انڈیا کی امریتھا، جن کے شوہر نچلی ذات سے تعلق کی بنا پر قتل کر دیے گئے

'میں نویں جماعت میں تھی اور وہ دسویں جماعت میں تھا۔ ہم ہمیشہ سے ایک دوسرے کو پسند کرتے تھے۔ ہم فون پر بہت بات کرتے تھے' تصویر کے کاپی رائٹ AMRUTHA.PRANAY.3/FACEBOOK
Image caption 'میں نویں جماعت میں تھی اور وہ دسویں جماعت میں تھا۔ ہم ہمیشہ سے ایک دوسرے کو پسند کرتے تھے۔ ہم فون پر بہت بات کرتے تھے۔'

’پرآنے نے میرا خیال ایسے رکھا جیسے ایک ماں رکھتی ہے۔ وہ مجھے کھانا کھلاتا تھا، نہلاتا تھا، میرے لیے کھانا پکاتا تھا۔ وہ میری زندگی کا حصہ تھا۔‘

یہ الفاظ 21 سالہ امریتھا وارشنی کے اپنے آنجہانی شوہر کے بارے میں کہے۔

آج اُس واقعے کو چار روز ہو گئے ہیں۔ 24 سالہ پرآنے پیروملا کو اس وقت قتل کر دیا گیا جب وہ اور ان کی بیوی امریتھا تیلانگا میں ایک ہسپتال سے باہر آ رہے تھے۔

مبینہ طور پر پرآنے کو کرائے کے قاتلوں نے مارا اور یہ انھوں نے لڑکی کے خاندان کے کہنے پر کیا کیونکہ پرآنے کا تعلق نچلی ذات سے تھا۔

مقامی پولیس نے امریتھا کے والد اور ان کے قریبی ساتھیوں کو قتل اور قتل کی سازش کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔

پولیس کا خیال ہے کہ اس قتل کے لیے ایک کروڑ روپے کا سودا ہوا تھا اور اس میں کانگریس پارٹی کا ایک مقامی سیاستدان بھی ملوث تھا۔

پولیس کی ابتدائی تفتیش سے معلوم ہوا ہے کہ اس قتل کی پہلی کوشش 14 اگست کو کی گئی تھی، پھر دوسری کوشش ستمبر کے پہلے ہفتے میں اور آخرکار ستمبر کو حملہ آور پرآنے کو قتل کرنے میں کامیاب رہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ تفتیش کے دوران امریتھا کے والد نے کہا کہ ’پرآنے نچلی ذات سے تعلق رکھتا تھا، اس کے پاس اچھی تعلیم نہیں تھی۔‘

یہ بھی پڑھیے

انڈیا: غیرت کے نام پر قتل، باپ سمیت چھ افراد کو سزائے موت

عزت یا غیرت ہے کیا؟

’غیرت‘ کے نام پر قتل اور میڈیا

غیرت کے نام پر قتل یا خودکشیاں ؟

ہماری ساتھی دپتی باتھینی نے امریتھا سے ان کے سسرال کے گھر پر ملاقات کی تو معلوم ہوا کہ امریتھا امید سے ہیں۔ امریتھا بتاتی ہیں کہ وہ اور پرآنے بچپن سے ہی ایک دوسرے کی محبت میں مبتلا تھے۔

اپنے بچپن کی محبت کے بارے میں بات کرتے ہوئے امریتھا ایک طرف تو کھل اٹھتی ہیں، اور دوسرے ہی لمحے غم سے نڈھال ہو جاتی ہیں۔

وہ بتاتی ہیں کہ پرآنے سکول میں ان کے سینیئر تھے۔ ’میں نویں جماعت میں تھی اور وہ دسویں جماعت میں تھا۔ ہم ہمیشہ سے ایک دوسرے کو پسند کرتے تھے۔ ہم فون پر بہت بات کرتے تھے۔‘

اپنے متوقع بچے کے بارے میں بات کرتے ہوئے وہ کہتی ہیں کہ وہ ان کے پیار کی نشانی ہو گا۔ ’میں خوش ہوں کہ کم از کم میرے پاس میرا بچہ تو ہو گا۔ یہ بچہ پرآنے کو ہمیشہ میرے قریب رکھے گا۔‘

ان دونوں کی کہانی نوجوانوں کی عمومی کہانی ہے۔ ملاقات اور پھر محبت، دھمکیاں، جسمانی تشدد، فرار، پھر کہیں جا کر وہ شادی کر سکے۔

Image caption ’پرآنے کا کہنا تھا کہ پیار کرنے والوں کو ذات کے مسائل کا سامنا نہیں ہونا چاہیے‘

امریتھا بتاتی ہیں کہ ’یہ ایک چھوٹا قصبہ ہے۔ ظاہر ہے کہ میرے والدین کو اس کے بارے میں پتہ چل گیا۔ انھوں نے دھمکیاں دیں پر میں نہیں رکی۔ مجھے اس کی ذات پات یا پیسے سے کوئی مطلب نہیں تھا۔‘

ان دونوں نے سب سے پہلے اپریل 2016 میں شادی کی مگر اس کا اندراج نہیں کروایا۔ اس وقت امریتھا انجنیئرنگ کے دوسرے سال میں تھیں۔ اس موقعے پر ان کے والدین نے انھیں ایک کمرے میں بند کر دیا۔

’میرے چچا نے پرآنے کو دھمکیاں دیں۔ انھوں نے مجھے بھی مارا پیٹا۔ اور یہ سب میرے 20 قریبی رشتے داروں اور ماں سے سامنے ہو رہا تھا۔ ان میں سے کوئی مجھے بچانے نہیں آیا۔

’بچپن میں بھی میری والدہ میری حوصلہ شکنی کرتی تھیں کہ میں دیگر ذاتوں کی سہیلیاں نہ بناؤں۔ کمرے میں قید کے دوران مجھے اچار اور چاول کھانے کو دیے جاتے تھے۔ میرا چاچا مجھے مارتا تھا تاکہ میں پرآنے کو بھول جاؤں۔ میری تعلیم رکوا دی گئی۔ میں پرآنے سے بات نہیں کر سکتی تھی اور میری واحد امید اس کا پیار تھا۔‘

پھر انھوں نے جنوری 2018 میں آریا سماج میں جا کر پرانے سے دوبارہ شادی کر لی۔

’مجھے صحت کے مسائل ہوتے تھے تو میں ہسپتال میں کبھی کسی ڈاکٹر تو کبھی کسی سٹاف والے سے فون لے کر پرآنے سے بات کر لیتی تھی۔ وہ چند لمحے ہی تھے جن کے سہارے ہم نے وقت گزارا۔ ہم نے آریا سماج مندر میں دوبارہ شادی کا فیصلہ اس لیے کیا تاکہ ہمارے پاس قانونی دستاویزات ہوں۔‘

Image caption دلت ذات اور خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیمیں پرآنے کے گھر آئی ہیں اور یکجہتی کا اظہار کیا ہے

ادھر پرآنے کے خاندان کو شادی کی خبر نہیں تھی۔ شادی کے فوراً بعد یہ جوڑا حیدرآباد منتقل ہو گیا۔

’مگر حیدرآباد بھی میرے باپ نے غنڈے بھیج دیے تو ہم واپس آ کر پرآنے کے گھر والوں کے ساتھ رہنے لگے کیونکہ ہم نے سوچا گھر والوں کا ساتھ ہونا زیادہ محفوظ ہو گا۔ ہمارے بیرونِ ملک جا کر تعلیم کے پلان تھے جب ہمیں پتہ چلا کہ میں ماں بننے والی ہوں۔‘

’ہم نے فیصلہ کیا کہ بچے کی پیدائش تک یہاں رہیں اور ساتھ ساتھ کینیڈا کی امیگریشن کا عمل بھی شروع کر دیا۔‘

امریتھا کہتی ہیں کہ بچے کی خبر نے انھیں امید اور خوشی دی تھی۔ پرآنے نے بھی اپنے خاندان کو سمجھایا کہ بچے سے ان کا رشتہ اور مضبوط ہو گا۔

مگر امریتھا کے والدین انھیں بچہ گرانے کے لیے کہتے رہے۔ وہ کہتی ہیں کہ مجپے معلوم تھا کہ میرا باپ خطرناک ہے مگر وہ اس قدر گر جائے گا یہ میں نے نہیں سوچا تھا۔

امریتھا اس دن کے بارے میں بتاتی ہیں کہ وہ اور ان کے شوہر ہسپتال گئے تھے اور یہ سوچ رہے تھے کہ ان کی کمر کے درد کا کیا کیا جائے۔ ان کے والد نے اس وقت فون کر کے بچہ گرانے کے بارے میں پوچھا مگر ڈاکٹر نے یہ کہہ کر فون رکھ دیا کہ ہم وہاں ہیں ہی نہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ’ہم باتیں کرتے نکل رہے تھے، میں نے پرآنے سے کچھ پوچھا اور ایک دم اس کا جواب نہیں آیا۔ میں نے مڑ کر دیکھا تو وہ زمین پر تھا اور ایک شخص اس کا گلہ کاٹ کر رہا تھا۔

’میری ساس نے قاتل کو ہٹانے کی کوشش کی اور میں ہسپتال میں مدد کے لیے بھاگی۔ میں نے اپنے باپ کو فون کیا تو وہ کہنے لگے میں کیا کروں اسے ہسپتال لے جاؤ۔‘

Image caption ’میرے چچا نے پرآنے کو دھمکیاں دیں۔ انھوں نے مجھے بھی مارا پیٹا، اور یہ سب میرے 20 قریبی رشتے داروں اور ماں سے سامنے ہو رہا تھا۔ ان میں سے کوئی مجھے بچانے نہیں آیا'

’کچھ دن قبل میرے باپ کی ایک چھوٹی سی سرجری ہوئی۔ میری ماں اور خاندان والوں نے کہا کہ میں ان سے ملنے جاؤں پر میں نے جھوٹ بول دیا کہ ہم بنگلور جا رہے ہیں۔ اس دن ہمارے گھر ایک آدمی آیا اور باہر کھڑی ایک گاڑی کے بارے میں پوچھا۔ اس کا بولنے کا انداز انتہائی مخصوص تھا۔ میرا خیال ہے کہ یہ وہی آدمی ہے جس نے ہسپتال پر پرآنے کو مارا۔ اسی لیے مجھے یقین ہے کہ میرے باپ کا پرآنے کو مارنے کا پلان کافی دن کا تھا۔

’مجھے ابھی تک اپنے خاندان میں سے کسی کا فون نہیں آیا۔ میری ماں کال کیا کرتی تھی۔ مگر اب مجھے لگتا ہے کہ وہ میرے باپ کو معلومات دیتی تھی۔ میں ان کے پاس کبھی نہیں جاؤں گی۔ اب پرآنے کے والدین میرے والدین ہیں۔‘

دلت ذات اور خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیمیں ان کے گھر آئی ہیں اور امریتھا سے یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔

امریتھا خوش ہیں کہ انھیں مدد مل رہی ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ وہ ذات پات سے پاک معامشرہ بنانا چاہتی ہیں۔

’پرآنے کا کہنا تھا کہ پیار کرنے والوں کو ذات کے مسائل کا سامنا نہیں ہونا چاہیے۔ ہم نے اس کی وجہ سے بہت مسائل جھیلے ہیں۔ میں انصاف کے لیے لڑوں گی۔ میں پرآنے کا مجسمہ اس قصبے کے وسط میں کھڑا کروانا چاہتی ہوں۔‘

اسی بارے میں