انڈیا: شکاری قبیلے نے اپنا صدیوں پرانا پیشہ کیوں چھوڑ دیا؟

خونوم قبائل

انڈیا کی شمال مشرقی ریاست ناگالینڈ میں ایک قبیلے نے جنگلی جانوروں کے تحفظ کے لیے اپنے اجداد کا صدیوں سے جاری شکار کا پیشہ چھوڑ دیا۔

فوٹوگرافر سیان ہازرا نے اس گاؤں میں آباد قبیلے کی اپنا آبائی پیشہ چھوڑنے کے کئی سال بعد تصاویر لی ہیں۔

ایک عرصہ پہلے 76 سالہ چائیووی زینیی ایک ماہر شکاری ہوا کرتے تھے لیکن انھوں نے سنہ 2001 میں شکار کرنا چھوڑ دیا۔

خونوما قبیلے نے تقریباً 20 سال قبل اپنے گزر بسر کے اہم ذریعے شکار کو چھوڑ دیا تاکہ وہ اپنی آنے والی نسل کو زیادہ مستحکم ماحولیاتی نظام دے سکیں۔

اس علاقے کے بہت سے دیہاتوں میں آباد لوگ صدیوں سے اپنا زیادہ تر وقت شکار پر لگاتے تھے۔ انھوں نے اپنی گزر بسر کے لیے بھی جانوروں کا شکار کیا اور یہ ان کی پرانی روایت اور طرز زندگی بھی تھی۔

سنہ 1993 میں پہلی بار بعض قبائیلیوں نے شکار کرنا چھوڑنے کی مہم چھیڑی۔ انھیں جب یہ پتہ چلا کہ بھورے پیٹ والے تیتر (ٹریگوپان) کی نسل معدوم ہونے کے خطرے سے دو چار ہے تو انھوں نے اس بارے میں سوچنا شروع کیا۔

اس علاقے میں سینکڑوں اقسام کے پرندے پائے جاتے ہیں لیکن انھیں اکثر کھانے کے لیے شکار کر لیا جاتا ہے۔

اس مہم کے تحت قبیلے کے بعض افراد اور گاؤں کی پنچایت نے یہ فیصلہ کیا کہ 20 مربع کلو میٹر کے مخصوص علاقے میں وہ شکار کی اجازت نہیں دیں گے۔

سنہ 1998 میں اس علاقے کو 'خونوم نیچر کنزرویشن اور ٹریگوپان پناہ گاہ' کا نام دیا گیا۔

اس کے بعد سے پنچایت نے گاؤں کے گرد کے جنگلوں میں ہر قسم کے شکار، جنگل کاٹنے اور جلانے، اور یہاں تک کہ ہر قسم کے قدرتی وسائل اور جنگل کے تجارتی استعمال پر بھی پابندی عائد کر دی۔

مقامی روایت کے مطابق اس قبیلے کے لوگوں کی ان جانوروں کا سر یادگار کے طور پر اپنے گھروں میں رکھنے کے لیے حوصلہ افزائی کی جاتی تھی جن کا انھوں نے شکار کیا ہوتا تھا۔

زیادہ تر شکاریوں نے بندوق ترک کر دی ہے لیکن بعض ابھی بھی ایسے ہیں جنھوں نے اسے دیواروں پر سجا رکھا ہے اور ان جانوروں کا سر بھی لگا رکھا ہے جن کا انھوں نے کبھی شکار کیا تھا۔

ناگالینڈ میں دونالی بندوقیں اور مخلتف اقسام کے پھندے شکار کے لیے استعمال کیے جاتے تھے۔

بہت سے شکاریوں کا کہنا ہے کہ ان ہتھیاروں کو چلانے کے لیے مہارت اور ہمت چاہیے۔ وہ اس کے لیے ایک مقدس عمل کیا کرتے تھے اور یہ ایک نسل سے دوسری نسل میں منتقل کیے جاتے تھے۔

خونوم قبیلے کے لوگ فوک موسیقی کے بھی دلدادہ ہیں اور اس قبیلے کے بہت سے لوگ اس کا ریاض کرتے ہیں اور گاؤں میں ہونے والی مختلف تقاریب میں اس کا مظاہرہ بھی کرتے ہیں۔

خونوم گاؤں کے آس پاس پودوں کی بھی مختلف اقسام ہیں جن میں طبی فوائد کی حامل چیزیں اور جنگلی سبزیاں بھی شامل ہیں۔

ان کی کاشتکاری میں بھی ان کے ماحولیاتی نظام کے متعلق حساسیت جھلکتی ہے۔ وہ سب گزر بسر کے لیے کاشتکاری پر منحصر ہیں لیکن وہ کسی قسم کی مصنوعی کھاد اور جراثیم کش ادویات کا استعمال نہیں کرتے۔

وہ زیادہ پیداوار کے لیے بڑے پیمانے پر چھت دار کاشتکاری اور آب پاشی کرتے ہیں۔

خونوم نیچر کنزرویشن اور ٹریگوپان پناہ گاہ کے چیئرمین مسٹر کھیریکھوٹو مور نے کہا: 'ہم اپنی آنے والی نسلوں کے لیے اپنی روایتی حکایات و قصوں کو بےمعنی نہیں ہونے دیں گے کیوں کہ ان میں چڑیوں کی اقسام، پودوں کی اقسام، جانوروں، جنگلی پھولوں کے اپنے نام ہیں۔

'ہماری زندگی، ہماری تہذیب و ثقافت اور یہاں پیدا ہونے والے طبعی جاندار بہت حد تک فطرت پر منحصر ہیں اور ہم ان کے تحفظ کے لیے پرعزم اور ثابت قدم ہیں۔'