کھانا پکانا اور سٹیلائٹ کو مریخ کے گرد گھمانا کوئی ان سے سیکھے

دکشیانی

کیا آپ مریخ کے گرد خلائی گاڑی کی رہنمائی بھی کریں اور ساتھ میں رات دن آٹھ لوگوں کا کھانا بھی پکا سکتے ہیں؟ یہ اسی وقت ممکن ہے جب آپ کا نام بی پی دکشیانی ہو اور آپ صبح پانچ بجے اٹھ جاتے ہوں۔

انڈیا کی خلائی ایجنسی اسرو میں فلائٹ ڈائنامکس اور سپیس نیویگیشن کی سابق سربراہ بتاتی ہیں کہ انھوں نے ایسا کس طرح کیا۔

انھیں راکٹ وومن یا پھر مریخ کی خاتون کا نام دیا گيا۔ چار سال قبل ساڑھی میں ملبوس خواتین کے ايک گروپ کی تصویر عام ہوئی تھی جس میں وہ مریخ کے مدار میں انڈیا کے خلائی مشن کے کامیابی سے داخل ہونے کا جشن منا رہی تھیں۔ اس میں ایک بی پی دکشیانی بھی تھیں۔

وہ اس ٹیم کی سربراہی کر رہی تھیں جو سٹیلائٹ پر نظر رکھ رہی تھی اور اس کی رہنمائی کر رہی تھی کہ اسے کہاں جانا ہے اور اس بات کی یقین دہانی کر رہی تھی کہ وہ اپنی راہ سے بھٹک نہ جائے۔

یہ بھی پڑھیے

کھانا بنانے کی شوقین ایک بغیر پیٹ والی لڑکی!

انڈین مسلم نوجوان نے 'سب سے ہلکا' سیٹیلائٹ بنا لیا

ان کی ایک ساتھی (خاتون) نے اس کام کو اس طرح بیان کیا کہ آپ گالف کی گیند پر انڈیا میں نشانہ لگائيں اور یہ امید کریں کہ وہ لاس اینجلس میں بنے سوراخ میں جائے اور ایسا سوراج جو مستقل گھوم رہا ہو۔

یہ ایک مشکل کام تھا جو کہ ایک ہندوستانی بیوی ہونے کے سبب مزید مشکل ہو گیا تھا۔ لیکن ان کی قوت خود ارادی کئی سال قبل ظاہر ہو چکی تھی جب ایک 'روایتی، قدامت پسند اور سخت' خاندان کی لڑکی نے سائنس کے شعبے میں اپنے کريئر کا انتخاب کیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption انڈیا کے خلائی مشن کے مریخ کے مدار میں داخل ہونے پر جشن مناتی ہوئی خواتین کی تصویر

جنوبی انڈیا کی ریاست کرناٹک کے قصبے بھدراوتی میں سنہ 1960 کی دہائی میں پیدا ہونے والی اس لڑکی کی پہلے پہل ہمت افزائی ان کے والد نے کی جو کہ بار آور ثابت ہوئی۔ ان کے قصبے میں ایک ہی خاتون تھی جنھوں نے انجینیئرنگ کی تعلیم حاصل کی تھی اور جب وہ دکشیانی کے گھر کے سامنے سے گزرتی تو وہ ان کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے دوڑ کر گھر سے باہر نکل آتی۔

اس زمانے میں لڑکیوں کی تعلیم کو اہمیت نہیں دی جاتی تھی اور کسی لڑکی کا یونیورسٹی میں جانا غیر معمولی بات تھی۔ لیکن ان کے والد جو کہ اکاؤنٹینٹ تھے اور کا حساب کاعلم متاثر کن تھا وہ ان کی تعلیم جاری رکھنا چاہتے تھے۔ اس لیے انھوں نے انجینیئرنگ کی تعلیم حاصل کی اور کم عمری میں ہی ڈگری مکمل کی۔

اس کے بعد مسئلہ پیدا ہوا۔ دکشیانی ماسٹرس کرنا چاہتی تھی جبکہ ان کے والد کا خیال تھا کہ بی ایس سی ہی کافی ہے۔ بالآخر دکشیانی کی جیت ہوئی اور وہ پھر اچھے نمبروں سے کامیاب ہوئيں۔

اس کے بعد انھوں نے ایک کالج میں حساب پڑھانے کی نوکری کر لی لیکن ان کی دلچسپی سیٹلائٹ اور خلا میں گہری ہوتی جا رہی تھی۔ ایک دن انھوں نے انڈین خلائی ایجنسی اسرو میں ایک آسامی کا اشتہار دیکھا۔ انھوں نے عرضی داخل کی اور منتخب ہو گئیں۔

یہ سنہ 1984 کی بات تھی جب انھیں آربیٹل ڈائنامکس کے کام پر رکھا گيا اور آج وہ اس شعبے کی ماہر ہیں لیکن ابتدا میں انھیں اس کے مبادیات کو سمجھنے کے لیے کڑی محنت کرنی پڑی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption مدار میں سٹیلائٹ کو ٹریک کرنا ایک مشکل کام ہے

انھیں کمپیوٹر پروگرامنگ کا کام بھی سونپا گیا لیکن مصیبت یہ تھی کہ اس سے قبل انھوں نے کبھی کمپیوٹر دیکھا تک نہ تھا۔ اس زمانے میں یہ کوئی غیرمعمولی بات بھی نہیں تھی۔ اس وقت لوگوں کے پاس کمپیوٹر نہیں ہوتے تھے اور نہ ہی سمارٹ فون اور ٹیبلٹ ایجاد ہوئے تھے۔ لیکن ان کے پاس کتابیں تھیں۔ اس لیے وہ کام کے بعد روزانہ گھر جا کر کمپیوٹر پروگرامنگ پر کتابوں کا مطالع کرتیں۔

اس سے قبل انھیں گھر کے مختلف کام بھی کرنے پڑتے تھے۔ اسرو میں ایک سال کام کرنے بعد ان کے والدین نے ان کی شادی ایک ہڈی کے سرجن ڈاکٹر منجوناتھ بساوالنگپا کے ساتھ کردی جس کا مطلب یہ ہوا کہ ان پر اچانک ایک گھر کی دیکھ بھال کی ذمہ داری آ گئی۔

دفتر میں وہ سٹیلائٹ کی نگرانی کرنے کے لیے مختلف قسم کے حساب اور کمپیوٹر پروگرامنگ کرتیں اور گھر پر وہ اپنی وسیع فیملی کی دیکھ بھال کرتیں جن میں ان کے ساس سسر، شوہر اور ان کے بھائی بہن شامل تھے اور پھر چند ہی سال میں ان کے اپنے دو بچے شامل ہو گئے۔

انھوں نے کہا: 'میں صبح پانچ بجے اٹھتی کیونکہ مجھے سات آٹھ لوگوں کا کھانا پکانا ہوتا جو کہ بہت آسان کام نہیں تھا۔ ہمارے کھانے کا طرز بھی ایسا تھا کہ اس میں چپاتیاں شامل تھیں جن کے بنانے میں وقت لگتا ہے۔ میں گھر بھر کے لیے کھانا تیار کرتی پھر دفتر جاتی۔'

دفتر میں آنے کے بعد گھر کے بارے میں سوچنے کا کم ہی موقع ملتا اور وہ دوپہر کے بعد ایک بار فون کرتیں کہ بچے کیسے ہیں۔ شام کو دفتر سے واپس ہوتیں اور پھر کھانا پکانے میں لگ جاتیں۔

وہ کہتی ہیں کہ یہ سب بہت مشکل تھا۔

وہ کہتی ہیں کہ ان کے بعض رشتہ داروں کا خیال تھا کہ میں نوکری چھوڑ دوں گی 'لیکن میں ایسی نہیں کہ بہت آسانی سے شکست تسلیم کر لوں۔'

'میرے والد کا بھی کہنا تھا کہ مجھے اخیر تک کوشش کرنی چاہیے۔ جب کوئی تکنیکی چیز سمجھ میں نہیں آتی تو میں اسے بار بار پڑھتی۔'

وہ کہتی ہیں کہ بعض اوقات وہ ایک دو بجے سونے جاتیں اور پھر صبح چار بجے کام کے لیے جگ جاتیں۔

لیکن دکشیانی کو ان سب سے شکایت نہیں ہے۔ ان کی آواز میں جوش نظر آتا ہے جب وہ اپنے کام اور گھر کے بارے میں ذکر کرتی ہیں کہ کس طرح انھیں اپنے کام اور گھر کے کام میں خوشی حاصل ہوتی تھی۔

وہ کہتی ہیں: 'میں تھوڑی تھوڑی تبدیلی کے ساتھ نئی چیزیں تیار کرنے کی کوشش کرتی ہوں۔ کھانا پکانا بھی کوڈنگ کی طرح ہے کہ ایک چھوٹی سی تبدیلی سے نتیجہ بدل جاتا ہے اسی طرح ایک مسالے سے ذائقہ بدل جاتا ہے۔'

ایک شام دکشیانی نے مجھے اپنے شوہر سے ملنے کے لیے اپنے بنگلور کے بنگلے پر مدعو کیا۔ چائے پر دونوں نے بتایا کہ کس طرح انھوں نے دہائیاں ساتھ گزاریں اور کس طرح دونوں نے مشکل حالات میں ایک دوسرے کا ساتھ دیا اور کس طرح ان کا رشتہ پروان چڑھا اور ایک دوسرے کی عزت ان کے دلوں میں بڑھی۔

دکشیانی کہتی ہیں کہ شروع میں ان کے شوہر کو پتہ نہیں تھا کہ دراصل وہ کیا کرتی ہیں۔ کبھی کبھی میں سنیچر کو بھی کام پر جاتی تو وہ سوچتے کہ ایسا اس لیے ہے کہ میں اپنا کام ٹھیک ڈھنگ سے نہیں کر پا رہی ہوں۔'

لیکن رفتہ رفتہ انھوں نے سمجھ لیا کہ سٹیلائٹ ان کی اہلیہ کے کام کے اوقات کو چلاتا ہے اور وہ ان کی خواہش پر نہیں چلتا ہے۔ آج ڈاکٹر بساوالنگپا کو اپنی اہلیہ پر ان کے مریخ کے مشن پر ان کی محنت اور لگن کے لیے ناز ہے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ ایک دوسرے کو دس میں سے کتنا نمبر دیں گے تو ڈاکٹر بساوالنگپا نے دکشیانی کو دس میں دس نمبر دیے جبکہ دکشیانی نے اپنے شوہر کو ہنستے ہوئے ساڑھے نو نمبر دیے اور کہا کہ 'انھوں نے کبھی بھی گھر کے کام میں ان کا ہاتھ نہیں بٹایا۔'

روایتی ہندوستانی گھر میں خاتون کے گھر کی تمام تر ذمہ داری اٹھانی پڑتی ہے اور وہ اس کسی شکایت کے بغیر کرتی ہیں اور دکشیانی اس سے مستثنی نہیں۔

Image caption دکشیانی اپنے شوہر کے ساتھ

اسی بارے میں