امریکہ کی جانب سے افغانستان میں جنگ بندی کا خیرمقدم

مائیک پومپیو تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

امریکہ نے افغان حکومت کی جانب طالبان کے ساتھ عید کے موقعے پر کی جانے والی مشروط جنگ بندی کا خیرمقدم کیا ہے۔

وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو نے امید ظاہر کی ہے کہ اس سال افغان عوام عید الضحیٰ کا تہوار امن سے اور بغیر خوف کے منا سکیں گے۔

اس سے قبل افغانستان کے صدر ڈاکٹر اشرف غنی نے عید الاضحی سے قبل طالبان کو مشروط جنگ بندی کی پیش کش کی تھی۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق افغان صدر کی طرف سے یہ پیش کش تین ماہ کے لیے کی گئی ہے۔

ٹی وی چینلوں پر نشر کیے جانے والے اس بیان میں افغان صدر نے کہا: 'ہم جنگ بندی کا اعلان کر رہے ہیں جس پر کل یوم عرفات بروز پیر سے لے کر عید میلاد النبی تک عمل کیا جائے گا۔'

انھوں نے کہا کہ جنگ بندی پر عمل درآمد کا دارومدار اس بات پر ہے کہ طالبان بھی ان بابرکت دنوں میں جنگ بندی کا احترام کریں۔

صدر غنی نے کہا ہے کہ جنگ بندی ہو سکتی ہے بشرطیکہ طالبان اس کا احترام کریں۔

صدر غنی نے طالبان سے مشروط جنگ بندی کا اعلان افغانستان کے یوم آزادی کی مناسبت سے ہونے والی ایک تقریر میں کیا۔

طالبان کی طرف سے ڈاکٹر اشرف غنی کی اس پیش کش کے بارے میں تاحال کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

پاکستان نے ڈاکٹر اشرف غنی کےاس اعلان کو فوری طور پر خیر مقدم کیا اور اس کو خوش آئند قرار دیا۔

پاکستان کے دفترِ خارجہ نے اس اعلان پر اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ اس طرح کے اقدامات سے افغانستان میں امن کا ماحول بنانے میں مدد ملے گی اور ملک میں استحکام قائم ہو سکے گا۔

پاکستانی دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ پاکستان ایسے تمام اقدامات کی بھرپور حمایت کرتا ہے جس سے افغانستان میں دیرپا امن کے قیام میں مدد مل سکے۔

دفترِ خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان سمجھتا ہے کہ عید الاضحی فریقین کے لیے جنگ بندی کا آغاز کرنے کا بہترین موقعہ ہے۔

دفترِ خارجہ نے کہا کہ عید الاضحی پر قربانی کی عظیم روایت کی پاسداری کرتے ہوئے فریقین کو چاہیے کہ ایک دوسرے کے خلاف خون ریز کارروائیاں بند کر دیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

بیان میں مزید کہا گیا کہ جنگ بندی سے افغانستان کے لوگ سنت ابراہیمی پرامن ماحول میں ادا کر سکیں گے۔

پاکستان دفترِ خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ یہ اعلان افغانستان کے یوم آزادی پر کیا گیا ہے جس کی وجہ سے اس کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔

افغان صدر کے جنگ بندی کا یہ اعلان اس وقت سامنے آیا ہے جب چند روز قبل غنی میں افغان فورسز اور طالبان کے درمیان شدید لڑائی ہوئی ہے اور ملک بھر میں دہشت گردی کے مختلف واقعات میں سینکڑوں لوگ ہلاک ہو گئے ہیں۔

افغان حکومت اور طالبان نے عید الفطر کے موقعے پر بھی عارضی جنگ بندی پر عمل کیا تھا۔ اس جنگ بندی سے قبل ملک کے کئی حصوں میں افغان سکیورٹی فورسز اور طالبان نے غیر معمولی گرمجوشی کا اظہار کیا تھا اور کئی جگہوں پر طالبان اور سیکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کے بغلگیر ہونے کے مناظر بھی دیکھے گئے تھے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں