انڈیا: اب ہم جنسیت جرم نہیں رہا

انڈیا کی سپریم کورٹ کی جانب سے ہم جنس پرستی کو جرائم کے زمرے سے خارج کرنے کے تاریخی فیصلے پر کئی مقامات پر خوشی کے جذباتی مناظر۔

،تصویر کا کیپشن

انڈیا کی سپریم کورٹ نے ملک میں ہم جنس پرستی کو جرائم کے زمرے سے خارج کرنے کا تاریخی فیصلہ سنا دیا ہے۔

،تصویر کا کیپشن

اس فیصلے کے تحت اب ملک میں ہم جنس پرستوں کا جنسی تعلق جرم نہیں رہا ہے۔

،تصویر کا کیپشن

یہ فیصلہ سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے سنایا جو چیف جسٹس دیپک مشرا کی سربراہی میں قائم کیا گیا تھا۔

،تصویر کا کیپشن

عدالت عظمیٰ نے کہا کہ انتخاب کرنے کا ہر فرد کو بنیادی حق حاصل ہے اور قانون کی دفعہ 377 فرد کے اس حق سے متصادم ہے۔

،تصویر کا کیپشن

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ’کسی فرد کا جنسی رجحان اس کا انفرادی اور فطری معاملہ ہے اور جنسی رجحان کی بنیاد پر کسی سے تفریق برتنا اس شحص کے اظہار آزادی کے حق کی خلاف ورزی ہے۔‘

،تصویر کا کیپشن

رطانوی دور میں بننے والے اس قانون کے تحت ایک ہی صنف کے دو افرار کے درمیان سیکس جرم تھا اور اس کے لیے دس برس تک کی قید کی سزا ہو سکتی تھی۔

،تصویر کا کیپشن

اس دفعہ کا استعمال سزا کے لیے اگرچہ شاذ و نادر ہی ہوتا تھا، لیکن ہم جنس پرستوں کو ہراساں کرنے کے لیے اکثر اس کا استعمال کیا جاتا تھا۔

،تصویر کا کیپشن

اس فیصلے پر ہم جنس پرستوں اور حقوق انسانی کی تنظیموں نے زبردست خوشی کا اظہار کیا ہے۔

،تصویر کا کیپشن

حکومت نے سپریم کورٹ میں کوئی پوزیشن نہ لیتے ہوئے اسے عدالت عظمی کی دانش پر چھوڑ دیا تھا۔

،تصویر کا کیپشن

اس دفعہ کو پہلی مرتبہ 1994 میں چیلینج کیا گیا تھا اور 24 برس اور متعدد اپیلوں کے بعد یہ فیصلہ سامنے آیا ہے۔