کشمیر: تین دن میں پولیس اہلکاروں کے دس سے زیادہ رشتہ دار اغوا

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption اغوا کی یہ وارداتیں ان شکایات کے بعد رونما ہوئی جن میں الزام عائد کیا گیا کہ پولیس اور دوسری فورسز سرگرم عسکریت پسندوں کے والدین اور دوسرے رشتہ داروں کو ہراساں کرتے ہیں

جنوبی کشمیر کے تمام چار اضلاع میں گذشتہ تین روز کے دوران دس سے زیادہ ایسے کشمیریوں کو مسلح عسکریت پسندوں نے اغوا کیا ہے جن کے والد، بھائی یا نزدیکی رشتہ دار پولیس اہلکار یا پولیس افسر ہیں۔

گذشتہ بدھ کو برہان وانی کے آبائی قصبہ ترال سے ایگریکلچر یونیورسٹی کے طالب علم آصف رفیق کو ترال پنگلش گاؤں میں اپنے گھر سے اغوا کر لیا گیا۔ ان کی والدہ حمیدہ بیگم مسلسل ان کی رہائی کی اپیلیں کررہی ہیں۔

جمعرات اور جمعہ کے روز بھی کئی علاقوں سے تقریباً درجن ایسے کشمیریوں کو اغوا کیا گیا جن کے قریبی رشتہ دار پولیس میں ہیں۔

یہ بھی پڑھیئے

کشمیر: ’35A کا خاتمہ نیوکلیئر بم سے بھی خطرناک ہوگا‘

’دفعہ 35 اے گئی تو کشمیر فلسطین بن جائے گا‘

کشمیر میں جھڑپ، چار انڈین فوجیوں سمیت چھ ہلاک

شوپیان کے ایک طالب علمم نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر الزام عائد کیا کہ پولیس، فوج اور نیم فوجی فورسز سرگرم عسکریت پسندوں کے گھروں میں رات کو توڑ پھوڑ کرتے ہیں، اہل خانہ کو ہراساں کرتے ہیں اور بعض کو گرفتار بھی کرتے ہیں۔

’یہ تو ردعمل ہے۔ کشمیر پولیس مقامی فورس ہے۔ ظاہر ہے جب عسکریت پسندوں کے خاندان والوں کو پولیس ہراساں کرے گی تو عسکریت پسندوں کا ردعمل کیا ہوگا۔‘

شوپیان، پلوامہ اور کولگام کے کئی باشندوں کا بھی دعویٰ ہے کہ دو سال سے مسلسل پولیس اور فوج عسکریت پسندوں کے خاندانوں کو ہراساں کر رہی ہے۔ ’گھر میں آگ لگانے کی کوششیں کی گئیں، توڑ پھوڑ ہوئی۔‘

گذشتہ روز شوپیان میں مسلح عسکریت پسندوں نے چار پولیس اہلکاروں کی جیپ پر فائرنگ کی جس میں چاروں پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے اور حملہ آور پولیس والوں کی تین رائفلیں لے کر فرار ہو گئے۔

انھیں تلاش کرنے کے لیے جو آپریشن شروع کیا گیا اس میں درجنوں نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا۔ حزب المجاہدین کے سرگرم کمانڈر ریاض نائیکو عرف محمد بن قاسم کے والد کو بھی گرفتار کیا گیا۔ جنوبی کشمیر کے لوگوں کا الزام ہے کہ پولیس پر حملے کے بعد سرگرم عسکریت پسندوں کے خاندانوں پر پولیس اور فوج نے دھاوا بول دیا اور توڑ پھوڑ کی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption جنوبی کشمیر کے حالات کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ پولیس اور عسکریت پسندوں کے درمیان نفسیاتی جنگ چھڑ گئی ہے

اغوا کی یہ وارداتیں ان شکایات کے بعد رونما ہوئی جن میں الزام عائد کیا گیا کہ پولیس اور دوسری فورسز سرگرم عسکریت پسندوں کے والدین اور دوسرے رشتہ داروں کو ہراساں کرتے ہیں اور گھروں میں توڑ پھوڑ کی جاتی ہے۔ دو لاکھ اہلکاروں اور افسروں پر مشتمل کشمیر پولیس میں اکثریت مقامی لوگوں کی ہے۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے پولیس محکمہ نئے ضوابط تشکیل دینے پر غور کررہا ہے۔

یہ پہلا موقع ہے کہ عسکریت پسندوں نے مقامی پولیس اہلکاروں و افسروں کے رشتہ داروں کو اغوا کیا ہے۔ پولیس اہلکاروں کے رشتہ داروں میں خوف کی لہر پھیل گئی ہے۔ پولیس حکام کا دعویٰ ہے کہ اغوا کیے گئے افراد کو صحیح سلامت واپس لانے کی پوری کوشش کی جائے گی۔

جنوبی کشمیر کے حالات کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ پولیس اور عسکریت پسندوں کے درمیان نفسیاتی جنگ چھڑ گئی ہے، اور اس جنگ میں عسکریت پسندوں اور پولیس اہلکاروں کے رشتہ دار متاثر ہو رہے ہیں۔

ذرائع نے بتایا کہ جموں کشمیر پولیس نے بھارتی وزارت داخلہ کو ایک رپورٹ بھیجی ہے جس میں عسکریت پسندوں کے اہل خانہ کو ہراساں کرنے کی پالیسی پر نظرثانی کی سفارش کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس صورتحال سے مقامی پولیس اور عسکریت پسندوں کے درمیان خانہ جنگی کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔

ترال سے پولیس اہلکار غلام حسن میر کے بیٹے ناصر میر کو اغوا کیا گیا ہے۔ غلام حسن نے پولیس محکمہ کی سخت ہدایات کی وجہ سے بات کرنے سے انکار کر دیا، تاہم ان کے ایک رشتہ دار نے بتایا: ’اگر لڑائی پولیس اور عسکریت پسندوں کی ہے تو اُن لوگوں کو اغوا کیوں کیا گیا جن کا ان سب سے کچھ لینا دینا نہیں۔ ہم اپیل کرتے ہیں کہ لڑکے کو رہا کیا جائے کیونکہ اس کا کوئی قصور ہی نہیں۔‘

تاہم عسکریت پسندوں کے لواحقین بھی یہی کہتے ہیں: ’اگر لڑائی عسکریت پسندوں کے ساتھ ہے تو ان کے خاندان والوں کو کیوں ہراساں کیا جا رہا ہے۔‘

فی الوقت پولیس کے سربراہ شیش پال وید نے تمام پولیس اہلکاروں کو چھٹی پر جانے سے منع کر دیا ہے۔ انتہائی مجبوری میں انھیں کہا گیا ہے کہ گھر والوں کو مطلع کیے بغیر اچانک دو گھنٹے کے لیے گھر جا سکتے ہیں۔

واضح رہے جموں کشمیر پولیس ڈیڑھ سو سال پہلے ڈوگرہ شاہی کے دور میں تشکیل دی گئی تھی۔ جموں کشمیر پولیس تقریباً دو لاکھ اہلکاروں پر مشتمل فورس ہے، جو پچھلے تیس سال سے انسدادِ دہشت گردی جیسی کارروائیوں میں فوج اور نیم فوجی فورسز کی معاونت کر رہی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں