کشمیر کا وہ یتیم بچہ

کشمیر تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کشمیر میں یتیم ہونے والوں بچوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے بارے میں لوگوں کو یہ تو معلوم ہے کہ وہاں 30 برس سے جاری شورش میں ہزاروں لوگ مارے گئے ہیں لیکن کشمیر سے باہر کم لوگوں کو یہ پتہ ہے کہ ان ہلاکتوں سے ہزاروں بچے یتیم بھی ہوئے ہیں۔

شورش زدہ ریاست میں ایسےہزاروں بچے مختلف یتیم خانوں میں پرورش پا رہے ہیں۔

ان کی تعداد کے بارے میں ریاست میں نہ تو حکومت کے پاس کوئی صحیح اعداد و شمار ہیں اور نہ ہی غیر سرکاری تنظیموں اور حقوق انسانی کے لیے کام کرنے والوں کے پاس اس کی تفصیلات ہیں۔ مختلف ادارے الگ الگ تعداد بتاتے ہیں۔

صرف اتنا کہا جا سکتا ہے کہ وادی میں یہ تعداد ہزاروں میں ہے۔

چند سال قبل میں نے ان یتیم بچوں پر ایک رپورٹ کی تھی۔ یہ ایسے بچوں کی روداد تھی جو شورش کا شکار ہوئے تھے۔

رپورٹ کے دوران سب سے نمایاں پہلو یہ سامنے آیا کہ ٹکراؤ، مادیت اور بے حسی کے اس دور میں بھی کشمیریوں میں مدد اور انسانیت کا جزبہ غیر معمولی اور لازوال ہے۔

بہت سے ایسے بے لوث لوگ ملے جنھوں نے اپنی پوری زندگی، اپنی ساری توانائی اور اپنے وسائل ان بچوں کی پرورش، تعلیم اور بہبود کے لیے وقف کر دیے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

کشمیر: ہر خاندان کی اپنے پیارے کو کھو دینے کی کہانی

’جہاں آنکھوں کے سامنے والدین مارے گئے‘

'ایوب پنڈت کو ہندو سمجھ کر نہیں مارا گیا'

’کشمیر میں تشدد نے نوجوانوں کو نڈر کر دیا ہے‘

شورش زدہ وادی کا ہر یتیم بچہ اپنے آپ میں درد اور کرب کی ایک داستان ہے۔ میری ملاقات زیادہ تر کم عمر بچوں سے ہوئی تھی۔ ان کی معصوم اور نرم آوازیں ان کی آپ بیتیوں کو اور بھی المناک بنا دیتی تھیں۔ باپ کے کھونے اور ان سے وابستہ واقعات کا ان بچوں کے ذہن پر گہرا اثر تھا۔

سری نگر کے ایک ادارے میں مجھے آٹھ نو برس کے ایک بچے نے بتایا کہ اس کے والد بارڈر سکیورٹی فورس میں ملازم تھے۔

وہ ان دنوں انڈیا کی کسی شمال مشرقی ریاست میں ڈیوٹی پر مامور تھے۔ عید کی چھٹیوں میں وہ گھر آئے تھے۔ رات میں کچھ نامعلوم لوگ گھر آئے اور اس کے والد کو لے کر چلے گئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کشمیر کے یتیم بچوں کے لیے بہت سے خیراتی اداراے اور مخیر افراد کام کر رہے ہیں

صبح کو گھر سے کچھ دوری پرگولیوں سے چھلنی ان کی لاش ملی تھی۔ کشمیر کی وہ بے شمار آوازیں جو اکثر تعاقب کرتی ہیں ان میں یہ ننھی آواز بھی ذہن و دماغ میں اکثر ارتعاش پیدا کرتی ہے۔

وادی میں بہت سے لوگ دوسری ملازمتوں کی طرح روزی روٹی کے لیے سکیورٹی فورسز اور پولیس فورسز بھی جوائن کرتے ہیں۔

ان اداروں کی جو ذمے داریاں اور فرائض ہوتے ہیں وہ انھیں ایمانداری کے ساتھ ادا کرنی ہوتی ہیں۔ پچھلے دنوں شوپیان میں تین پولیس اہلکاروں کو ا‏غوا کر کے انھیں قتل کر دیا گیا۔

عسکریت پسندوں نے کمشیریوں کو وارننگ دے رکھی ہے کہ وہ پولیس اور فوج کی نوکری سے مستعفی ہو جائیں۔

یہ کشمیر کی طویل خونریز شورش کا ایک نیا محاذ ہے۔ وادی میں تشدد کے کئی زاویے ہیں اور ہر زاویے کا انجام انسانی المیے پر ہوتا ہے۔

پاکستان سے بات چیت منقطع ہونے کے بعد کشمیر کا مسئلہ کئی برس سے معلق ہے۔ حکومت اور علیدگی پسندوں نے بات چیت کے کئی بہترین مواقع کھوئے ہیں۔

بات چیت کے سارے راستے بند ہونے سے کشمیری علیحدگی پسند قیادت نہ صرف پس منظر میں چلی گئی ہے بلکہ ان کی ساکھ بھی مجروح ہوئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

بے بسی اور ایک مستند قیادت کی خلا نے ایک نئی مایوسی اور نفرت کو جنم دیا ہے۔ نئی نسل سے مستقبل کے سارے خواب لے لیے گئے ہیں اور انھیں گہری مایوسی کے دلدل میں دھکیل دیا گیا ہے۔

عسکریت پسندی اب کسی مقصد کے حصول سے زیادہ نوجوانوں کی گہری مایوسی اور بے بسی کا غماز نظر آتی ہے۔ موت پر اب ماتم نہیں ہوتا۔

کشمیر کی طویل شورش کا اختتام جبر اورتشدد سے نہیں مذاکرات سے ہی ہونا ہے۔ کشمیر کے مسئلے کا سب سے بڑا المیہ یہی ہے کہ ہر فریق اسے طاقت اور تشدد سے حل کرنا چاہتا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں