بی جے پی حکومت کے خلاف نعرہ لگانے پر طالبہ گرفتار

  • شکیل اختر
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی
،تصویر کا کیپشن

یہ واقعہ پیر کو انڈیا کے شہر چننئی سے ٹوٹی کورین کی ایک پرواز کے دوران پیش آیا جس میں صوفیا اپنے والدین کے ساتھ سفر کر رہی تھیں۔

انڈیا کی ریاست تمل ناڈو میں پولیس نے کینیڈا میں زیرِ تعلیم ایک طالبہ لوئس صوفیا کو پیر کو بی جے پی کے خلاف نعرہ لگانے کے الزام میں گرفتار کر لیا۔

صوفیا کو ایک مقامی ذیلی عدالت نے 15 دنوں کے لیے عداتی تحویل میں دیا تاہم ایک روز بعد منگل کو انھیں ضمانت پر رہائی مل گئی۔

یہ واقعہ پیر کو انڈیا کے شہر چننئی سے ٹوٹی کورین کی ایک پرواز کے دوران پیش آیا جس میں صوفیا اپنے والدین کے ساتھ سفر کر رہی تھیں۔

اسی طیارے میں بی جے پی کی ریاستی صدر تمیلی سائی سوندا راجن بھی سفر کر رہی تھیں۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

اطلاع کے مطابق طیارہ اترنے کے بعد صوفیا نے مبینہ طور پر سوندا راجن کو دیکھ کر 'فسطائی بی جے پی کی حکومت مردہ باد' کے نعرے لگائے۔

پولیس نے بی جے پی کی صدر کی شکایت پر صوفیا کو حراست میں لے لیا اور انھیں جوڈیشیل مجسٹریٹ کی عدالت نے 15 دنوں کے لیے عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دیا۔

سوندا راجن نے کہا 'اس لڑکی نے بی جے پی کے خلاف نعرہ لگایا اور اپنی مٹھیاں اٹھاتے ہوئے 'فاسسٹ' لفظ کا استعمال کیا۔

سوندا راجن کے مطابق ’صوفیا کا کہنا ہے کہ اسے اظہار کی آزادی ہے تاہم یہ قابل قبول نہیں ہے۔ مجھے پورا شک ہے کہ اس کا تعلق کسی انتہا پسند تنظیم سے ہے۔‘

28 سالہ سوندا راجن کناڈا میں ریسرچ سکالرہیں وہ تعطیل پر اپنے گھر ٹوٹی کورین آ رہی تھیں۔

صوفیا کے والد ڈاکٹر اے اے سمیع نے بتایا کہ ان کی بیٹی نے بی جے پی حکومت کے خلاف نعرہ لگایا اور اس کے علاوہ کچھ اور نہیں کہا۔

انھوں نے کہا کہ طیارے سے ہوائی اڈے کی عمارت میں پہنچتے ہی تمیلی سائی اور انھیں ریسکیو کرنے کے لیے آنے والے کئی لوگوں نے صوفیا کو گھیر لیا اور اسے ڈرایا دھمکایا۔

اس واقعے کے بعد ڈاکٹر سمیع نے بھی بی جے پی کی صدر اور ان کے حامیوں کے خلاف شکایت درج کرائی ہے۔ پولیس اب دونوں شکایتوں کی تفتیش کر رہی ہے۔

صوفیا کی گرفتاری پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے تمل ناڈو کے حزب اختلاف کے رہنما ایم کے سٹالن نے ریاستی حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ اظہار کی آزادی کا گلا دبا رہی ہے۔

انھوں نے ایک ٹویٹ پیغام میں صوفیا کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے کہا 'اگر اختلاف کے اظہار پر حکومت لوگوں کو گرفتار کرے گی تو میں صوفیا کے نعرے کو دوہراتا ہوں بی جے پی کی فاسسٹ حکومت مردہ باد۔‘

صوفیا کی گرفتاری کے خلاف سوشل میڈیا پر بھی زبردست ردِ عمل سامنے آیا ہے۔

انڈیا کے معروف صحافی راج دیپ سر دیسائی نے ایک ٹویٹ میں سوال کیا کہ'کسی حکومت کے خلاف نعرے لگانا کب سے جرم ہو گیا؟‘