کولکتہ سے ملنے والے لفافوں میں بچوں کے باقیات نہیں بلکہ ہسپتال کا کچرا تھا: پولیس

نو مولود بچے
Image caption فائل فوٹو

انڈیا کی ریاست مشرقی بنگال کی دارالحکومت کولکتہ میں پولیس کے مطابق تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ ایک میدان سے ملنے والے پلاسٹک کے لفافوں میں نومولود کے باقیات نہیں بلکہ ہسپتال کا کچرا تھا۔

اس سے پہلے ابتدائی تحقیقات میں کہا گیا تھا کہ لفافوں میں بند 14 نومولود اور غیرنومولود بچوں کی باقیات ملی ہیں۔

یہ لفافے اتوار کو اس وقت ملے جب مزدوروں نے ہری دیو پور کے علاقے میں ایک خالی میدان کی کھدائی کر رہے تھے۔ کی۔ اخبار ہندوستان ٹائمز کے مطابق ایک تعمیراتی کمپنی نے حال ہی میں یہ جگہ خریدی تھی۔

یہ بھی پڑھیں!

سینے سے باہر دل کے ساتھ پیدا ہونے والی بچی

’آخری رسومات کے راستے میں بچے کی لاش زندہ نکلی‘

’پاکستان میں نومولود بچوں کی اموات دنیا میں سب سے زیادہ‘

مردہ قرار دی گئی خاتون اچانک زندہ، ہسپتال میں زیر علاج

اس خبر کے سامنے آتے ہی علاقے میں اشتعال پھیل گیا تھا اور شبہ کیا جا رہا تھا کہ علاقے میں غیر قانونی اسقاطِ حمل کیا جا رہا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے ’ڈاکٹرز نے یہ لفافے کھولے تو انہیں اس میں انسانی بافتیں نہیں۔ تاہم اس میں کیا تھا یہ علم نہیں ہے۔‘

یہ مواد ماہرین کو بھجوایا جائے گا تاکہ علم ہوسکے کہ آخر یہ ہے کیا۔

اس سے پہلے کولکتہ کے میئر سون چٹرجی کا کہنا ہے کہ ’تمام علاقے بشمول پانی والی جگہوں پر تلاش کا کام کیا جا رہا تھا کہ کہیں مزید لاشیں نہ ہو۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ ان لاشوں کو کیمیکلز میں بھگویا گیا ہے۔‘

خبررساں ادارے پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے مطابق ایک پولیس افسر کا کہنا تھا کہ ’آس پاس واقع کوئی حمل گرانے کا کام‘ اس کا ذمہ دار ہو سکتا ہے۔

پولیس افسر کے مطابق ’ہمیں کوئی اندازہ نہیں کہ یہ مبینہ (لاشیں) کہاں سے آئی ہیں۔ واقعاتی شواہد کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسا دکھائی دیتا ہے کہ انھیں یہاں دفن کیا گیا تھا کیونکہ یہ زمین خالی تھی۔‘

اب ان باقیات کا پوسٹ مارٹم کیا جائے گا، اور پولیس علاقے میں سی سی ٹی وی ویڈیوز کا بھی جائز لے گی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں