کابل میں شیعہ اکثریتی علاقے میں دو خودکش دھماکوں میں 20 افراد ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption کابل میں اس سے پہلے بھی شیعہ آبادی کو متعدد بار شدت پسند نشانہ بنا چکے ہیں

افغانستان میں حکام کے مطابق دارالحکومت کابل میں شیعہ اکثریتی علاقے میں دو خودکش دھماکوں میں دو صحافیوں سمیت کم از کم 20 افراد ہلاک اور 70 زخمی ہو گئے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ بدھ کو کابل کے ایک ریسلنگ کلب میں ہونے والے پہلے خودکش حملے میں چار افراد ہلاک ہوئے اور جب وہاں میڈیا اور امدادی عملہ پہنچا تو کار سوار خودکش بمبار نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ دھماکے کے نتیجے میں طلوع نیوز کے دو صحافی ہلاک اور چار دیگر زخمی ہو گئے ہیں۔

طلوع نیوز کے سربراہ لطف اللہ نجفزادہ نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ادارے نے دو بہترین صحافی کھو دیے۔

اس سے پہلے اپریل میں صوبہ خوست میں شدت پسندی کے واقعے میں بی بی سی کا نامہ نگار ہلاک ہو گیا تھا۔

اس کے بارے میں مزید پڑھیے

شیعہ مسلک کی مسجد پر خودکش حملہ، 25 ہلاک

کابل: دو دھماکوں میں صحافیوں سمیت 25 افراد ہلاک

کابل کے تعلیمی مرکز میں دھماکہ، 48 افراد ہلاک

کیا داعش افغانستان میں دوبارہ فعال ہو رہی ہے؟

خودکش حملے کابل کے شیعہ اکثریتی ضلع دشت برچی میں ہوئے ہیں جہاں پر ہزارہ برادری کی بڑی تعداد آباد ہے۔

کابل میں اس سے پہلے بھی شیعہ آبادی کو متعدد بار شدت پسند نشانہ بنا چکے ہیں۔

ابھی تک کسی نے تنظیم نے دھماکے کی ذمہ داری قبول نہیں کی تاہم ماضی میں اس ضلع میں خود کو دولتِ اسلامیہ کہلانے والی شدت پسند تنظیم شدت پسندی کے واقعات میں ملوث رہی ہے۔

اسی بارے میں