’بوڑھے شاعر کو دستی بم اور راکٹ لانچر خرید نے کی ذمہ داری‘

  • شکیل اختر
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی
ورور راؤ

،تصویر کا ذریعہAFP/GETTY IMAGES

مہاراشٹر کی پونے پولیس نے گذشتہ منگل کو ملک کے کئی شہروں سے حقوقِ انسانی کے پانچ سرکردہ کارکنوں کو گرفتار کیا جن میں معروف صحافی اور حقوق انسانی کے علم بردار گوتم نولکھا، چھتیس گڑھ میں قبائلیوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی معروف وکیل سدھا بھاردواج اور آندھرا کے ایک مقبول شاعر اور دانشور ورور راؤ بھی شامل ہیں۔

ان کارکنوں کی گرفتاری پر شدید ردعمل سامنے آیا اور اسے مخالف آوازوں کو دبانے کی کوشش قرار دیا گیا۔

سپریم کورٹ کی مداخلت کے بعد انھیں پولیس اپنی تحویل میں نہیں لے سکی اور انھیں ان کے گھروں میں نظر بند رکھنے کا حکم دیا گیا۔ عدالت عظمی میں اس معاملے کی آئندہ سماعت چھہ ستمبر کو ہو گی۔ اس دن یہ طے ہو گا کہ پولیس انھیں تفتیش کے لیے اپنی تحویل میں لے سکتی ہے یا نہیں۔

اس سے پہلے کہ یہ معاملہ عدالت میں سماعت کے لیے آتا مہاراشٹر پولیس کے اعلی افسروں نے ایک طویل ایک پریس کانفرنس میں یہ دعویٰ کیا کہ حقوقِ انسانی کے لیے سر گرم یہ شاعر، صحافی، وکیل اور کارکن ماؤ نواز تحریک کی شہری شاخ کا حصہ ہیں اور یہ بی جے پی کی حکومت کو گرانے کے لیے ایک مسلح حملے کی تیاری کر رہے تھے۔

یہ بھی پڑھیے

پولیس کے دعوے کے مطابق برطانوی اور روسی ساخت کے دستی بم، راکٹ لانچرز اور مشین گنز خریدنے کی ذمہ داری شاعر ورور راؤ کو دی گئی تھی اور گوتم نولکھا انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں علیحدگی پسندوں اور ماؤنوازوں کے درمیان رابطے کا کام کر رہے تھے۔

،تصویر کا ذریعہPTI

پولیس کا کہنا ہے کہ انھیں ہزاروں خطوط، ای میلز اور کاغزات ملے ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ یہ دلتوں اور اقلیتوں میں بے چینی پیدا کرنا چاہتے تھے۔

ان پانچوں کارکنوں کی حراست سے چند مہینے قبل پولیس نے کئی پروفیسروں، وکیلوں اور دانشوروں کو اسی نوعیت کے الزامات میں گرفتار کیا تھا اور انھی سے پوچھ گچھ کی بنیاد پر ان کارکنوں کو حراست میں لیا گیا۔

جن دانشوووں اور کارکنوں پر پولیس نے بی جے پی کی حکومت کے خلاف مسلح بغاوت کا الزام عائد کیا ہے وہ سبھی اپنے اپنے طریقے سے انسانی حقوق کے لیے کام کر رہے تھے۔

انڈیا میں جے پی کی حکومت رہی ہو یا کانگریس کی ان کارکنوں کو ریاست کبھی اچھی نظر سے نہیں دیکھتی اور انھیں ہمیشہ ریاست کا دشمن ہی تصور کیا جاتا تھا۔

گوتم نولکھا انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں حقوق انسانی کی پامالیوں کے خلاف برسو ں سے آواز اٹھاتے رہے ہیں۔ کشمیر سے متعلق ان کے نظریات سے بیشتر سیاسی جماعتوں سمیت بہت سے لوگ متفق نہیں ہوں گے لیکن اپنی طویل عوامی زندگی میں انھوں نے تشدد یا جنگجوئیت کی حمایت نہیں کی۔

،تصویر کا ذریعہTwitter

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

سدھا بھاردواج چھتیس گڑھ میں مبینہ فرضی انکاؤنٹرز اور قبائلیوں کے مقدمات کی پیروی کرتی تھیں۔ ماؤنواز انتہا پسندوں کے خلاف فورسز کی مہم میں بے قصوروں کو نشانہ بنائے جانے کےخلاف وہ ایک موثر دفاعی شیلڈ تھیں اور اس کے نتیجے میں ماضی میں بھی انھیں کئی بار ریاست کے جبر کا سامنا کرنا پڑا جبکہ ورور راؤ ایک ممتاز شاعر ہیں جو خود کو ایک انقلابی شاعر کہتے ہیں ۔وہ 50 برس سے شاعری کر رہے ہیں۔

گرفتار ہونے والے بیشتر کارکن نظریاتی طور پر بائیں بازو یا اعتدال پسندی میں یقین رکھتے ہیں۔ حکمراں ہندو قوم پرست بی جے پی اور آر ایس ایس جیسی دائیں بازو کی تنظیموں کی نظر میں یہ ہمیشہ 'قوم دشمن' اور 'ہندو دشمن' کے زمرے میں آتے ہیں۔

حکومت اور پولیس کا کہنا ہے کہ ماؤ نوازوں سے ان کے گہرے تعلقات ہیں اور ان کی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے ان کے پاس ٹھوس شواہد موجود ہیں لیکن ان کارکنوں کا دفاع کرنے والوں کا کہنا ہے کہ بی جے پی حکومت انتخابات سے قبل زبردست دباؤ میں ہے۔

ان کے مطابق حکومت ان گرفتاریوں کے ذریعے اپنے مخالفین کی آوازوں کو دبانا اور ملک کی فضا میں خوف کا ماحول پیدا کرنا چاہتی ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہندو قوم پرست حکومت اعتدال پسند اور بائیں بازو کے نظریات کو کچلنا چاہتی ہے تاکہ وہ بقول ان کے اپنے ہندتوا کے نظریے کو مسلط کر سکے۔

بعض دانشوروں اور مبصرین نے ان گرفتاریوں پر شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے اسے جمہوریت پر حملہ قرار دیا ہے۔

ایک بوڑھا شاعر، یونیورسٹی میں قانون کی تعلیم دینے والی ایک قانون داں اور دانشور، حقوق انسانی کے لیے برسوں سے سرگرم ایک کارکن اور ایک سرکردہ صحافی لکھنے پڑھنے کے بجائے کس طرح دستی بم، راکٹ لانچرز اور مشین گنوں کا کاروبار شروع کرے گا یہ تو نہیں معلوم لیکن آئندہ ہفتے جب ملک کی عدالت عظمی میں یہ معاملہ پیش ہو گا تو ان سوالوں کے جواب دینے ہوں گے۔