انڈیا: حالیہ سیلاب اس قدر شدید کیوں تھے؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption وفاقی وزارتِ داخلہ نے بھی اس سال ایک جائزہ لیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ کیریلا سیلاب سے متاثر ہونے کے سب سے زیادہ خطرے میں دس ریاستوں میں سے ایک ہے۔

انڈیا کی ریاست کیرالہ میں اس ماہ آنے والے سیلاب سے صرف ایک ہفتہ قبل ایک حکومتی رپورٹ میں تنبیہ کی گئی تھی کہ کیرالہ کی ریاست اپنے آبی وسائل کی مینجمنٹ کے لحاظ سے جنوبی انڈیا کی بدترین ریاستوں میں سے ایک ہے۔

اس حکومتی تحقیق کے مطابق غیر ہیمالیائی ریاستوں میں کیرالہ کا درجہ 12واں تھا اور اس کا مجموعی سکور 42 تھا۔ اس معیار سے بہترین ریاستیں گجرات، مدھیا پردیش اور آندھرا پردیش تھیں جن کا سکور بالترتیب 79، 69، اور 68 تھا۔ کیرالہ سے بری کارکردگی والی صرف چار غیر ہمالیائی ریاستیں، چار شمال مشرقی ریاستیں اور ہمالیائی ریاستیں تھیں۔

رپورٹ کے آنے کے ایک ماہ بعد ہی بظاہر اس کی تصدیق ہوگئی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

کیرالہ: سیلاب میں گھرے 22 ہزار افراد کو بچا لیا گیا

انڈین ریاست کیرالہ میں صدی کا بدترین سیلاب

حکام اور ماہرین کا کہنا ہے کہ کیرالہ میں سیلاب اس قدر شدید نہ ہوتا اگر حکام نے وقت کے ساتھ ساتھ تھوڑا تھوڑا کر کے کم از کم 30 ڈیموں سے پانی کے اخراج کا انتظام کیا ہوتا۔ جب گذشتہ ہفتے سیلاب اپنے عروج پر تھا تو تقریباً 80 ڈیموں سے پانی اکھٹے خارج کیا جا رہا تھا۔ ریاست میں 41 دریا بہتے ہیں۔

جنوبی ایشیا نیٹ ورک آن ڈیمز ریورز اینڈ پیپل سے تعلق رکھنے والے آبی مسائل کے ماہر ہمانشو ٹھاکر کا کہنا ہے کہ ’یہ واضح ہے کہ کیرالہ کے بڑے سٹوریج ڈیموں سے پانی کا ایک ایسے وقت اخراج جب ریاست میں سیلاب ہے، مسائل میں اضافہ کر رہا تھا۔‘

’اس سب سے بچا جا سکتا تھا اگر ڈیم آپریٹر پانی پہلے ہی خارج کر دیتے بجائے اس وقت کے انتظار کرنے کے جب ڈیم بھر گئے اور ان کے پاس اور کوئی راستہ نہیں تھا۔‘

ان کا مزید کہنا ہے کہ ’یہ بھی واضح ہے کہ اس کے لیے کافی وقت اور قدرے خشک عرصے بھی تھا جب یہ پانی خارج کیا جا سکتا تھا۔‘

وفاقی وزارتِ داخلہ نے بھی اس سال ایک جائزہ لیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ کیریلا سیلاب سے متاثر ہونے کے سب سے زیادہ خطرے میں دس ریاستوں میں سے ایک ہے۔

اس سب کے باوجود بظاہرکیرالہ کی ریاست نے اس آفت سے بچنے کے لیے کوئی اہم قدم نہیں اٹھایا۔

ادھر جہاں ریاستی حکام پر تنقید کی جا رہی ہے وفاقی حکومت نے بھی کوئی زیادہ بہتر کام نہیں کیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ مرکزی آبی کمیشن سے کیرالہ کو کوئی تنبیہ جاری نہیں کی جاتی۔ یہ واحد حکومت کمیشن ہے جس کی یہ ذمہ داری ہے۔

ہمانشو ٹھاکر کا کہنا ہے کہ اس حد تک کا سیلاب اور ڈیموں سے پانی کا اخراج سیلاب کی پیشگی اطلاع کے نظام اور مرکزی آبی کمیشن کے ایڈوانس ایکشن کے میں بھی سوالات اٹھاتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’ہمیں یہ جان کر انتہائی شدید حیرانگی ہوئی کہ مرکزی آبی کمیشن (سی ڈبلیو سی) کے پاس کوئی سیلاب کی تنبیہ کی سائٹ نہیں ہیں، نہ ہی پانی کے مطح اور نہ ہی پانی کی آمد کے حوالے سے۔ کیرالہ میں اس کے پاس صرف سیلاب کی مانیٹرنگ سائٹس ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ چند اہم ڈیموں اور اہم مقامات پر سیلاب کی پیشگی اطلاع کے حوالے سے سائٹس بنائی جائیں۔‘

ایک طرف تو ریاست ایسے اقدام کرنے میں پیچھے ہے اور دوسری طرف اس موسون میں بارش بھی انتہائی زیادہ ہوئی ہے۔

ریاست میں گذشتہ ڈھائی ماہ میں 37 فیصد اضافی بارش ہوئی جبکہ ماضی میں یہ مقدار پورے سیزن کی ہوا کرتی تھی۔

اتنے کم عرصے میں اس قدر بارش کی وجہ سے لینڈ سلائڈنگ بھی ہوئی جس کی وجہ سے بھی ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ ماہرینِ ماحولیات کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ جنگلوں کی کٹائی ہے۔ انڈیا کے دیگر علاقوں میں بھی یہ مسئلہ دیکھا گیا ہے۔

ان میں سے کچھ علاقوں تک رسائی بالکل منقطع ہوگئی ہے کیونکہ جھیلوں جیسی سیلاب سے بچاؤ کے قدرتی وسائل ختم ہوتے جا رہے ہیں۔ اس کی ایک وجہ تیزی سے بڑھتی ہوئی شہری آبادی ہے۔ 2015 میں بھی چنائی میں ایسی ہی وجوہات سے مسائل بڑھ گئے تھے۔

تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ کیرالہ کے سیلاب سے اس آفت کا ایک اور عنصر سامنے آیا ہے، اور وہ ڈیموں سے خطرہ۔ اگر انھیں درست انداز میں مینیج نہیں کیا جاتا تو جیسا کہ موسماتی تبدیلی کے ماہرین کہہ رہے ہیں، ان آفتوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے۔

اسی بارے میں