ٹو-پلس-ٹو مذاکرات: انڈیا کے لیے جدید ہتھیاروں کی خریداری کی راہ ہموار؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو اور امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس نے نئی دہلی میں انڈین وزیر خارجہ سشما سوراج اور وزیر دفاع نرملا سیتارمن سے مذاکرات کیے

امریکہ اور انڈیا نے نئی دہلی میں ٹو-پلس-ٹو مذاکرات کے بعد ایک دفاعی معاہدے پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت عسکری ماہرین کے مطابق انڈین فوج کے لیے حساس نوعیت کے امریکی فوجی ساز و سامان اور ڈرون طیارے حاصل کرنے کے راستے کھل جائیں گے۔

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو اور امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس نے جمعرات کو نئی دہلی میں انڈین وزیر خارجہ سشما سوراج اور وزیر دفاع نرملا سیتارمن سے ٹو پلس ٹو مذاکرات کیے۔

نیویارک ٹائمز سمیت مقتدر عالمی ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی خبروں کے مطابق یہ معاہدہ نئی دہلی کے لیے نہ صرف انتہائی جدید امریکی ہتھیاروں کی خریداری کی راہ ہموار کر دے گا بلکہ انڈین فوج انتہائی حساس نوعیت کی امریکی فوجی ٹیکنالوجی بھی مشترکہ طور پر استعمال کر سکے گی۔

انڈیا ہتھیار خریدنے والا سب سے بڑا ملک، پاکستان میں کمی

عسکری طاقت: ’پاکستان کا امریکہ کے بجائے چین پر انحصار‘

نیویارک ٹائمز نے اس بارے میں اپنی خبر میں لکھا ہے کہ یہ معاہدہ ایسے وقت کیا گیا ہے جب دونوں ملک چین کو تشویش کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption انڈیا روسی سے چھ ارب ڈالر مالیت کے جدید میزائل نظام خریدنے کا بھی ارادہ رکھتا ہے

اس معاہدے کو جسے 'کمیونیکیشن کمپیٹیبلٹی اینڈ سکیورٹی ایگریمنٹ' کا نام دیا گیا ہے کو امریکی وزیر خارجہ نے انڈیا اور امریکہ کے تعلقات میں ایک سنگ میل قرار دیا جبکہ سشما سوراج کے مطابق اس سے انڈین فوج کی دفاعی صلاحیت اور تیاری بہت بڑھ جائے گی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس معاہدے کے بعد امریکہ کی جدید ترین دفاعی ٹیکنالوجی جس میں ہتھیاروں سے لیس نگرانی کرنے والے بغیر پائلٹ کے ڈرونز بھی شامل ہیں ان کی انڈیا منتقلی بھی ممکن ہو جائے گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption یہ معاہدہ ایسے وقت کیا گیا ہے جب دونوں ملک چین کو تشویش کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں

الجزیرہ نے آبزرور فاؤنڈیشن ریسرچ کے سینیئر تجزیہ کار کے حوالے سے کہا ہے کہ یہ ایک بہت اہم معاہدہ ہے جس کا بحری دفاعی شعبے میں انڈیا کو بہت فائدہ ہو گا لیکن اس سے انڈین فوج کے زیرِ استعمال غیر امریکی اسلحے کے بارے میں کچھ پیچیدگیاں بھی پیدا ہو سکتی ہیں، مثلاً انڈین فضائیہ میں شامل روسی ساخت کا اسلحہ اور آلات، انڈین بحریہ کے جہازوں میں لگے آلات اور روسی میزائل نظام ایس 400۔

اور اب دو جمع دو برابر ہے دوستی

ایرانی تیل کے خریداروں کو استثنیٰ دینے کے لیے تیار

اس معاہدے کا ایک اہم عنصر خفیہ دفاعی معلومات کا تبادلہ بھی ہے۔

یاد رہے کہ حالیہ برسوں میں امریکہ اور انڈیا کے درمیان بڑھتے ہوئے دفاعی تعلقات کے باوجود انڈیا اب بھی روسی ہتھیاروں کا بڑا خریدار ہے اور اس کے اسلحہ کا تقریباً 70 فیصد حصہ اب بھی روسی ہتھیاروں اور آلات پر مشتمل ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption انڈین فوج کے زیرِ استعمال غیر امریکی اسلحے کے بارے میں کچھ پیچیدگیاں بھی پیدا ہو سکتی ہیں، جیسے کہ روسی میزائل نظام ایس 400

انڈیا روسی سے چھ ارب ڈالر مالیت کے جدید میزائل نظام خریدنے کا بھی ارادہ رکھتا ہے۔

سٹاک ہوم پیس ریسرچ انسٹیٹوٹ کی رپورٹ کے مطابق گذشتہ پانچ برس میں انڈیا کے مجموعی ہتھیاروں کی خریداری کا 62 فیصد حصہ روس سے خریدا گیا۔

دونوں ملکوں کے درمیان ایران سے انڈیا کے تجارتی تعلقات ایک تنازع بنے ہوئے ہیں اور مائیک پومپیو نے اپنے دورے کے اختتام پر اخبار نویسوں کو بتایا تھا کہ ایرانی تیل کی خریداری کے معاملے پر امریکہ کچھ ملکوں کو اقتصادی پابندیوں سے عارضی طور پر استثنیٰ دینے کے لیے تیار ہے۔

گذشتہ چند دہائیوں میں امریکہ اور انڈیا کی باہمی تجارت میں قابل قدر اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

سنہ 2016 میں دونوں ملکوں کے درمیان باہمی تجارت کا حجم سو ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا جو کہ 90 کی دہائی میں صرف پانچ ارب ڈالر کے قریب تھا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں