راجیو گاندھی کے قاتل رہا ہوں گے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption راجیو گاندھی کے قاتل رہا ہوتے ہیں تو اس خبر کی گونج دنیا میں سنائی دے گی

دس سال پہلے ایک دن اچانک یہ خبر آئی کہ پرینکا گاندھی نے اپنے والد اور انڈیا کے سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی کے قاتلوں میں سے ایک سے جیل میں ملاقات کی ہے۔

بعد میں انھوں نے کہا کہ ان کی زندگی میں نفرت، تشدد اور غصے کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔

راجیو گاندھی کو تمل ٹائیگرز آف تمل ایلم (ایل ٹی ٹی ای) کے کارکنوں نے 21 مئی 1991 کو ایک خود کش حملے میں ہلاک کر دیا تھا۔ خود کش بمبار دھنو نام کی ایک لڑکی تھی اور یہ حملہ تمل ناڈو میں کیا گیا تھا جہاں اس وقت بڑی تعداد میں سری لنکا کی خانہ جنگی سے بھاگ کر انڈیا آنے والے تملوں نے پناہ لے رکھی تھی۔

راجیو گاندھی نے خانہ جنگی ختم کرنے کے لیے سری لنکا کے ساتھ ایک معاہدہ کرنے کے بعد سنہ 1987 میں ایک قیام امن فورس سری لنکا بھیجی تھی لیکن چند ہی مہینوں کے اندر بھارتی فوج اور تمل ٹائیگرز کے درمیان لڑائی شروع ہوگئی تھی۔

مانا جاتا ہے کہ تمل ٹائیگرز نے انتقام لینے کے لیے راجیو گاندھی کو قتل کیا تھا۔

راجیو کے قتل کے مجرم نے خودکشی کی اجازت مانگ لی

پریانکا،کانگریس کی ڈوبتی نیّا کا سہارا؟

اس کیس میں پہلے سبھی 26 ملزمان کو سزائے موت سنائی گئی تھی، لیکن بعد میں سپریم کورٹ نے صرف چار لوگوں کی سزائے موت کی تصدیق کی تھی۔ تین کو عمر قید کی سزا دی گئی اور باقی 19 کو بری کر دیا گیا تھا۔

پرینکا گاندھی نے ویلور کی جیل میں نلینی موروگن سے ملاقات کی تھی جو سزائے موت پانے والے چار لوگوں میں شامل تھیں، لیکن گرفتاری کے وقت نلینی حاملہ تھیں اور راجیو گاندھی کی بیوہ سونیا گاندھی کی درخواست پر ان کی سزائے موت کو عمر قید میں بدل دیا گیا تھا۔

امسال اپریل میں کانگریس پارٹی کے صدر راہل گاندھی نے بھی کہا تھا کہ وہ اور ان کی بہن اپنے والد کے قاتلوں کو معاف کر چکے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption راہل گاندھی نے بھی کہا تھا کہ وہ اور ان کی بہن اپنے والد کے قاتلوں کو معاف کر چکے ہیں

ملاقات کے دوران پرینکا گاندھی نے نلینی سے پوچھا تھا کہ ’میرے والد بہت نرم دل انسان تھے، اگر آپ کے کچھ اختلافات تھے بھی تو بات چیت کے ذریعہ حل کیے جاسکتے تھے، آپ نے ایسا کیوں کیا؟‘

(یہ تحریری انٹرویو تھا جو نلینی کے وکیل کے ذریعہ کیا گیا تھا اور سنہ 2016 میں دی ہندو اخبار میں شائع ہوا تھا)

اب تمام ملزمان تقریباً 27 سال جیل میں گزار چکے ہیں، نہ موت کی سزاؤں پر ہی عمل ہوا ہے اور نہ ان لوگوں کو رہا کیا گیا ہے جنہیں عمر قید کی سزائیں دی گئی تھیں۔

تاہم اب تمل ناڈو کی حکومت نے ریاست کے گورنر سے سفارش کی ہے کہ ریاست کی مختلف جیلوں میں قید سبھی سات ملزمان کو رہا کر دیا جائے۔ ریاستی حکومت کا کہنا ہے کہ ’عوام کے جذبات‘ ان لوگوں کو رہا کرنے کے حق میں ہیں۔

