انڈیا اور امریکہ کے ٹو پلس ٹو مذاکرات

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption مائیک پومپیو پاکستان کے مختصر دورے کے بعد بدھ کو ہی دہلی روانہ ہو جائیں گے

پاکستان کی نومنتخب قیادت سے ملاقات کے بعد امریکہ کے وزیر خارجہ مائیک پومپیو دلی میں ’ٹو+ٹو‘ مذاکرات کریں گے۔

ان مذاکرات میں دونوں ملکوں کے وزرائے خارجہ اور وزرائے دفاع شریک ہوں گے۔ امریکہ کی طرف سے مائیک پومپیو اور جیمز میٹس اور انڈیا کی طرف سے سشما سوراج اور نرملا سیتھارمن، اس لیے انھیں ٹو+ٹو کا نام دیا گیا ہے۔

یہ بات چیت کا پہلا دور ہے جس کا آغاز مارچ میں ہونا تھا۔ اب سے پہلے مذاکرات کو دو مرتبہ ملتوی کیا جاچکا ہے لیکن مؤخر کرنے کی کوئی واضح وجہ نہیں بتائی گئی۔

نیوز ایجنسی بلوم برگ کے مطابق امریکہ انڈیا کے ساتھ دفاعی تعاون کے ایک نئے معاہدے کو حتمی شکل دینا چاہتا ہے جس سے انڈیا کو جدید ترین دفاعی ٹیکنالوجی فراہم کرنے کی راہ بھی ہموار ہوگی۔

لیکن دونوں کے رشتوں میں گزشتہ کچھ عرصے سے کشیدگی کا سلسلہ جاری ہے اور ایران اور روس کے خلاف امریکہ کی پابندیوں سے معاملات اور پیچیدہ ہوگئے ہیں۔

امریکہ نے ایران سے تیل خریدنے پر پابندیاں عائد کی ہیں لیکن ایران انڈیا کو تیل فراہم کرنے والے سرکردہ ممالک میں سے ایک ہے اور اس سے تیل کی خرید اچانک بند کردینا انڈیا کے لیے آسان نہیں ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ایرانی صدر روحانی کے دلی کے دورے کے بعد ایران میں پٹرولیم، گیس اور توانائی کے شعبے میں انڈیا کی شراکت میں تیزی سے اضافہ ہو رہا تھا

اس کے علاوہ انڈیا اپنے پرانے اور قابل اعتماد دوست روس سے طیاہ شکن میزائل خرید رہا ہے۔ اگر وہ چھ ارب ڈالر کے اس سودے پر عمل کرتا ہے، جیسا کہ وزیر دفاع نرملا سیتھارمن عندیہ دے چکی ہیں، تو امریکہ اس کے خلاف بھی اقتصادی پابندیاں عائد کر سکتا ہے۔ لیکن انڈین اہلکاروں کا فی الحال کہنا ہے کہ یہ سودا امریکی پابندیوں کی زد میں نہیں آتا اس لیے اسے منسوخ نہیں کیا جائے گا۔

بلوم برگ نے امریکی اہلکاروں کی بریفنگ کی بنیاد پر کہا ہے کہ امریکہ نہ تیل کی خرید کے لیے اپنی عائد کردہ پابندیوں میں مکمل رعایت کرے گا اور نہ میزائلوں کے حصول کے لیے اور کسی بھی ’ویور‘ یا استثنی کے لیے انڈیا کو روسی اسحلے پر اپنا انحصار بڑے پیمانے پر کم کرنا ہوگا۔

امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کے مطابق باہمی رشتوں میں مسائل تو بہت ہیں لیکن صدر ٹرمپ کی وجہ سے بھی بہت بدمزگی پیدا ہوئی ہے جو اخبار کے مطابق وزیر اعظم مودی کے انگریزی بولنے کے انداز کی نقل اتارتے ہیں۔

اخبار کے مطابق واشنگٹن سے تعلقات میں اس غیر یقینی کے تناظر میں ہی انڈیا ہمسایہ ملک اور پرانے حریف چین اور پرانے دوست روس سے اپنے تعلقات بہتر کرنے کی کوشش کررہا ہے۔

اس کے علاوہ امریکہ کی ’ٹریڈ وارز‘ یا تجارتی جنگوں پر بھی انڈیا میں بہت تشویش ہے۔ اخبار کے مطابق صدر ٹرمپ تجارت کے شعبے میں کسی کو نہیں بخشتے اور ’نومبر میں جب دونوں رہنما ملے تھے تو صدر ٹرمپ نے تجارتی پالیسیوں، بالخصوص امریکی ہارلے ڈیوڈسن موٹرسائکلوں پر لگائے جانے والے ٹیکسز کے بارے میں وزیر اعظم مودی کو کھری کھوٹی سنائی تھی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption نیو یارک ٹائمز کے مطابق صدر ٹرمپ وزیر اعظم مودی کے انگریزی بولنے کے انداز کی نقل اتارتے ہیں

لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ تعلقات میں بہتری کا کوئی امکان نہیں ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان دفاعی تعاون بڑھ رہا ہے اور دفاع کے شعبے میں امریکہ سے انڈیا کی خردیداری آئندہ برس اٹھارہ ارب ڈالر سے تجاوز کرسکتی ہے۔ اس کے علاوہ والمارٹ اور امیزون جیسی بڑی امریکی کمپنیاں انڈیا میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔

تجزیہ نگاروں کے مطابق امریکہ کی یہ دیرینہ کوشش یا امید رہی ہے کہ خطے میں انڈیا فوجی اور اقتصادی لحاظ سے چین کے متبادل کے طور پر ابھر کر سامنے آئے اور چین کی بڑھتی ہوئی ’جارحیت‘ کو قابو کرنے میں اپنا کردار ادا کرے۔ اس لیے انڈیا کے خدشات کو پوری طرح نظر انداز کرنا امریکہ کے لیے بھی آسان نہیں ہوگا۔

انڈین اخبار اکنامک ٹائمز کے مطابق ’مذاکرات میں امریکہ سے کہا جائے گا کہ انڈیا ایران سے تیل کی خرید ختم نہیں کرسکتا، اور یہ کہ کوئی دوسرا ملک اسے یہ نہیں بتا سکتا کہ اس کی خارجہ پالیسی کیا ہونی چاہیے۔‘ امریکی پابندیاں نومبر میں عمل میں آجائیں گی۔

انڈیا میں اس وقت تیل کی آسمان کو چھوتی ہوئی قیمتیں ایک بڑا سیاسی موضوع ہیں اور عالمی منڈیوں میں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور ڈالر کے مقابلے میں روپے کی روزانہ کم ہوتی قدر کی وجہ سے انڈیا کے لیے ایران سے ملنے والے سستے تیل کا متبادل تلاش کرنا ٹیڑھی کھیر ہے۔

امریکی افواج کے سربراہ جنرل جیمز ڈنفورڈ بھی مذاکرات میں شریک ہوں گے۔ ان کا کہنا ہےکہ ٹو+ٹو مذاکرات باہمی رشتوں اور سکیورٹی کے شعبے میں تعاون کو گہرا کرنے کا ایک تاریخی موقع ہیں۔

لیکن فی الحال اختلافات کی نوعیت کچھ ایسی ہے کہ یہ کام آسان نہیں ہوگا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں