بلاگ: معذور سے ریپ اور چبھتے سوال بھی اسی سے

ریپ
Image caption انڈیا کے شہر دہرادون میں معذور لڑکی کے ساتھ ریپ کا معاملہ

ریپ کی متاثرہ ایک لڑکی سے جب میں نے پہلی بار بات کی تو اس نے بتایا کہ اس کے لیے ریپ کی زیادتی سے زیادہ دردناک یہ بات تھی کہ کوئی اس کی بات ماننے کو تیار نہیں تھا۔ عام طور پر لوگوں کو اس بات پر یقین نہیں ہوتا کہ کسی معذور لڑکی کے ساتھ بھی ریپ ہو سکتا ہے۔

پولیس، ہمسائے اور یہاں تک خود متاثرہ کے خاندان والے اس سے پوچھ رہے تھے کہ ’معذور لڑکی کے ریپ سے کسی کو کیا ملے گا؟‘

اس کے ساتھ گینگ ریپ ہوا تھا۔ متاثرہ کے مطابق اس کے ہمسائے اور اس کے دوست نے اسے کولڈ ڈرنک میں کچھ ملا کر دے دیا اور جب اسے ہوش آیا تو وہ ایک گلی میں نیم برہنہ حالت میں پڑی تھی۔ آخر کار پولیس نے شکایت درج کر لی اور اب مقدمہ چل رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

’کسی کو آپ کے ریپ سے کیا ملے گا؟‘

معذور خواتین کے ساتھ ریپ کے معاملوں میں بیشتر اوقات ان کے قریبی افراد ہی ان کا ساتھ نہیں دیتے۔

انڈین ریاست اترکھنڈ کے شہر دہرادون کے انسٹیٹیوٹ آف وژوئلی ہینڈی کیپڈ (این آئی وی ایچ) میں بھی ایسا ہی کچھ ہوا۔ ادارے کے ماڈل سکول میں خواتین طالب علموں نے موسیقی کے استاد پر جنسی زیادتی کا الزام لگایا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption معذور خواتین کے لیے لوگوں کو یہ یقین دلانا مشکل ہو جاتا ہے کہ ان کے ساتھ جنسی زیادتی ہوئی ہے

استاد فرار ہو گیا

ان لڑکیوں کی بات پر کسی نے یقین نہیں کیا۔ سکول کے پرنسپل نے اور نہ ہی منتظمیں نے۔

لڑکیوں کو تین دن تک ہڑتال کرنا پڑی۔ پھر سوشل میڈیا پر اس کا ویڈیو پوسٹ کیا، مقامی میڈیا تک خبر پہنچائی اور اس کے بعد پولیس نے معاملے کا نوٹس لیا۔

لڑکیوں نے مجسٹریٹ کے سامنے بیان دیے جس کے بعد ملزم ٹیچر پر پوکسو ایکٹ کے تحت ’معذوری کا فائدہ اٹھا کر جنسی زیادتی‘ کرنے کا مقدمہ درج کیا گیا۔

ملزم ٹیچر اب بھی مفرور ہے۔ اس معاملے کے بعد پرنسپل اور نائب پرنسپل کو عہدے سے ہٹا دیا گیا اور ادارے کے ڈائریکٹر نے استعفیٰ دے دیا۔

یہ بھی پڑھیے

’انڈیا میں ریپ کے جھوٹے دعوے ایک مسئلہ‘

ٹیچر نے ریپ کر کے اسقاط حمل بھی کروا دیا

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption انڈیا میں ٹیچر پر معذور طالب علموں کے ساتھ جنسی زیادتی کے الزامات

رپورٹ کیا کہتی ہے؟

صحت کے عالمی ادارے اور ورلڈ بینک کی سنہ 2011 کی رپورٹ ’ورلڈ رپورٹ آن ڈسیبیلیٹی‘ کے مطابق عام خواتین اور معذور مردوں کے مقابلے معذور خواتین کی تعلیم اور روزگار کے مواقع کم ہیں تاہم ان کے ساتھ جنسی زیادتی کے معاملوں کی شرح زیادہ ہے۔

رپورٹ کے مطابق ان کی تعلیم اور روزگار وغیرہ کو خاندان والے بھی کم اہمیت دیتے ہیں۔ اس کی خاص وجہ یہ بھی ہے کہ انھیں باہر بھیجنے سے ان کے تحفظ کی ذمہ داری بھی بڑھ جاتی ہے۔