لیکن اس وقت یہ سفارش کیوں کی گئی ہے؟

گذشتہ ہفتے جمعرات کو جب سپریم کورٹ نے ملک میں ہم جنس پرستی کے سوال پر تاریخ ساز فیصلہ سنایا تھا تو عدالت کے ایک علیحدہ بینچ نے گورنر سے کہا تھا کہ وہ مجرموں میں سے ایک، اے جی پیراری ویلن، کی رحم کی درخواست پر جو مناسب سمجھیں، فیصلہ کریں۔ اس کے بعد ریاستی حکومت نے سبھی ملزمان کی رہائی کی سفارش کرنے کا فیصلہ کیا کیونکہ ان کی رحم کی درخواستیں بھی زیر التوا تھیں۔

عام طور پر مانا جاتا ہے کہ گورنر کے لیے ریاستی حکومت کی سفارشات پر عمل کرنا لازمی ہے لیکن ان لوگوں کو رہا کرنے کی کوشش چار سال پہلے بھی کی گئی تھی جب جیا للیتا ریاست کی وزیراعلیٰ تھیں۔

اس وقت سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ ریاستی حکومت یک طرفہ طور پر یہ فیصلہ نہیں کرسکتی اور اسے وفاقی حکومت کی منظوری بھی لینی ہوگی۔ (سپریم کورٹ نے باقی تین کی موت کی سزا کو بھی عمر قید میں تبدیل کردیا تھا کیونکہ نہ تو ان کی سزا پر عمل کیا گیا تھا اور نہ ہی ان کی رحم کی درخواستوں پر کوئی فیصلہ۔)

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption تمل ناڈو میں راجیو گاندھی کے قاتلوں کی رہائی کا انتظار شروع ہوگیا ہے

لیکن وفاقی حکومت نے مجرموں کی رہائی کی مخالفت کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس سے ایک خطرناک نظیر پیدا ہوگی۔

سنہ 2014 میں تنازع قانون کی تشریح پر تھا، اور سوال یہ تھا کہ کیا ریاستی حکومت کو قیدیوں کی رہائی کے لیے وفاقی حکومت سے صرف مشورہ کرنے کی ضرورت ہے یا اس کی منظوری چاہیے۔

لیکن گذشتہ ہفتے جو کچھ سپریم کورٹ نے کہا اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا رہا ہے کہ اب عدالت کا موقف یہ ہے کہ گورنر خود بھی یہ فیصلہ کرسکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق گذشتہ تین چار برسوں میں ایسی کئی نظیریں سامنے آئی ہیں جن میں ریاستی حکومتوں نے مجرموں کی سزا معاف کرنے کا فیصلہ کیا ہے حالانکہ (اس کیس کی طرح) ان کے جرائم کی تفتیش بھی وفاقی ایجنسیوں نے ہی کی تھی۔

لیکن سوال یہ ہے کہ کیا وہ ایسا کریں گے، یا مشورے کے لیے صدر جمہوریہ یا وزارت داخلہ سے رجوع کریں گے؟ اور کیا سپریم کورٹ کی ہدایت پر انہیں کسی مخصوص مدت کے اندر فیصلہ کرنا ہوگا؟

گورنر کی تقرری وفاقی حکومت کرتی ہے، اس لیے کیا وہ وفاقی حکومت سے مشورہ کیے بغیر اتنا بڑا فیصلہ کرسکتے ہیں، یا یہ معلوم ہوتے ہوئے کہ وفاقی حکومت ان لوگوں کی رہائی کے حق میں نہیں ہے، کیا وہ یہ متنازع فیصلہ کرنا چاہیں گے؟

صورتحال ابھی گنجلک ہے اور ایک دو دن میں ہی واضح ہوگی، لیکن تمل ناڈو میں راجیو گاندھی کے قاتلوں کی رہائی کا انتظار شروع ہوگیا ہے۔

وہ رہا ہوتے ہیں تو اس خبر کی گونج دنیا میں سنائی دے گی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں