انڈیا کی سپریم کورٹ نے ’ایڈلٹری‘ کو جرم کے دائرے سے خارج کر دیا

انڈیا تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption انڈیا میں دو غیر شادی شدہ بالغ اگر جنسی تعلقات قائم کرتے ہیں تو یہ پہلے سے ہی جرم نہیں ہے

انڈیا کی سپریم کورٹ نے ملک میں ’ایڈلٹری‘ یا شادی شدہ افراد کے اپنے ساتھی کے علاوہ کسی دوسرے فرد سے جنسی تعلق رکھنے کے عمل کو جرم کے دائرے سے خارج کر دیا ہے۔

عدالت عظمیٰ کے پانچ رکنی بنچ نے جمعرات کو اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ دستور ہند کی 158 سال قدیم دفعہ 497، جس کے تحت کسی شادی شدہ عورت کے ساتھ اس کے شوہر کی مرضی کے بغیر کسی مرد کے جنسی تعلقات کو جرم مانا جاتا تھا آئین کے منافی ہے۔

اس قانون کے تحت سزا صرف مرد کو ہی دی جا سکتی تھی اور عورتوں کے خلاف مقدمہ قائم کرنے کی گنجائش نہیں تھی۔

درخواست گزار نے قانون کو امتیازی اور صوابدیدی قرار دیتے ہوئے چیلنج کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

ایڈلٹری جرم نہیں، ٹوئیٹر پر خوشی

انڈیا میں زنا کا پیچیدہ قانون، اصل مجرم ہے کون؟

انڈیا میں ہم جنس پرستوں کے لیے نئی امید

انڈیا میں نابالغ بیوی سے سیکس جرم کیوں؟

نامہ نگار سہیل حلیم نے بتایا کہ اب دو بالغوں کے درمیان جنسی تعلق، بشرطیکہ اس میں دونوں کی مرضی شامل ہو، جرم نہیں مانا جائے گا چاہے وہ دونوں شادی شدہ ہی کیوں نہ ہوں لیکن پہلے کی طرح طلاق حاصل کرنے کے لیے ایڈلٹری کو بنیاد بنایا جا سکے گا۔

خیال رہے کہ انڈیا میں دو غیر شادی شدہ بالغ اگر جنسی تعلقات قائم کرتے ہیں تو یہ پہلے سے ہی جرم نہیں ہے اور حال ہی میں سپریم کورٹ نے ہم جنس پرستی کو بھی جرم کے زمرے سے نکال دیا ہے۔

سپریم کورٹ کے پانچ رکن بینچ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ عورت کو مرد کی ملکیت نہیں مانا جاسکتا اور آج کے دور میں اس طرح کے فرسودہ قانون کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔

چیف جسٹس دیپک مشرا کی سربراہی میں پانچ رکنی بنچ نے کہا کہ یہ قانون دستور کے آرٹیکل 14 اور 21 کے منافی ہے جو زندگی، آزادی اور مساوات کے حق کی ضمانت دیتے ہیں۔

Image caption ایڈلٹری کے قانون کے تحت سزا صرف مرد کو ہی دی جا سکتی تھی اور عورتوں کے خلاف مقدمہ قائم کرنے کی گنجائش نہیں تھی

متنازع شق کیا تھی؟

حذف کی جانے والی شق میں کہا گیا ہے اس کے مطابق 'اگر کوئی بھی (شخص) کسی ایسی عورت سے جنسی تعلقات قائم کرتا ہے، جس کے بارے میں اسے معلوم ہو کہ وہ کسی اور کی بیوی ہے، یا اس کا یہ خیال ہو کہ وہ کسی اور کی بیوی ہے، اور اس (جنسی) عمل میں اس کے شوہر کی مرضی یا معاونت شامل نہ ہو، اور اگر یہ عمل ریپ کے زمرے میں نہ آتا ہو، تو پھر وہ شخص زنا کے جرم کا مرتکب ہے اور اسے یا تو زیادہ سے زیادہ پانچ سال قید یا جرمانے یا دونوں کی سزا سنائی جاسکتی ہے۔ لیکن بیوی کسی جرم کی مرتکب نہیں ہوگی۔‘

بحث اس سوال پر تھی کہ کیا شادی کے بعد بیوی شوہر کی املاک یا جاگیر بن جاتی ہے؟ اور اگر شادی شدہ عورت سے زنا جرم ہے، تو سزا صرف مرد کو ہی کیوں ملے، دونوں کو کیوں نہیں؟

لیکن عدالت نے کہا کہ عورت اور مرد کے درمیان کوئی تفریق نہیں کی جاسکتی اور دونوں کو برابر کے حقوق حاصل ہیں۔

بنچ میں شامل واحد خاتون جج جسٹس اندو ملہوترا نے کہا کہ زنا اخلاقی طور پر غلط ہے لیکن جسٹس چندرچور نے کہا کہ شادی کے بعد مرد اور عورت اپنی ’جنسی خود مختاری‘ ایک دوسرے کے پاس گروی نہیں رکھ دیتے۔

مقدمے کی سماعت کے دوران حکومت کا موقف تھا کہ اگر زنا کی اجازت دے دی جاتی ہے تو اس سے ’ہندوستانی اقدار اور شادی کی پاکیزگی‘ کو زک پہنچے گی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں