چینی مائیں اگست میں بچہ پیدا کرنا کیوں چاہتی ہیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ CNS
Image caption والدین بچوں کا جلد سکول میں داخلہ چاہتے ہیں

چینی میڈیا نے ملک میں حاملہ خواتین کی جانب سے اگست کے مہینے میں آپریشن سے بچہ پیدا کرنے کے رجحان کی نشاندہی کی ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ خواتین چاہتی ہیں کہ ان کے بچوں کا تعلیمی سال ستمبر میں پیدا ہونے والے بچوں سے پہلے شروع ہو جائے۔

چائنہ نیوز ایجنسی سی این ایس پر نشر کی جانے والی ویڈیو میں وہان کے ہسپتال کا ایک مصروف منظر دیکھا جا سکتا ہے جس میں بہت سی حاملہ خواتین موجود ہیں۔ اس ویڈیو کے بعد چین میں بچوں کی پیدائش سے متعلق ایک بحث چھڑ گئی۔

حکومت بچوں سے متعلق پالیسی میں تبدیلی کر کے قدرتی زچگی کو فروغ دینا چاہتی ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ پہلی مرتبہ بچے کی پیدائش اگر آپریشن سے کر دی جائے تو دوسرے بچے کی پیدائش میں پیچیدگیاں ہو سکتی ہیں۔

اسی بارے میں

چین:پابندی ختم ہونے کے بعد شرح پیدائش میں اضافہ

چین کی ترقی کے کیا معانی، دیکھیں ان چارٹس میں؟

چین میں یہ بات بھی عام ہے کہ والدین پر اپنے بچوں کو بہترین تعلیم دلوانے کا بھی دباؤ ہوتا ہے اس لیے وہ چاہتے ہیں کہ ان کا تعلیمی دور جلد از جلد شروع ہو جائے۔

اس مسئلے پر چین میں ایک آن لائن بحث شروع ہو گئی ہے کہ سماجی دباؤ کی وجہ سے بچوں پر پیدائش سے قبل ہی کامیابی کا دباؤ شروع ہو جاتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ CNS
Image caption مسٹر وانگ کے پہلے بچے کے سکول داخلے میں مسائل پیدا ہوئے

برطانوی تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ گرمیوں میں پیدا ہونے والے بچے امتحانات میں کم کارکردگی دکھا پاتے ہیں۔ اور اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے ہم جماعتوں سے عمر میں ایک سال چھوٹے ہوتے ہیں اور ان کے دماغ کی ابھی ٹھیک سے نشونما نہیں ہو پاتی۔

جلد سکول شروع کرنے کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ آپ زندگی میں آگے رہتے ہیں کیونکہ فن لینڈ کو تعلیم کے میدان میں رہنما تصور کیا جاتے ہیں لیکن وہاں بھی باقاعدہ تعلیم سات سال کی عمر سے پہلے شروع نہیں ہوتی۔ لیکن وہاں کے بچے دیگر ممالک میں جلد سکول شروع کرنے والے اپنی عمر کے بچوں کے برابر علم حاصل کر لیتے ہیں۔

سی این ایس کی رپورٹ کے مطابق چین کے مقامی ہسپتالوں میں آنے والے حاملہ خواتین کی تعداد متوقع خواتین سے 30 فیصد زیادہ ہے۔

ایک ڈاکٹر سانگ ژیاوہوئی نے سی این ایس کو بتایا کہ ’کچھ ماؤں نے تو اس ماہ میں نارمل زچگی نہ ہونے کی صورت میں 31 اگست کی آپرشین کی تاریخ لے رکھی ہے۔‘

سی این ایس کے مطابق ڈاکٹرز خواتین کو قدرتی زچگی کروانے کے لیے قائل کرنے کی کوشش کرتے ہیں کیونکہ وقت سے پہلے پیدا ہونے والے بچوں کے پھیپھڑے مکمل نہیں بن پاتے اور انھیں زندگی میں آگے چل کر سانس کی تکالیف ہو سکتی ہیں۔

لیکن یہ بات بھی بعض والدین کو آپریشن سے روک نہیں پاتی۔

ایک والد مسٹر وانگ نے سی این ایس کو بتایا کہ ان کے پہلے بچے کو سکول میں دیر سے داخلے کا مسئلہ ہوا تھا کیونکہ وہ ستمبر میں پیدا ہوا۔

تصویر کے کاپی رائٹ CNS
Image caption ہسپتال جانے والے حاملہ خواتین کی تعداد 30 فیصد زیادہ تھی

کئی سوشل میڈیا صارفین نے اس رحجان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ صرف جلد سکول داخلے کے لیے وقت سے پہلے بچے کی پیدائش پاگل پن ہے۔

مائیکرو بلاگنگ سائٹ ویبو پر ایک صارف نے لکھا ’کیا آج کل لوگوں کو بچے کی صحت کے بارے میں کویی پرواہ نہیں ہوتی؟ ایک بچے کی صحت کے لیے حمل کی مدت کا پورا ہونا نا گزیر ہے۔‘

ایک دوسری صارف نے لکھا ’یہ پاگل پن ہے۔ ہمارا معاشرہ فوری کامیابی کے لیے بہت بے تاب ہے۔‘

ایک صارف کا کہنا تھا ’ابھی بچہ پیدا ہوا نہیں کہ اسے قطار میں کھڑا کر دیا گیا ہے‘۔

اسی بارے میں