کشمیر: ’35A کا خاتمہ نیوکلیئر بم سے بھی خطرناک ہوگا‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں خطے کی آئینی حیثیت برقرار رکھنے کے لیے مظاہرے

بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں دو سال سے مسلح تشدد، فوجی آپریشنوں، ہلاکتوں، گرفتاریوں اور پابندیوں کی وجہ سے غیر یقینی کا ماحول ہے۔ ہند مخالف عسکری و احتجاجی تحریک نے ہند نواز سیاسی بیانیے کو مکمل طور پر بے اثر کر دیا ہے۔

لیکن گزشتہ ماہ جب بھارتی سپریم کورٹ نے اعلان کیا کہ بھارتی آئین کی دفعہ 35A کو ہٹانے کا مطالبہ کرنے والی کئی درخواستوں کی سماعت شروع کی جائے گی تو کشمیر کی تقسیم در تقسیم سیاست اچانک ایک ہی صفحہ پر نظر آئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ SOPA Images
Image caption بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں چھ لاکھ سے زیادہ فوج اور سکیورٹی فورسز کے دستے تعینات ہیں

بھارتی آئین کی یہ دفعہ غیرکشیریوں کو کشمیر میں جائداد خریدنے، نوکریاں حاصل کرنے یا کشمیری شہریت حاصل کرنے سے روکتی ہے۔ کشمیریوں کا کہنا ہے کہ اگر یہ شق گئی تو کشمیر فلسطین بن جائے ، کیونکہ بھارت کے کروڑوں ہندو یہاں آباد ہوجائیں گے اور کشمیر کا مسلم اکثریتی کردار اقلیت میں بدل جائے گا۔

تاجر امجد بٹ کہتے ہیں: ’اگر یہ شق ہٹائی گئی تو یہ کشمیر پر نیوکلیئر بم گرانے سے بھی خطرناک ثابت ہوگا۔‘

سپریم کورٹ میں اس شق کو چینلج کرنے والی این جی اوز یا افراد آر ایس ایس کے حامی ہیں اور حکومت ہند نے اس سلسلے میں کوئی واضح موقف اختیار نہیں کیا ہے، حالانکہ حکومت عموماً آئین کی کسی شق کو چینلج کیے جانے پر عدالت میں اس کا دفاع کرتی ہے۔

دراصل بی جے پی کی سوچ ہے کہ کشمیر کو خصوصی حیثیت دینے والی اسی دفعہ 35A کی وجہ سے یہاں ہند مخالف جذبات اور علیحدگی پسند رجحانات پروان چڑھتے ہیں، اور اگر کشمیر کا مکمل انضمام بھارتی وفاق میں ہوجائے تو کشمیریوں کی خواہشات بھارت کے ساتھ ہم آہنگ ہو جائیں گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ SOAP IMAGES
Image caption بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں چھرے والی بندوقوں سے بہت سے لوگ اپنی بنائی سے محروم ہو چکے ہیں

علیحدگی پسند رہنماوں سید علی گیلانی، میر واعظ عمرفاروق اور یاسین ملک کا کہنا ہے کہ اس دفعہ کو ہٹانے کا مقصد مسئلہ کشمیر کی قانونی حیثیت کو زائل کرنا ہے۔ تاہم ہند نواز جماعتوں نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی کا کہنا ہے کہ کشمیر اور بھارت کے درمیان آئینی رشتوں کو ختم کر کے بھارت کشمیر پر اپنا قانونی حق کھو دے گا۔ لیکن کشمیری سیاست کے سبھی دھڑے فی الوقت سمجھتے ہیں کہ نریندر مودی کی حکومت کشمیریوں کی شناخت اور ان کی 'ڈیموگرافی' کے خاتمہ پر کمربستہ ہے، لہِذا اس حوالے سے علیحدگی پسند جو بھی پروگرام دیتے ہیں اس پر ہمہ گیر سطح پر عمل ہوتا ہے کیونکہ مقامی ہند نواز قوتیں اس کی حمایت کرتی ہیں۔

