جواد ظریف: امریکہ نے ایران کے خلاف نفسیاتی جنگ شروع کی ہے

ایرانی پارلیمنٹ تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مسعود کرباسیان کے کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی حمایت میں 137 جبکہ مخالفت میں 121 ووٹ پڑے

ایران کی پارلیمنٹ نے ملک کے وزیر اقتصادیات مسعود کرباسیان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کو منظور کرتے ہوئے انھیں ان کے عہدے سے برطرف کر دیا ہے جبکہ ایرانی وزیر خارجہ نے امریکہ پر ایران اور اس کے تجارتی شراکت داروں کے خلاف ’نفسیاتی جنگ‘ شروع کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔

ایران کے وزیر اقتصادیات پر الزام ہے کہ وہ بینکوں کے نظام کو ٹھیک کرنے اور ملکی معیشت کو مضبوط بنانے میں ناکام رہے ہیں۔

امریکہ کی جانب سے ایران پر ایک بار پھر اقتصادی پابندیوں کے عائد کیے جانے کے بعد وزیر اقصادیات دوسرے ایسے وزیر ہیں جن کے خلاف پارلیمنٹ نے عدم اعتماد کی تحریک منظور کی ہے۔ تین ہفتے قبل ایرانی پارلیمنٹ وزیر محنت علی ربائی کے خلاف بھی ایسی ہی تحریک عدم اعتماد کو منظور کرتے ہوئے انھیں برطرف کر چکی ہے۔

یہ بھی پڑھیئے

ٹرمپ کی ایران سے تجارت کرنے والے ممالک کو دھمکی

ایران پر پابندی سے انڈیا کو خام تیل کی قلت کا خطرہ

ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے امریکی ’ایکشن ٹیم‘ کا اعلان

پارلیمنٹ نے وزیر اقصادیات مسعود کرباسیان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے حق میں 137 جبکہ اس کی مخالفت میں 121 ووٹ پڑے۔

دوسری جانب خبررساں ادارے تسنیم کے مطابق اتوار کو ایرانی وزیرخارجہ محمد جواد ظریف نے امریکہ پر ’ایران اور اس کے تجارتی شراکت داروں کے خلاف نفیساتی جنگ' شروع کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption جواد ظریف نے کہا کہ امریکی صدر ٹرمپ کا جوہری مواہدے سے دستبردار ہونے کے فیصلے سے امریکہ کو نقصان پہنچا ہے

امریکہ کی جانب سے ایران کے ساتھ ہونے والے جوہری معاہدے سے دستبردار ہونے اور اس پر اقتصادیوں پابندیاں لگانے کی وجہ ایران کی معیشت پر برے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ صدر حسن روحانی کی حکومت ملکی کرنسی کی گرتی ہوئی قدر کو روکنے میں ناکام رہی ہے۔

ایرانی خبررساں ادارے اسنا کے مطابق جواد ظریف نے کہا کہ امریکی صدر ٹرمپ کا جوہری مواہدے سے دستبردار ہونے کے فیصلے سے امریکہ کو نقصان پہنچا ہے۔

جواد ظریف نے کہا کہ ’ٹرمپ کے جوہری معاہدے سے دستبردار ہونے کے اعلان کے وقت سے اب تک امریکہ اپنے اہداف حاصل نہیں کر سکا ہے۔‘

خیال رہے کہ صدر حسن روحانی جنھیں معتدل رہنما مانا جاتا ہے، انھیں سخت گیر حلقوں کی طرف سے تنقید کا سامنا ہے۔

رواں برس جون میں تہران کے مشہور گرینڈ بازار میں لوگوں نے ملک میں اشیائے ضرورت کی بڑھتی ہوئے قیمتوں اور ریال کی قدر میں کمی پر احتجاج کیا تھا۔ جون میں ہونے والے مظاہروں کو 2012 کے بعد سب سے بڑا احتجاج مانا جاتا ہے۔

پولیس نے مظاہرین کو پارلیمنٹ کی طرف مارچ کرنے سے روکنے کے لیے اشک بار گیس کا بے دریغ استعمال کیا تھا۔

اسی بارے میں