معذور خواتین سے بات کر کے پتہ چلتا ہے کہ جنسی زیادتی کے خطرات ان کے لیے بےشک زیادہ ہیں لیکن ایسا بھی نہیں ہے کہ پوری دنیا انھیں وحشی نظروں سے دیکھ رہی ہو۔

دہلی کی جواہر لال نہرو یونیورسٹی کی طالب علم شویتا منڈل کے بقول ’ہمیں مدد چاہیے، اس میں کوئی دو آرا نہیں ہیں، اور وہ ملتی بھی ہے۔ غیر معذور افراد پر انحصار اور یقین ہماری زندگی کا بہت اہم حصہ ہے۔‘

این آئی وی ایچ میں بھی اسی یقین کے پیشِ نظر ہاسٹل میں رہنے والی معذور لڑکیوں کو دروازے اور کھڑکیاں کھلے رکھنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔

Image caption انڈیا میں ٹیچر پر معذور طالب علموں کے ساتھ جنسی زیادتی کے الزامات

یہ معاملہپہلی بار نہیں اٹھا

جنسی زیادی کے الزامات سامنے آنے کے بعد انڈیا کے نیشنل پلیٹ فارم فار دی رائٹس آف دی ڈس ایبلڈ کی دو رکنی ٹیم نے جب اس ادارے کا معائنہ کیا تو وہاں رہنے والی لڑکیوں نے بتایا کہ وہ ادارے میں خود کو غیر محفوظ محسوس کرتی ہیں۔

ادارے میں کام کرنے والے عملے کے مرد بغیر بتائے ہاسٹل میں داخل ہو جاتے ہیں۔ غسل خانوں کے دروازوں میں بھی چٹخنیوں نہیں لگائی گئیں۔

متاثرہ لڑکیوں نے بتایا کہ جب انھوں نے اپنے ساتھ ہونے والی مبینہ جنسی زیادتی کی شکایت پرنسپل سے کی تو پلٹ کر انھی کو تمیز والے کپڑے پہننے کا مشورہ دیا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption جنسی زیادتی کی شکار متعدد معذور لڑکیوں کا خاندان والے ہی ساتھ نہیں دیتے ہیں

یہ پہلی بار نہیں ہوا ہے کہ اس ادارے میں ایسا کوئی مسئلہ سامنے آیا ہو۔ اپریل میں اسی استاد اور موسیقی سکھانے والے ایک اور استاد کے خلاف بھی لڑکیوں نے جنسی زیادتی کی شکایت کی تھی۔

اس وقت بھی ہڑتال ہوئی تھی جس کے بعد دوسرے استاد کو گرفتار کر لیا گیا تھا لیکن اس استاد کو تب چھوڑ دیا گیا تھا جو اب تازہ معاملے میں ایک بار پھر ملزم ہیں۔

تاہم پوکسو ایکٹ کے تحت اگر کوئی نابالغ کسی اہلکار کو جنسی زیادتی کے بارے میں بتائے اور وہ اہلکار اس کا نوٹس نہ لے تو خود اس اہلکار کے خلاف کارروائی ہو سکتی ہے۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
’جس نے مجھے ریپ کیا، میں نے اسے مار دیا‘

یہاں سوال یہ اٹھتا ہے کہ اس ادارے کے پرنسپل اور منتظمین کے خلاف کیا کوئی کارروائی ہو گی؟

رائٹس آف پرسن ود ڈسیبلٹی ایکٹ کے تحت عہدے اور طاقت کا غلط استعمال کر کے کسی معذور کے ساتھ جنسی زیادتی کرنا قابل سزا جرم ہے۔

اس معاملے کی تحقیقات شروع ہو گئی ہیں۔ میں سوچتی ہوں تو مجھے دوبارہ اس ریپ متاثرہ کی بات یاد آتی ہے کہ جنسی زیادتی خود دردناک ہوتی ہے، لیکن متاثرین کی بات پر یقین نہ کرنا انھیں زیادہ تکلیف پہنچاتا ہے۔ خاص طور پر ان لوگوں کی طرف سے جن پر انھیں یقین ہوتا ہے۔ آگے کی لڑائی میں ان کا ساتھ نہ ملنا انھیں اور توڑ دیتا ہے۔

اسی بارے میں