بھاجپا اور اس کے حامی حلقے بھارتی عوام کو یہ کہتے آئے ہیں کہ دفعہ 35A نے کشمیریوں کو بھارت میں ایک لاڈلی ریاست بنا دیا ہے اور کشمیر اس ملک میں ایک چھوٹا سا علیحدہ ملک ہے۔ لیکن سچ یہ ہے کہ 1954 میں جس صدارتی حکم نامہ کے ذریعہ 35A کو آئین میں داخل کیا گیا وہ ایک جامع حکم نامہ تھا جس میں کشمیر پر سپریم کورٹ کا دائرہ اختیار نافذ کرنا، یہاں کے ٹیکس نظام کو بھارتی معاشی نظام میں ضم کرنا، توانائی کے منصوبوں میں بھارت کی عمل داری اور پولیس کو وفاقی داخلہ سسٹم کے تحت لانے جیسے معاملات شامل تھے۔ اس حکم نامہ نے کشمیریوں کی آئینی خود مختاری کو اس قدر کمزور کر دیا تھا کہ اُسوقت کے بی جے پی لیڈروں نے اسے کشمیر کو وفاق میں ضم کرنے کی طرف نہایت بڑا قدم قرار دیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں کرفیو اور ہڑتالیں روز کا معمول ہیں

اب سوال یہ ہے کہ بھارتی آئین کی یہ شق اگر کشمیر کی خودمختاری پر کاری ضرب لگا چکی ہے، تو بی جے پی اسے ختم کیوں کرنا چاہتی ہے۔ برٹش انڈیا میں کشمیر پر ڈوگرہ مہاراجوں کی حکومت تھی۔ 1920 کی دہائی میں جموں کے ہندو ڈوگرے اور کشمیر کے ہندو پنڈت مہاراجہ ہری سنگھ کے پاس گئے اور ان سے کہا کہ پنجاب اور دوسری شمالی ریاستوں سے لوگ کشمیر میں آباد ہو کر سرکاری نوکریاں حاصل کر رہے ہیں جس کی وجہ مقامی شہری بے روزگار ہو گئے۔ 1927 میں مہاراجہ ہری سنگھ کی حکومت نے جموں کشمیر شہریت قانون پاس کر دیا جس کی رُو سے کوئی بھی غیر کشمیری یہاں جائیداد کا مالک نہیں بن سکتا اور نہ سرکاری نوکری حاصل کرسکتا ہے۔ دفعہ 35A میں اسی پرانے قانون کی توثیق کی گئی اور ریاست کی اسمبلی نے اس کو تسلیم بھی کیا۔

تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ بی جے پی کو بھارت میں اگلے انتخابات میں ایک سخت گیر نعرے کی ضرورت ہے۔ چونکہ پاکستان کے خلاف کوئی جارحانہ فوجی کارروائی ممکن نہ ہوسکی اور نہ ایودھیا میں رام مندر بن سکا، لے دے کے کشمیر بچتا ہے، جہاں علیحدگی پسندوں اور مسلح عسکریت پسندوں کے خلاف وسیع آپریشن جاری ہے، لیکن بی جے پی ایک نظریاتی آپریشن چاہتی ہے تاکہ بھارتی عوام کو بتایا جائے کہ جو کام کانگریس ستر سال میں نہ کرسکی وہ مودی سرکار نے پانچ سال میں کر دکھایا۔

حالانکہ دفعہ 35A کو ہٹانا اتنا آسان نہیں ہے، لیکن کشمیری خوفزدہ ہیں۔ سابق گورنر این این ووہرا دس سال تک کشمیرکے گورنر رہے۔ انھوں نے امرناتھ یاترا کے نظام کو فعال بنانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ لیکن گزشتہ ہفتے جب انھوں نے مودی حکومت کو لکھا کہ دفعہ 35A کا معاملہ کشمیر میں کسی منتخب حکومت کی تشکیل تک ٹال دیا جائے توآناً فاناً انھیں تبدیل کر کے ان کی جگہ ستیہ پال ملک کو گورنر مقرر کیا گیا۔

سپریم کورٹ میں کم از کم نصف درجن درخواستیں ہیں جن میں دفعہ 35A کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اس معاملہ کی اگلی سماعت 31 اگست کو طے ہے۔ علیحدگی پسندوں نے تیس اگست سے ہی دو روزہ ہڑتال کی کال دی ہے۔ اس کال کی حمایت سبھی حلقوں نے کی ہے۔ سپریم کورٹ کی سماعت پر سب کی نظریں ہیں۔ لوگوں میں اس قدر خوف ہے کہ تاجر مال نہیں خرید رہے اور لوگ شادی بیاہ کے معاملے نمٹا رہے ہیں کیونکہ سب کو لگتا ہے کہ اگر عدالت نے 35A کو ہٹانے کا فیصلہ کیا تو کشمیرمیں آگ لگ جائے گی۔

اسی بارے میں