ہم جنس پرست عارف نے 17 سال بعد چپ کیوں توڑی؟

عارف جعفر
Image caption عارف جعفر کہتے ہیں کہ گرفتاری سے پہلے انھیں اور ان کے ساتھیوں کو عوام کے سامنے مارا پیٹا گیا

انڈیا کی سپریم کورٹ نے ایک تاریخ ساز فیصلے میں سامراجی دور کے اس قانون کو کالعدم قرار دے دیا جس کے تحت ہم جنس پرستی جرم تھی۔

بی بی سی کی جیشری باجوریا نے ہم جنس پرستوں کے حقوق کے لیے لڑنے والے عارف جعفر سے بات کی جنھوں نے اسی قانون یعنی سیکشن 377 کے تحت 47 دن جیل میں گزارے تھے۔

وہ عدالتی فیصلے کے بعد سپریم کورٹ کے باہر ہی موجود تھے۔ انھوں نے اپنی قید کے بارے میں بتایا کہ وہ بہت دہشت ناک وقت تھا۔

47 سالہ اور عارف نے جو شرٹ پہن رکھی تھی اس کے بٹن شوخ گلابی رنگ کے تھے جو ہم جنس پرستوں کی حمایت کی علامت ہے۔

مزید پڑھیے

انڈین سپریم کورٹ کا ہم جنس پرستی کے حق میں فیصلہ

انڈیا: اب ہم جنسیت جرم نہیں رہا

ہم جنس پرست افراد کی زبردستی شادیاں

وہ بتاتے ہیں کہ قید میں ’پانی نہیں پینے دیا جاتا تھا۔۔۔ میرے جنسی رجحان کی وجہ سے ہر روز مجھے مارا جاتا تھا۔ یہ واقعی ہی بہت خوفناک تجربہ تھا۔ اس کے بارے میں بات کرنے میں بھی مجھے 17 سال لگے۔‘

جعفر ان افراد میں شامل ہیں جنھوں نے اعلیٰ عدلیہ تک پہنچ کر یہ درخواست کی تھی کہ وہ ہم جنس پرستی کے خلاف سنہ 2013 برطانوی دور کے قانون کو برقرار رکھنے کے فیصلے پر نظر ثانی کرے۔

اگرچہ اس قانون پر بہت کم ہی عملدرآمد ہوا لیکن اسے ایک طویل عرصے تک ہم جنس پرستوں کے خلاف امتیازی طور پر استعمال کیا گیا۔ جن میں پولیس کی جانب سے اس کمیونٹی کے افراد کو ہراساں کیا جانا، بلیک میل کیا جانا شامل تھا۔

مسٹر جعفر جن کی شناخت بطور ’گے‘ ہے اور وہ لکھنو میں ایل جی بی ٹی کے حقوق کے لیے کام کرتے ہیں۔ ان کی نظر میں یہ قانون مسلسل طور پر ہراساں کرنے کا ایک محض ایک ہتھیار ہے۔

انھیں 17 برس قبل آٹھ جو لائی سنہ 2001 میں ان کے چار ساتھیوں کے ساتھ گرفتار کیا گیا تھا۔

دیگر کارکنان کا تعلق بھروسہ ٹرسٹ سے تھا جو کہ کمیونٹی کی سطح پر ہم جنس پرستوں اور خواجہ سراؤں کی مدد اور معاونت کرتی ہے۔

انھیں باضابطہ طور پر گرفتار کرنے سے پہلے ہولیس افسران نے انھیں سرِ عام زدوکوب بھی کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جمعرات کو آنے والے فیصلے کے بعد اس کمیونٹی اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے بہت سے گروپس نے جشن منایا

پولیس نے ان کے دفتر پر بھی حملہ کیا اور جینڈر، جنسی موضوع اور محفوظ جنسی تعلق سے متعلق لٹریچر اور کنڈوم، متعلقہ کمیونٹی کو دکھانے کے لیے استعمال ہونے والے سیکس کھلونے کو ضبط کیا۔ ان تمام اشیا کو ان کی جنسی بے راہ روی کے شواہد کے طور پر پیش کیا گیا۔

شام تک انڈین نیوز چینلز پر یہ اس کارروائی کو ’گے سیکس کے گروہ کی گرفتاری کی خبر کے طور پر دکھایا جا رہا تھا۔

اس میں یہ تھیوری بھی پیش کی جا رہی تھی کہ میں نے کیسے تمام انڈین مردوں کو ہم جنس پرست بنانے کے لیے پاکستان سے فنڈنگ لی۔

جعفر نے رواں برس فروری 47 دن تک جیل میں گزرے وقت کے حوالے سے اپنی چپ توڑی۔

پولیس نے عدالت کو بتایا کہ جعفر اور ان کے ساتھ اس سازش کا حصہ ہیں جس میں ہم جنس پرستی کو ترویج دیی جاتی ہے۔

اس دوران جعفر اور ان کے دوستوں کی ضمانت کی درخواستیں بھی مسترد کی جاتی رہیں۔

جعفر نے الزام عائد کیا کہ ہم جنس پرستی سے نفرت کرنے والے چند پولیس افسران کی جانب سے انھیں اور ان کے دوستوں کو اذیت کا نشانہ بنایا گیا اور ان کی تذلیل کی گئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption عارف جعفر نے عدالت کو یہ بتانے کا فیصلہ کیا کہ وہ ذاتی طور پر سیکشن 377 سے کیسے متاثر ہوئے ہیں

اپریل 2017 میں انھوں نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی۔ اس سے دو ماہ قبل انھوں نے خود پر پڑنے والے مصیبت کے بارے میں کئی برس بعد بات کی تھی۔

انڈیا کی سپریم کورٹ کی حالیہ سماعت کے پیچھے ہم جنس پرستوں کی امتیازی سلوک کے خلاف کی جانے والی ایک طویل جدوجہد ہے۔

سنہ 2013 میں سپریم کورٹ نے سنہ 2009 میں دہلی کی ہائی کورٹ کی جانب سے سیکشن 377 کے بارے میں دیے جانے والے فیصلے کو کالعدم قرار دیا تھا۔ اس فیصلے میں کہا گیا تھا کہ سیکشن 377 بالغ ہم جنس پرستوں کے درمیان ہونے والے اتفاقی جنسی تعلق پر لاگو نہیں ہوتا۔

اس فیصلے کے برعکس سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ ابھی یہ ثابت کرنے کے ناکافی شواہد ہیں کہ جنسی اقلیتوں کے ساتھ معاشرے یا ریاست کی جانب سے امتیازی سلوک روا رکھا جاتا ہے۔

عارف جعفر کہتے ہیں کہ سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے بعد میں چاہتا تھا کہ اپنی اور اپنے ساتھیوں کی کہانی بیان کروں تاکہ بتایا جا سکے کہ یہ قانون کیسے ہم پر اثر انداز ہوا اور سترہ برس بعد بھی ہو رہا ہے۔

عارف جعفر اور ان کے ساتھیوں کے خلاف ہونے والا کیس ابھی تک حل نہیں ہو سکا ہے۔

لیکن جمعرات کو آنے والے فیصلہ جعفر کی نظر میں تسلی بخش ہے۔

یہ فیصلہ سپریم کورٹ کے پانچ ججوں کا متفقہ فیصلہ تھا۔ ان میں جسٹس انڈو ملہوترہ نے لکھا ’تاریخ اس کمیونٹی کے ممبران اور ان کے خاندانوں سے معافی مانگتی ہے۔ کہ صدیوں تک انھیں جو تکلیف دی گئی اور ان کا بائیکاٹ کیا گیا اس کے ازالے میں دیر کی۔ اس کمیونٹی کے اراکین انتقامی کارروائی اور ظلم و ستم کے خوف میں زندگی گزارنے پر مجبور تھے۔‘

سپریم کورٹ کے باہر عارف جعفر جب مجھے یہ سب بتا رہے تھے تو ان کا انداز بہت جذباتی تھا۔

انھوں نے کہا کہ ’یہ الفاظ ہمارے لیے بہت معنی رکھتے ہیں۔ ہمارا 30 سال کا سفر رائیگاں نہیں رہا۔ آج کے فیصلے نے اس کا صلہ دے دیا۔‘

اسی بارے میں