے سابق وزیر اعظم نے مسلمان مخالف فسادات کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ دنگے نہیں ہونے چاہیئں لیکن آگ کس نے لگائی؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images

واجپئی نے اپنے طویل سیاسی کرئیر میں کسی بھی مرحلے پر ہندوتوا کے نظریے، ہندو راشٹر یا سخت گیر ہندو تنظیموں کی سرگرمیوں پر کبھی تنقید نہیں کی۔ وہ رام جنم بھومی کی تحریک میں شامل نہیں ہوئے لیکن وزیر اعظم کے طور پر ایک بار کہا تھا کہ رام مندر کی تعمیر قومی جذبات کا معاملہ ہے۔

ایک بار حزب اختلاف کے ایک رہنما نے واجپئی سے پوچھا تھا کہ آرایس ایس اور ہندتوا کے نظریے کے بانی گرو گولوالکر کی ریاست میں کیا مسلمانوں کے لیے کوئی جگہ ہے تو انھوں نے جواب دیا تھا کہ مسلمانوں کے لیے جگہ ہے بشرطیکہ وہ 'مین سٹریم‘ میں شامل ہو جائيں یعنی وہ اپنی مسلم شناخت کے ساتھ اس ریاست سے باہر ہیں۔

واجپئی ایک ایماندار رہنما تھے۔ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ وہ بی جے پی کو ایک لبرل جمہوری ہندو پارٹی میں بدلنا جاہتے تھے لیکن آر ایس ایس کے تحت پارٹی کے اندر ہمیشہ سخت گیر عناصر کا غلبہ رہا۔’

واجپئی اور اڈوانی کی بے پناہ کوششوں سے آج بی جے پی ملک کی سیاست میں عروج پر پہنچ چکی ہے۔ لبرل ازم کے سیاسی تصور کو آج بی جے پی میں ہندو مذہب اور ہندوتوا کے نظریے کے خلاف تصور کیا جاتا ہے۔

ہو سکتا ہے کہ واچپئی نے ایسے انڈیا یا ایسی بی جے پی کی تمنا نہ کی ہو لیکن آر ایس ایس ان کے توسط سے اپنے نصب العین کے بہت قریب پہنچ چکی ہے۔

بی جے پی اب ایک سخت گیر ہندو قوم پرست جماعت بن چکی ہے اور وہ ہندو راشٹر کے نصب العین سے بہت قریب دکھائی دے رہی ہے۔